counter easy hit

نئی تجارتی پالیسی

Trade Policy

Trade Policy

تحریر : سید توقیر حسین زیدی
پاکستان کے وزیر تجارت نے گذشتہ دنوں اگلے تین سالوں کیلئے تجارتی پالیسی کا اعلان کیا جس کا اب ایک رسمی کارروائی کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں ہے جس طرح سے مرکزی بینک ہر تین ماہ بعد ایک سہ ماہی رپورٹ جاری کر دیتا ہے یا حکومت ٹیکسٹائل پالیسی یا دیگر پالیسیوں کا اعلان کر دیتی ہے۔ حالانکہ کسی ملک کی بھی تجارتی پالیسی ہو’ ٹیکسٹائل کی پالیسی ہو یا انرجی کی پالیسیاں ہوں وہ اس ملک کی سمت کا تعین کر دیتی ہے اور اسی کو دیکھ کر ناصرف ملکی بلکہ بیرونی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کیلئے آتے ہیں مگر چونکہ ہمارے ہاں صرف زبانی جمع خرچ ہوتا ہے اور پالیسیوں کا اعلانات کی حد تک ہی چرچا ہو تا ہے اسی لئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چار سالوں میں پاکستان سے ساٹھ فیصد بیرونی سرمایہ کاری چلی گئی ہے۔

جس میں تقریباً نوے فیصد بینک اپنا سرمایہ سمیٹ کر اپنے ملک چلے گئے’ ایک بڑی آئل کمپنی اپنا سرمایہ لپیٹ کر اپنے ملک سدھار گئی اور دیگر کئی شعبوں میں بھی بیرونی سرمایہ کار ہمارے ملک سے اپنی سرمایہ کاری نکال کر لے گئے۔ مثال کے طور پر جولائی 2015ء سے مارچ 2016ء کے نو ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری کی آمد کا حجم 1616.3 ملین ڈالرز رہا ہے جوکہ جولائی 2014ء سے مارچ 2015ء کے نوماہ کی بیرونی سرمایہ کاری 2202.1 ملین ڈالرز سے 26.6 فیصد کم ہے۔ جبکہ اس وقت جوفوڈ ریسٹورنٹ’ ٹیلی کمیونیکیشن اور آٹو انجینئرنگ میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے وہ بھی ہمارے ملک کی کچھ خاص خدمت نہیں ہو رہی کیونکہ اسکی بنیاد میں ٹیکنالوجی نہیں ہے اور نہ ہی ان شعبوں میں پیداواری یونٹ لگ رہے ہیں۔ اسی لئے ان شعبوں میں بیرونی سرمایہ کار اگر سال میں ایک ہزار ڈالر لگاتے ہیں تو اس میں اپنے منافع کا اضافہ کرکے واپس اپنے ملک ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ ان زمینی حقائق کی موجودگی میں وفاقی وزیر تجارت نے نئی تجارتی پالیسی کے چار نکات کو بنیاد بنایا ہے جس میں آئندہ تین سال میں ملکی برآمدات پینتیس ارب ڈالرز کرنا ہے، ویلیو ایڈیشن پروڈکٹ یعنی تیار شدہ مصنوعات کی تیاری اور ان کی برآمد کیلئے مراعات دینی ہیں۔

Trade

Trade

نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانا ہے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا اس پالیسی کے اہم جز ہیں۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر واقعی ان چاروں نکات پر ان کی صحیح روح کے ساتھ عمل کیا جائے تو واقعی پاکستان اس خطہ کا ایک اہم تجارتی شراکت دار بن سکتا ہے پر ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ ہم نے اس سمت قدم اٹھا کر عالمی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یو ٹرن لے رکھا ہے۔ جیساکہ 2012ـ2015 کی تجارتی پالیسی میں برآمدات 95 ارب ڈالرز تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا مگر برآمدات بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ 2015ـ2016 کے مالیاتی سال میں ہماری برآمدات اٹھارہ ارب ڈالرز سے بھی کم ہوں گی۔

علاقائی تعاون کے حوالے سے 1964ء میں پاکستان’ ایران اور ترکی پر مشتمل ایک تنظیم RCD بنائی تھی اور امریکہ اور یورپ سے تجارت بڑھانے کی کوشش کی تھی اس وقت ہماری صنعتی گروتھ اٹھارہ فیصد تھی لیکن بعد کی حکومتوں کی مصلحتوں اور منافقتوں نے ہماری پالیسیوں کو عدم توازن کا شکار کر دیا اور اب ہم ناصرف معاشی طور پر بلکہ سماجی’ ثقافتی اور کھیلوں کے میدان میں بھی تنہا ہو گئے ہیں۔ مگر اس وقت بھی ہم اپنی مصلحتوں اور منافقتوں کو الگ کرکے اس ملک کے زمینی حقائق کیمطابق فیصلے کریں۔ وفاقی وزیر تجارت کے اعلان کردہ چار نکات کی بنیاد پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کریں تو اب بھی ترقی و بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ایران پر سے تجارتی پابندیاں ہٹنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں علاقائی تجارت میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

جس میں سب سے پہلے ہمیں پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے اور ایک بار پھر ریجنل کو آپریشن فار ڈویلپمنٹ (RCD) کی طرز پر پاکستان’ ترکی اور ایران کے تعاون کو فعال کریں گے تو یہ ایک بڑی اہم تجارتی پیشرفت ہو گی۔ دوسری طرف چین بہت بڑے حجم کے ساتھ پچپن ارب ڈالرز کی نئی سرمایہ کاری کیساتھ ہمارا شراکت دار بنا ہوا ہے جس کو اس وقت ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت کا مکمل تعاون حاصل ہے جبکہ اس میں بھارت اپنی مکارانہ سازشوں سے رخنے ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اگر ہم نے اپنی منزل کا تعین درست سمت رکھا تو تعمیر و ترقی کی راہوں میں آگے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جہاں تک برآمدات کو آئندہ تین سالوں میں پینتیس ارب ڈالرز تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے وہ اس سے پہلے جنوری 2014ء میں بھی اتفاق سے وزیراعظم نے خرم دستگیر خان کو وزیر تجارت مقرر کرتے ہوئے آئندہ دو سالوں میں برآمدات ڈبل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Khurram Dastagir Khan

Khurram Dastagir Khan

مگر برآمدات بڑھنے کے بجائے تقریباً چار ارب ڈالرز کم ہو چکی ہیں جس میں مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان کا کہنا کہ نئی تجارتی پالیسی کی بنیاد ٹیکنالوجی کے ساتھ پیداواری عمل ہے اس میں بھی المیہ یہ ہے کہ گذشتہ چالیس سالوں سے عملی طور پر اسکی مسلسل نفی کی جا رہی ہے اور ہر سال صرف اعلان کی حد تک اس کو رکھا جاتا ہے جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کی آٹو انجینئرنگ انڈسٹری کیلئے چالیس سال پہلے اسمبل پلانٹ لگائے گئے تھے جنہوں نے دس سال کے عرصے میں ٹیکنالوجی کے ساتھ پیداواری عمل شروع کرنا تھا مگراب تک کسی ایک کمپنی نے بھی ٹیکنالوجی کے ساتھ پیداوار شروع کرنے پر سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔

اسکے علاوہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق سالانہ پانچ کروڑ موبائل فونزدرآمد ہو رہے ہیں مگر ہم اب تک موبائل فون کا ایک کارخانہ بھی نہیں لگا پائے ہیں۔ جہاں تک حالیہ تجارتی پالیسی میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے اس کا چرچا تو گذشتہ بیس سالوں سے ہو ہی رہا ہے مگر عملی طور پر اس وقت ہم ٹیکسٹائل میں زیادہ خام مال برآمد کرنے والے ملک بن گئے ہیں جبکہ تیار شدہ مصنوعات جن میں بیڈ شیٹ’ تولیہ اور گارمنٹ کے شعبہ جات ہیں ان کی برآمد میں تیزی سے کمی آرہی ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ تجرباتی طور پر جو جی ایس پی پلس کی سہولت یورپی یونین کی جانب سے ملی ہے وہ کسی بھی وقت واپس ہو سکتی ہے۔ جہاں تک نئی منڈیوں کی تلاش اور ان تک رسائی کا تعلق ہے۔

اس موضوع پر میں گذشتہ آٹھ سال سے اپنے کئی کالموں میں ذکر کرتا رہا ہوں کہ یہ کوئی پراسرار مسئلہ نہیں ہے کہ حل نہ ہو سکے اس کیلئے صرف نیک نیتی چاہیے اور امریکہ و یورپ کے پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے ہمارے سفارت کار خصوصاً کمرشل قونصلر حضرات اپنے کام اور ذمہ داریوں کو نیک نیتی سے ادا کرتے ہوئے ان ملکوں کے تاجروں و صنعتکاروں سے رابطے کریں اور پاکستان سے تجارت و پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں اور دوسری طرف ہمارے ارباب اختیار امریکہ و یورپ کے ہم منصبوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اپنے ملک کے تاجروں و صنعتکاروں کو پاکستان نہ جانے کی ایڈوائس کا سلسلہ ختم کریں، ساتھ ساتھ پاکستان کے صحیح معنوں میں تاجروں و صنعتکاروں کو ان ملکوں کے ویزوں کے حصول میں آسانیاں پیدا کریں اور یورپ اور امریکہ کی منڈیوں تک ہمارے تاجروں و صنعتکاروں کی رسائی دلانے میں مدد کریں نا کہ ان ملکوں کے صرف ڈومورکے مطالبات کو مانا جائے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم ایشیائی ریاستوں اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنے تجارتی روابط بڑھاکر پاکستان کی مصنوعات کیلئے ایک بہت بڑی منڈی حاصل کر سکتے ہیں۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر حسین زیدی