yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

مہرانِ عرفان شاہ جورسالو

Yes 1 Webmaster August 17, 2015 1 min read
Shah jo Risalo
Share this:
Shah Jo Risalo Manuscript
Shah Jo Risalo Manuscript

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام آپ کے فقرا کو زبانی یاد تھا ۔ان میں بعض ایسے تھے کہ انہیں پورا کلام حفظ تھا ۔ہاشم فقیر، بلال فقیر اور تیمر فقیر کے متعلق معروف ہے کہ شاہ صاحب کا کوئی شعر ایسا نہ تھا جو انہیں یاد نہ ہو ۔تیمر فقیر نے آپ کے اشعار وافکار قلمبند کیے اور انہیں “گنج شاہ لطیف” یعنی شاہ لطیف کا خزانہ، نام دیا ۔ آپ کی خادمہ مائی نعمت نے بھی اس کام میں اس کی مدد کی۔ یہ نسخہ تیمر فقیر کے ورثا کے پاس محفوظ رہا۔1854ء میں اوڈیرولال کے سید عظیم شاہ نے گنج شاہ لطیف کی پہلی نقل تیار کی جو شاہ صاحب کے دربار میں محفوظ کی گئی ۔بعدازاںدو نقول تیار ہوئیں جن میں سے ایک کو بھِٹ ایڈیشن کہا جاتا ہے۔دوسری بلڑ لے جائی گئی جو شاہ عبدالکریم بلڑ والے کے جانشینوں کے پاس محفوظ رہی۔یہبلڑ ایڈیشن کہلاتا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ گنج شاہ لطیف کا اصل نسخہ ناپید ہو گیا۔

اشاعت ِاول: شاہ صاحب کے وصال کے 114 سال بعد 1866ء میں ایک جرمن دانشور ڈاکٹر أرنسٹ ٹرمپ (1828-1885ئ)تاج ِبرطانیہ کی ملازمت میںسندھ آئے ۔ وہ یورپی زبانوں کے ساتھ ساتھ سندھی ،پنجابی،بروہی اور پشتو سے آشنا تھے ۔انہوں نے حیدر آباد قیام کے دوران دو سندھی دانشوروں کی مدد سے گنج شاہ لطیف کی نقل تیار کی اورریٹائرمنٹ کے بعد جرمنی لے جا کر لیپزگ Leipzig سے شائع کرواکے پہلی مرتبہ ”شاہ جو رسالو”نام دیاجو آج تک رائج ہے ۔یہ ٹرمپ ایڈیشن کہلاتا ہے ۔اس نسخہ میں کچھ سر(کمودی،پورب،کارایل،ماروی اور تووٹ) چھوڑدیے گئے اور تحریر وترتیب میں بھی مزید بہتری کی ضرورت رہی ۔ نقائص کے باوجود یہ نسخہ سندھی دانشوروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا أرنسٹ ٹرمپ ،کلام ِشاہ لطیف کے فروغ میں وہی مقام رکھتے ہیں جو کلام ِعمر خیام میں فٹزگرالڈ اور کلام ِغالب میں مولانا الطاف حسین حالی انصاری کا ہے ۔آپ سندھی ادب کے محسن ہیں۔

اشاعت ِدوئم: ٹرمپ ایڈیشن کے فوراََبعد 1867ء میں قاضی ابراہیم نے وہی نسخہ بمبئی سے شائع کرایامگر ضروری تصحیح وترامیم اور متروک کلام کے شامل ِاشاعت نہ ہونے کے باعث یہ نسخہ زیادہ توجہ حاصل نہ کرسکا۔ دوسرا ایڈیشن ہالہ کے فقیر طالب کی معاونت سے اہم ترامیم کے ساتھ 1877ء میں شائع ہوا۔قاضی ابراہیم کا شائع کردہ بمبئی ایڈیشن کہلاتا ہے ۔یہ ایڈیشن متعدد مرتبہ شائع ہوا۔ان کے بعد سید دوست علی متعالوی اور میر عبدالحسین سانگی نے شاہ جو رسالو شائع کروایا۔

Ernst Trump 1828-1885
Ernst Trump 1828-1885

میوزیم ایڈیشن: 284صفحات پہ مشتمل شاہ جو رسالو کا ایک نسخہ 1846ء میں برٹش میوزیم میںرکھا گیا جو میوزیم ایڈیشن کہلاتا ہے۔ حکومت ِسندھ ایڈیشن: 1900ء میں حکومت ِسندھ نے تارا چند کی زیر نگرانی شاہ جو رسالو کا ایک معتبر نسخہ شائع کروایا۔ شکارپوری ایڈیشن: 1913ء میںسندھ کے نامور عالم، شمس العلما میرزا قَلِیْچ بیگ نے شکارپور سے شاہ جو رسالو شائع کروایاجو کتابت کی اغلاط اور ترمیم طلب نقاط سے صرفِ نظر کے باعث عوام میں زیادہ مقبول نہ ہو سکا۔

گربخشانی ایڈیشن: 1923ء میںکراچی سے فارسی کے پروفیسر، ڈاکٹرہوتی چند گربخشانی نے (جو سنسکرت ،سندھی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے )پہلا ایڈیشن شائع کروایااور 1924ء اور 1931ء میں اس ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت ہوئی ۔یہ کاوش گزشتہ کاوشوں سے بہتر تھی اور خوبصورت طباعت وترامیم کے باعث عوام میں مقبول ہوئی ۔ دانشوروں نے تنقید کی اور ترامیم کو بہتر خیال نہ کیا ۔ تنقید اسقدر تھی کہ ڈاکٹر گربخشانی بقیہ تیرہ سُر شائع کرانے سے گریزاں رہے جس باعث یہ ایڈیشن ادھورا رہا تمام تر اعتراضات کے باوجود یہ ایڈیشن معلوماتی اور مفید رہا جس کے اعتراف میں اس ایڈیشن کے تین والیم بھٹ شاہ کلچرل کمیٹی نے دوبارہ شائع کروائے۔

Shah jo Risalo
Shah jo Risalo

ڈاکٹر گربخشانی کے بعد 1950ء میں غلام محمد سہوانی اور1952ء میںمولانا غلام مصطفٰی قاسمی نے شاہ جو رسالو شائع کروایا۔مولانا قاسمی نے اپنے ایڈیشن میں شاہ ولی اللہ اور شاہ عبداللطیف کے فلسفہ کی یک رنگی بیان کی ۔1958ء میں کلیان ایڈوانی نے ہندوستان سے شائع کروایاجو زیادہ مفید ہے ۔سہوانی اور ایڈوانی نے گربخشانی انداز برقرار رکھا۔ 1961ء میں سندھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی (امدادامام قاضی)بارایٹ لانے نسخہ شائع کرایا مگر تحاریف کے باعث پذیرائی نہ ملی۔ ان تمام کاوشوں میں ڈاکٹر ہوتی چند گربخشانی کی کاوش قابل ِقدر ہے جنہوں نے اشعار میں بیان کردہ آیات ِقرآنی و احادیث ِنبوی پرمختصر تبصرہ کیا۔

1940ء میں ڈاکٹر ایچ ٹی سورلے نے شاہ جو رسالو کا منظوم انگریزی ترجمہ کیااور شاہ صاحب کی سوانح ” Shah Abdul Latif of Bhit. His Poetry, Life and Time”آکسفورڈیونیورسٹی پریس برطانیہ سے شائع کرائی ۔آپ یورپ کو شاہ عبداللطیف بھٹائی سے آشنا کرانے والے پہلے دانشور ہیں۔ شاہ جو رسالو کا کسی بھی زبان میں ترجمے کا حق ادا کرنا دشوارہے۔شاہ صاحب کی ادبی قدوقامت،ہر مصرع کا ترنم ،الفاظ کا حسن اور دل ودماغ وروح کو مخمور کردینے کی طاقت ایسے عوامل ہیں جو شاہ جورسالو کے اصل نسخہ کی قدر ومنزلت میں اضافہ کرتے ہیںاور مترجم ان کا حق ادا کرنے سے قاصرہے ۔

Shah jo Risalo
Shah jo Risalo

پروفیسر اکرم انصاری کی کتاب” Symbolism in Latif’s Poetry ”1983 ء میںانسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی ،یونیورسٹی آف سندھ نے شائع کی جوافکار ِشاہ لطیف کے خزائن میں قابل ِتذکرہ ہے۔ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے شاہ جو رسالو کے 47مخطوطات اور 15شائع شدہ ایڈیشنز پر تحقیق کی ہے۔ 1985ء میںریٹائرڈ Cs pمحمد یعقوب آغا کا معرکةالآرا ترجمہ اورتشریح بھٹ شاہ کلچرل کمیٹی نے شائع کیاجس میں قرآن وحدیث اوراسلامی نقطہ نظر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ سعدی،حافظ، رومی،غالب، جامی ،خیام ،بایزید بسطامی ،بوعلی شاہ قلندر ،حکیم سنائی ،خواجہ معین الدین چشتی ،بہاء الدین نقشبند،فرید الدین عطّارِ نیشاپوری ، نصیر الدین چراغ دہلوی ،امیر خسرو اور دیگر اکابر صوفیا وعارفین کے کلام سے شاہ لطیف کے افکار کی مطابقت ومماثلت کا جائزہ اس نسخے کی نمایاںخصوصیات ہیں۔اس نسخہ کو 2004ء میں وزارت ثقافت وسیاحت، حکومت ِسندھ نے دوبارہ شائع کیا ۔شاہ جو رسالو کے شائع ہونے والے تمام ایڈیشنز میں یہ جامع ترین ایڈیشن ہے جس میں فاضل محقق افکار ِشاہ لطیف کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی بھرپور کاوش میںکافی حد تک کامیاب ہوئے ۔1994ء میں امینہ خمیسانی کا انگریزی ترجمہ بھٹ شاہ کلچرل کمیٹی حیدر آباد نے شائع کیا۔

ان تمام ایڈیشنزکی اشاعت کے باعث حضرت شاہ صاحب کے افکار و تعلیمات نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دیوان کے علاوہ ان کی شخصیت، تعلیمات وافکارپہ شائع ہونے والی لاتعدادکتب کاشمارنہیں۔

Shah Latif's Wahdatul Wujud
Shah Latif’s Wahdatul Wujud

شاہ جو رسالو کے ابواب ”شاہ جو رسالو” 30 ابواب پر مشتمل ہے جنہیں ” سُر” کا نام دیا گیا ہے۔ترتیب ِجدید میں تین ہزاراڑتیس اشعاراورایک سو پچانوے منظومات یا کافیاں ہیںجن میں سات سو تین آیات ِقرآنی واحادیث ِنبوی کاحوالہ ہے۔

1 ۔ سُر کلیان (سکون) 57اشعار3منظومات 2۔ سُر یمن کلیان (راہِ سکون ) 202اشعار9 منظومات
3۔ سُر پربھتی (راگ سحر) 33اشعار2منظومات 4۔ سُرآسا (امید) 131اشعار7منظومات
5 ۔ سُر برووسندھی (محبوب) 51اشعار4منظومات 6۔ سُر کپائتی (بزاز) 33اشعار1نظم
7۔ سُر دہر (صحرا) 125اشعار 4منظومات 8۔ سُر رِپ (افتاد) 47اشعار 3منظومات
9۔ سُر کارایل (راج ہنس) 43اشعار 2منظومات 10۔ سُر بلاول ( نغمہ ٔ حیات) 80اشعار 4 منظومات
11۔ سُر سارنگ (بارش کا گیت) 78اشعار 4منظومات 12۔ سُرکھمبٹ (بہشت) 77اشعار 6منظومات
13۔ سُر سُری رگ (کشتی رانی) 107اشعار 7منظومات 14۔ سُر ساموندھی (غواص) 79اشعار 8منظومات
15۔سُرپورب (مشرق) 45اشعار2منظومات 16 ۔سُررام کالی (یوگی) 229اشعار 10منظومات
17۔ سُرکاھوری (آزاد جوگی) 60اشعار 4منظومات 18۔ سُر کیڈارو (میدان جنگ) 75اشعار 6منظومات
19۔ سُر سوہنی (کردارکے نام پر) 225اشعار 15منظومات 20۔ سُر سسئی ابڑی (عظیم مشکلات) 181اشعار 21 منظومات 21۔ سُرمعذوری (بیچارگی) 113اشعار7منظومات 22۔ سُردیسی (مقامی) 117اشعار 11منظومات 23۔ سُر کوہیاری (پہاڑی راستہ) 81اشعار 8منظومات 24۔ سُرحسینی 243اشعار 17منظومات
25۔ سُر ماروی 244اشعار 12منظومات 26۔ سُر لیلاچنیسر(کردار کے نام پر ) 54اشعار3منظومات 27۔ سُرکمودی(محبت پہ منحصر) 29اشعار 2منظومات 28۔ سُرسورتھ (شاہ ووزرا) 64اشعار 4 منظومات
29۔ سُرمومل رانو 144اشعار 9منظومات 30۔ سُر گھاتو (شکاری) 17اشعار 1نظم

سر کلیان،یمن کلیان،پربھتی،آسا،برووسندھی ،کپائتی، دہر،رِپ،کارایل،بلاول اور سارنگ میں عشق الٰہی اور رحمت ایزدی کا تذکرہ ہے ۔شاعر کی روحانی عظمت اور للّٰھیت ان ابواب میں چھلکتی ہے ۔سر کھمبٹ ،سری رگ اورساموندھی میںسلوک الی اللہ کا ذکر ہے اور سالک کے مقامات واہداف کا تذکرہ ہے ۔ سرپورب، رام کالی اور کاھوری روحانی موضوعات رکھتے ہیں۔ سرسوہنی ،سسئی ابڑی، معذوری، دیسی، کوہیاری،حسینی ،ماروی، لیلاچنیسر ،کمودی ،سورتھ،مومل رانو اور گھاتو اخلاقی درس دیتی ہیں اور حکایات ِزمانہ سے بھرپور ہیں۔

Kalyan Advani
Kalyan Advani

وحدت الوجود شاہ لطیف بھٹائی کا کلام حب ِالٰہی اور فلسفہ تصوف سے بھرپور ہے ۔آپ کے اشعار میں عشق ِرسول کی مہک ہے۔انسان کے روحانی ارتقااور مدارج و اہداف کی جانب اشارہ ہے ۔ آپ نے شاہ جو رسالو میںاسرار ومعارف کے دریا بہا دیے ہیں اوراہل ِبیت اطہار کی مد ح سرائی کے ساتھ ساتھ ان کے افکارسے بھی متعارف کروایا ہے ۔ آپ کا سینہ علم ودانش کا خزینہ تھا ۔آپ کی تعلیمات اتباع ِرسول ِاکرم اور حب ِاہل ِبیت ِاطہار کادرس دیتی ہیں۔آپ کی تعلیمات نسل انسانی کی وحدت اور باہمی ربط کی بنیاد،سماجی مراتب سے قطع ِنظر عالم ِ انسانیت کی یکسانیت،عظمت ِ کار و کسب اور ارتقائے مراتب ِ مادہ و روحانیت،معاشرے کے مختلف طبقات میں یگانگت وہم آہنگی پرمرتکزہیں۔

آپ شریعت و طریقت کی معرفت رکھتے وحدت الوجود کا درس دیتے تھے جس کا ذکر آپ کے کلام میں ملتا ہے ۔ آپ کے ہر شعر اور شاہ جو رسالو میں بیان کردہ ہر قصے کی تان وحدت الوجود پر ٹوٹتی ہے ۔خالق ومخلوق کے درمیانی فاصلے مٹانے کے لیے آپ نے عشق ومحبت کا درس دیااور اسی عشق ومحبت کو عام فرمایا۔آپ خود پسندی، خودپرستی ،جارحیت اور رزائل ِاخلاقی کی نفی کرتے اورسادگی،شرافت اورپاکیزگی کے اسوئہ حسنہ کا درس دیتے تھے جو کہ اصل ایمانی زندگی کی بنیاد ہے ۔آپ کے اشعار میں محبت کے ساتھ ساتھ عزم وہمت، جہد مسلسل اور معاشرتی ناانصافی و ظلم کے خلاف علم جہادبلند کر نے کادرس ملتا ہے ۔آپ نے عالم ِانسانیت کو دردمندی، وسعت ِفکر ونظراور محبت کا درس دیا اور اس دور میں رواج پا جانے والے گمراہ کن تصورات کے خلاف جہاد کر کے بہت سی غیر اسلامی رسوم کا خاتمہ کیا۔آپ تصوف وشعریت کا حسین امتزاج تھے۔

Shah Latif Bhittayi
Shah Latif Bhittayi

جذبہ حب الوطنی شاہ عبداللطیف بھٹائی حب ِوطن کو جزو ِایمان قرار دیتے فرماتے ہیں کہ میرے آقا نبی ٔ رحمت ۖ نے حب ِوطن کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے ۔آپ کو اپنے دیس سندھ سے محبت تھی۔ آپ نے فارسی کے امتیاز کے دور میں سندھی زبان میں شاعری کی جو آپ کی مٹی سے پیار کاعکاس ہے۔اس دور کے سندھی شعرا فارسی میں شعر کہنا طرہ امتیاز سمجھتے تھے۔ فارسی زبان کو سرکاری حیثیت حاصل تھی اور امرا و اہل ِکمال کے مطارِب فارسی سے گونجتے تھے ۔عین اس وقت جب سندھ میں فارسی ادب نصف ِنہار پہ تھا حضرت شاہ صاحب نے زمانے کی رو سے ہٹ کر سندھی زبان کو اپنی شاعری کا ذریعہ بنایا اور بے مثل شاعری سے اس زبان کو مالامال کر دیا۔

شاہ جو رسالو میں بارہااپنے وطن کے لیے خیر وبرکت کی دعا کی ہے ۔ ایک جگہ فرماتے ہیں ؛”میری خواہش ہے کہ اپنے وطن کو دیکھتے دیکھتے جان دوں ۔میری صبح کو قید نہ کرنا۔ پردیسن کو اس کے محبوب سے جدا نہ کرنا ۔میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے وطن تھر کی ٹھنڈی ٹھنڈی مٹی اپنے سر پہ ڈال لوں ۔اگر میں پردیس میں مر جائوںتو میرے جسد کو یہیں دفن کرنا۔”آپ کے فکری محاسن ناقابل ِفراموش ہیں جن میں آپ نے اپنے عملی تصوف کے نکات حسن و دلکشی کے ساتھ عیاںکیے ۔ آپ کے ابیات محض مناظم ہی نہ تھے بلکہ آیات ِربانی کی تفسیر تھے ۔ان اشعار کو پڑھ کر سمجھنے والا اور ان پر عمل پیرا ہونے والا راہِ حق پا لیتا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
ریکٹر والعصر اِسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Roshan Singh
Previous Post روشن سنگھ کی معافی
Next Post ڈاکٹر طاہر القادری آج گیارہ سال بعد پیرس پہنچیں گے
Dr Tahirul Qadri

Related Posts

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026
Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years

62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے

May 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.