counter easy hit

پنی قبر کو سرسبز و شاداب بنایں

Grave

Grave

تحریر : شاز ملک
اکثر یوں ہوتا ہے کے ہم زندہ انسان جب قبرستان کے قریب سے گزرتے تو کوشش ہوتی ہے کے جلد از جلد یہاں سے نظریں چرا کر گزر جاہیں یہ قبرستان وحشت کا گھر ہے عجیب بات یہ ہے کے ہم اس وقت اس بات کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں کے یہ مردے جو ان قبور میں دفن ہیں احاطہ قبرستان میں مدفون ہیں کبھی ہمارے جیسے جیتے جاگتے انسان تھے شاید یہ لوگ بھی اس وقت قبرستان کے قریب ٹھہرنا پسند نہ کرتے ہوں گے یہ ڈر اس وقت تک رہتا ہے جب تک بہت اپنا کَوئی قبرستان میں دفن نہ ہو جائے مجھے بھی قبرستان اور قبروں سے بہت ڈر محسوس ہوتا تھا مگر تب تک جب میری بہت پیاری سی ماں قبر میں جا کر ابدی نیند نہ سو گئی تب مجھے قبرستان کے ویرانے سے اس دشت سے خوف محسوس ہونا ختم ہو گیا۔

کیوں کے جب دشت آپکے اندر آ جاتا ہے تو پھر آپکا دشت سے خوف خود بے خود ختم ہوجاتا ہے جب میں نے قبرستان کو بغور دیکھا تو جانا اس دشت کی خاموشی میں بھی کیئ آوازیں پوشیدہ ہیں قبرستان کے ویرانوں میں جب گاہے بے گاہے انسان آ کر دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہیں تو جیسے مغفرت کی طالب قبور میں مدفون مردے آہ بھرتے ہیں۔

جہاں مغفرت کی دعا پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں تو وہیں اچانک بے زبان پرندوں کی آوازوں کا شور بڑھ جاتا ہے اور جہاں کہاں دعا ئیہ بولوں پر کسی قبر کا عذاب ہلکا ہوتا ہے تو فضاوں میں پھیلا خوف کم ہوتا لگتا ہے پرندوں کی چہچاہٹ جیسے ان بولوں پر آمین کہنے لگتی ہے دیکھا جائے تو بحیثیت مسلمان ہم سب اسس بات سے آگاہی رکھتے ہیں کے یہ زندگی ہمیشہ کے لئے نہیں بلکے چند روزہ ہے جو ہمیں عمل صالحہ کے لئے عطا فرمائی گئی۔

قرآن مجید فرقان حمید میں یہ بات واضح فرمایی گی کے بے شک ہر زینفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے یعنی اگر ہم زندگی کا شعور رکھتے ہیں تو پھر موت کے آنے کا یقین بھی ہمیں لازم ہوتا ہے مگر ہم اسے فراموش کے رکھتے ہیں زندگی کو آج اور موت کو کل پہ ٹال رکھتے ہیں الله رب العزت نے ہمیں زندگی میں ایک پلاٹ الاٹ کیا ہے اس پلاٹ یعنی مخصوص گوشہ عافیت کو ہم نے اپنے اعمال کے ذریعے رنگ بے رنگے خوبصورت پھولوں سے سجا کر اپنے لئے سبزہ زار اگانا ہے جو ہمیں دلی سکوں و راحت پہنچایے یا پھر اجاڑ بیابان کانٹوں سے بھرا اجڑا ریگستان جہاں تا حد و نگاہ وحشت ہو خوف ہو کیا۔

ہمیں خوش دلی نرمدلی خوش اخلاقی سے قرآن پاک اور سنّت نبی صل اللہ علیہ وسلم پر چلتے ہوئے اپنے اعمال کے ذریعے سے اپنی قبر کو سرسبز و شاداب بنانا ہے یا پھر اپنے حسد کینہ بغض اور نفرتوں کا شکار ہو کر قرآن اور اسکی تعلیمات سے دور ہو کر اپنی قبر کو بنجر بے اب و گیاہ کرنا ہے کیوں کے ارشاد نبوی صل الله علیہ وسلم ہے کے قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا پھر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اب فیصلہ ہم سب کے اپنے ہاتھ میں ہے کے ہمیں کیا کرنا ہے۔

ہمیں اپنی قبروں کو سر سبز و شاداب بنانا ہے یا اجاڑ ……… دلی دعا ہے کے الله ہم سبکو اعمال صالحہ کرنے کی توفیق فرمائے تاکہ جب ہم اس تھکا دینے والی زندگی سے ابدی زندگی کے سفر کا آغاز کریں تو اس قیام میں زاد راہ ہمارے وہ اعمال کے خوش رنگ پھول ہوں جن سے ہماری آخری آرام گاہ عافیت کا گوشہ ہو۔ آمین ثمہ آمین۔

تحریر : شاز ملک