yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    بین الاقوامی خبریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    • اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

قیام پاکستان اور خواب

Yes 1 Webmaster February 14, 2015 1 min read
Rohail Akbar
Share this:
Zulfiqar Mirza
Zulfiqar Mirza

تحریر۔روہیل اکبر

پیپلز پارٹی کے ناراض جیالے اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کچھ عرصہ قبل بھی اسی طرح متحرک ہوئے تھے جس طرح آجکل وہ اپنے دوستوں کی نیند حرام کرنے لگے ہوئے ہیں انکے مخالفین انہیں مختلف نام بھی دے رہے ہیں مگر اس سے قطع نظر کہ انکے خلاف کون کیا کہہ رہا ہے میں تو ذاتی طور پر ذوالفقار مرزا کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ پہلے بھی کھل کر سامنے آئے تھے اور اب بھی وہ کھل کر سب کو ننگا کررہا ہے کہ کون کس کا مالشیا رہا ہے اور کون کس کے ٹوائلٹ صاف کرتا رہا ہے

ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ہم کراچی میں دہشت گردوں کو پکڑتے تھے اور سابق صدر زرداری کے چہتے رحمن ملک سندھ حکومت سے ان دہشت گردوں کو رہا کروا لیتے تھے ذوالفقار مرز واقعی ایک بہادر اور نڈر انسان ہیں جنہوں نے پہلے بھی کھل کر باتیں کی اور اب بھی تلخ حقیقتوں پر سے پردے اٹھا رہے ہیں ہمارے سیاستدان نہ پہلے ملک سے مخلص تھے اورنہ ہی آج ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان دن بدن اندھیروں میں ڈوب رہا ہے دہشت گردی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی کبھی سکول میں بچوں کو شہید کردیا جاتا ہے کبھی مزدوروں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے

تو کبھی نمازیوں کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے مجال ہے کہ آج تک کوئی حکمران ان دہشت گردوں کے ہاتھ لگا ہو بیچاری غریب عوام ہی ہر طرف مر رہی ہے ووٹ نہ دے تو بھی اگر ووٹ دیدے تو پھر بھی اگر جمہوریت چلی جائے یا جمہوریت بحال ہو جائے عام انسان کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک مالشیے اور ذاتی خدمتگار وزیر بنتے رہیں گے اس وقت تک ملک اور قوم کا سدھرنا نظر نہیں آرہا ۔لا زوال اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والاملک آج چند ہاتھوں کاکھلونا بن گیا ہے۔

آزادی اور پاکستان کے قیام کے وقت ہمارے بزرگوں نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ اب انگریزوں کی غلامی سے ہماری جان چھوٹ گئی ہے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ انگریزوں کی غلام کے بعد ہم انگریزوں کے غلام کے بھی غلام بن جائیں گے ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ملک چین آج دنیا کی سپر پاور بنتا جارہا ہے اور ہم یہاں پر گرمی کا موسم ہو تو بجلی کو تر ستے ہیں ،موسم سرما ہو تو شہری گیس کو تر ستے ہیں ٹیکس انتہائی غریب آدمی سے ماچش تک خریدنے پر وصول کر لیا جاتا ہے۔

ٹیکس کی مقررہ شرح کی مد میں کو ئی آئیں یا نہ ائیں اُ س سے موبائل کا کارڈ فیڈ کر تے وقت ہی ٹیکس کی کٹوتی کر لی جاتی ہیں۔لفظی خیر خواں حکمرانوں کواب پاکستان کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے،ہم سے پاکستان نہیں بلکہ پاکستان سے ہم ہیں۔ حکمرانوں کو چائیں کہ نظام بدلیں،صرف تقاریر اور نعروں سے قائد کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا ،آج شہریوں نے اپنے آزاد ملک میں گلی ،محلوں میں اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے چوکیدار رکھے ہو ئے ہیں۔ جبکہ دکانداروں ،فیکٹری مالکان نے سیکیورٹی گارڈز ۔سول ٹرانسپورٹروں نے راستہ میں ہو نے والی چوری ڈکیتیوں کی وارداتوں سے محفوظ رہنے کے لئے گن مین رکھیں ہیں۔

اتنے ٹیکس اداکر نے کے باوجود شہریوں کے جان و مال محفوظ نہیں ہیں۔حکمرانوں کو چائیے کہ غیروں پر بھروسہ اور اُنکی باتوں پر عمل کر نا چھوڑ دیں۔اور اپنے ملک پاکستان کو ایک مثالی ملک بنانے کے لئے خود فیصلے کریں، ہمسائیہ ملک چین ہمارے ملک کے آزاد ہو نے کے کافی عرصہ کے بعد آزاد ہو ا۔آج اُس کی پراڈیکٹ پوری دنیا میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہو گئی ہیں،بنگلہ دیش ہم سے جدا ہوا آج وہ تر قی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے ۔خون کی ہو لی آئے دن پاکستان کا مقدر ہی کیوں ؟حکمرانوں کو اپنی پالیساں بدلنے کی ضرورت ہیں۔لاکھوں شہری بے روزگاری کا طوق گلے میں ڈالیں در بدر بھٹک رہے ہیں سب جانتے ہیں کہ دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے

جس میں تمام تر قدرتی وسائل وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔نمک ،کوئلہ ،سوئی گیس کے ذخائر پاکستان کی سر زمین میں بے تحاشا ہیں،دنیا کے تمام ممالک جانتے ہیں کہ اگر پاکستان اپنے ذخائر سے استفادہ حاصل کرے تو کئی خوشحال ملک پاکستان سے خوشیاں اُدھار مانگیں گئے جو کہ کئی ممالک کو ناپسند گزرے گا ،مگر اب بھی وقت ہے اگر حکمرانوں نے کچھ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہم کو بد دعائیں دیں گی۔

لہذا حکمرانوں کو وقت کو غنیمت جانتے ہو ئے ملکی حالات کے متعلق بہتر سوچ رکھنا ہو گی اور ملک میں امن اور ترقی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو روندنا ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام کے تحت سینیٹ انتخابات کے انعقاد کا مطلب دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے والوں کی اکثریت میں مزید اضافہ کرنا ہے جو یقیناًملک و قوم کے ساتھ مذاق‘ زیادتی ‘ نا انصافی اور اس کے مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے سینیٹ کی حیثیت ملکی سلامتی ‘ تعمیروترقی اور قومی پالیسیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی کو ماہرانہ رائے پیش کرنا ہے

تاکہ اسمبلی کے فیصلے قومی و عوامی مفاد کے تابع ہوں اور ان کے ثمرات سے قوم کا ہرفرد فیضیاب ہوسکے اسلئے اسمبلی میں موجود جماعتوں کو سینیٹ کی نشستوں کا کوٹہ پیش کرکے عوام کا استحصال کرنے کی بجائے صنعتکاروں ‘تاجروں ‘ مزدوروں ‘ طالبعلموں ‘ خواتین ‘ مذہبی اسکالروں ‘ صحافیوں ‘ وکلأ ‘ قانون دانوں اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کی رجسٹرڈ تنظیموں سے مساوی نمائندگی لیکر سینیٹ کی تشکیل کی جائے جس میں ہر صوبے کی نمائندگی کا مساوی ہونا بھی لازم ہے چھوٹے اور بڑے صوبے کے نام پر ہونے والے عوامی استحصال کی روایت کا خاتمہ بھی ہو اور سینیٹ کی ماہرانہ رائے کے تحت قومی اسمبلی کے فیصلوں سے ملک و قوم امن ‘ اخوت ‘ ترقی ‘ خوشحالی اور خود مختاری کے حقیقی کہکشاؤں کی جانب بڑھ سکیں ۔

Rohail Akbar
Rohail Akbar

تحریر۔روہیل اکبر

03004821200

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Valentine's Day
Previous Post پاکستان سمیت دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے آج منایا جا رہا ہے
Next Post سینیٹ الیکشن میں سیاسی گٹھ جوڑ
Elections

Related Posts

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

August 15, 2026
زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

August 15, 2026
What Happens to Melania Trump If President Dies?

اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟

July 18, 2026

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟

July 18, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.