counter easy hit

پاکستانی ادارہ این آر ٹی سی روبوٹس پر کیا کام کر رہا ہے؟

نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر سی ٹی) وزارت دفاع کی پیداواری تنظیم اور الیکٹرانک کی صنعت ہے، جو 1966 سے جدید ترین دفاعی آلات تیار کر رہی ہے۔ این آر ٹی سی کی بنیاد رکھنے کی وجہ 1965 کی جنگ بنی تاکہ پاکستان کو تکنیکی اعتبار سے خود مختار بنایا جا سکے۔

ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد عاصم نے میڈیا کو بتایا کہ ’این آر ٹی سی گذشتہ 58 برس سے پاکستان کی مسلح افواج کی متنوع تکنیکی ضروریات پوری کر رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس ادارے کی ضرورت 1965 کی جنگ کے بعد محسوس ہوئی جب پاکستان پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ ’اکتوبر 1965 میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو دفاعی ٹیکنالوجی میں خود مختار کرنا ہے۔‘
بریگیڈیئر محمد عاصم کے مطابق: ’این آر ٹی سی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف بین الاقوامی کلائنٹس سمیت سرکاری اور نجی شعبوں کو معاونت فراہم کرتی ہے۔‘

جنوری 2020 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن، ہری پور میں الیکٹرانک وارفیئر اور گراؤنڈ سرویلنس ریڈار ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا افتتاح کیا تھا۔ این آر ٹی سی ایک ہائی ٹیک صنعتی ادارہ ہے، جس میں انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی، دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے، روبوٹس کی تیاری، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر اور داخلی سکیورٹی، محفوظ اور سمارٹ وائرلیس، الیکٹرانک وار فیئر، الیکٹرو میڈیکل اور گاڑیوں کے لیے ریڈیو فریکیونسی سے شناخت ہونے والی نمبر پلیٹس بنائی جاتی ہیں۔

Production Department NRTC

افواج پاکستان کے ساتھ بینکوں اور ہسپتالوں کو بھی آلات کی فراہمی

اس ادارے میں نہ صرف مسلح افواج کے لیے الیکٹرانک وار فیئر آلات تیار کیے جاتے ہیں بلکہ نجی اور سرکاری شعبے کے لیے عالمی معیار کی انفارمیشن اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک آلات کی تیاری بھی کی جاتی ہے۔

کرونا کی وبا کے دوران 2020 میں این آر ٹی سی نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز بھی تیار کر کے این ڈی ایم اے کے حوالے کیے تھے۔ اس وقت وزارت ٹیکنالوجی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان میں وینٹی لیٹر بنانے والا پہلا ادارہ بن گیا۔ سیف وینٹ ایس پی 100 کے نام سے پورٹیبل وینٹی لیٹر تیار ہو رہے ہیں، جو سستے، معیاری اور عالمی اداروں سے منظور شدہ ہیں۔‘ این آر ٹی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد عاصم نے بتایا کہ ’نیشنل بینک، نادرا اور وزارت داخلہ کے دیگر اداروں میں بھی ٹیکنالوجی کے آلات کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اب مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر لیپ ٹاپ بھی بنائے جا رہے ہیں۔‘

مقامی سطح پر 140 سے زائد آلات کی تیاری

این آر ٹی سی کے بزنس ڈیولپمنٹ مینیجر حسن خان نے  کہا کہ ادارے میں دو ہزار سے زائد ماہرین کام کرتے ہیں اور 58 سالوں میں 140 سے زائد تکنیکی آلات یہاں بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’این آر ٹی سی میں مشینی خام مال درآمد کیا جاتا ہے لیکن آلات کا ڈیزائن یہاں بنایا جاتا ہے، اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ صرف پرزے منگوائے جاتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ مکنیکل کام این آر ٹی سی میں کیا جاتا ہے۔ ان پرزوں سے مختلف تکنیکی اور دفاعی آلات بنائے جاتے ہیں۔‘ حسن خان نے مزید بتایا کہ ’سرحدی علاقوں میں استعمال ہونے والے وائرلیس میں خاص کوڈنگ سسٹم کی وجہ سے سرحد پار سے کوئی دوسرا ملک اس وائرلیس پر ہونے والی گفتگو نہیں سن سکتا۔ افواج پاکستان کے لیے بنائے جانے وائرلیس کو رابطوں کا تحفظ حاصل ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’این آر ٹی سی نے خاص نوعیت کے دفاعی ریڈار سسٹم بنائے ہیں، جو تین کلومیٹر انسانی موجودگی جبکہ چھ کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی گاڑی کی نشاندہی کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ زیر زمین بارودی مواد کو ڈرون کے ذریعے ڈھونڈ کر تباہ کرنے کی ٹیکنالوجی بھی بنائی گئی ہے۔‘

این آر ٹی سی میں دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے روبوٹس بھی تیار کیے جا رہے ہیں

سیف سٹی کیمروں کی مقامی سطح پر تیاری

حسن خان نے مزید بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مقامی سح پر تیاری اور دیکھ بھال کا کام بھی یہ ادارہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’ابتدائی طور پر اسلام آباد اور لاہور میں سیف سٹی کے کیمرے ہواوے کمپنی سے خریدے گئے تھے لیکن اب مقامی سطح پر نہ صرف کیمرے تیار ہوں گے بلکہ پہلے سے لگائے گئے ہواوے کیمروں کی مینٹی نینس بھی این آر ٹی سی کرے گا۔‘ انہوں نے مزید بتایا: ’سیف سٹی کے کیمرے اب پنجاب کے 18 شہروں، کراچی، پشاور، گوادر، گلگت بلتستان اور مظفر آباد کے لیے مہیا کیے جائیں گے۔‘ اسی طرح حسن خان کے مطابق: ’سی پیک کے تمام روٹس پر استعمال ہونے والے جیمرز اور سکیورٹی آلات بھی این آر ٹی سی مہیا کرے گا۔‘

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website