counter easy hit

محبت کے لیے ایک ہی دن مقرر کیوں

Happy Valentine Day

Happy Valentine Day

تحریر : سونیا چوہدری
14 فروری کا روز محبت کے نام سے ایسا منسوب کیا گیا ہے کہ جیسے ہی فروری کا مہینہ شروع ہوتا ہر طرف سرخی ہی نظر آنے لگتی ہے۔ سب ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے اس قدر پرجوش دیکھائی دیتے ہیں کہ جیسے یہ ایک دن پہلی اور آخری بار آئے گا اس کے بعد پھر سے نفرت کے ایام کا آغاز شروع ہوجائے گا جو اگلے سال کی 14 فروری تک جاری رہیں گے۔ محبت کے دن کے حوالے سے جہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ محبت کا ایک دن ہی منانا چاہیے یا پھر پورا سال محبت کے لیے ہوتے ہیں وہیں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ دن کیوں اور کس لیے منائیں۔ ہماری حقیقت کیا ہے اور ہم کن کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔

وقت جس تیز رفتار ی سے برف کی طرح پگھل رہا ہے ہم بھی اتنے ہی لاپرواہ ہوکر دنیا کی رنگ رلیوں میں رنگتے چلے جا رہے ہیںجبکہ وقت کے بیتنے کے ساتھ ساتھ ہمیں دنیاوی سفر کہ علاوہ آخرت کے لیے بھی کچھ اعمال جمع کر لینے چاہیں تھے۔ ہم سوفیصد نمبر لے کر پوزیشن ہولڈرز نہ سہی مگر پاسنگ مارکس نمبر لے کر جنت میں جانے والوں میں شامل ہوسکتے۔ ہم اس دنیا کہ رنگ میں اتنا رنگ چکے ہیں کہ اچھے، برے اور حلال، حرام کی بھی پہچان بھول چکے ہیں۔ ہمارا نفس ہمیں بہت آسانی سے اپنے شکنجے میں پھانستا ہے اور ہم پھنستے چلے جاتے ہیں جبکہ ہمیں ایک کامیاب زندگی و اچھی آخرت کے لیے سب سے پہلے اسی نفس کو کنٹرول میں رکھنا چاہیے تھا۔

ہم مسلمان ہو کر غیر مذہبی تہوار یوں جوش و خروش سے مناتے ہیں کہ یہ تہوار بنا ہی ہمارے لیے ہے اور اگر اسکو نہ منایا تو زندگی کا مزہ کچھ کم ہو جائے گا۔ویلنٹائن ڈے بھی انہی غیر مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے جسکی تیاریاں ماہ فروری کہ شروع میں ہی شروع ہو جاتی ہیں اور ہماری نوجوان نسل 14فروری کو محبت کا دن سمجھ کر مناتی ہے۔ تاہم میں اسے ایک مسلم نوجوان کی بربادی کا دن سمجھتی ہوں۔ جس دن وہ اپنی عزتوں کو پامال کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔ محبت تو ایسا پاک جذبہ ہے جسے دنیا کی رنگ رلیوں سے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ہمارے دین اسلام نے محبت کو نہیں بلکہ محبت کہ نام پر کیے جانے والے گناہوں کو برا قرار دیا ہے۔ بےشمار ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اگر ان سے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں ایک دن اپنی محبت کا اظہار کر لینے میں گزار لیں گے تو اس میں کونسی قباحت ہے جبکہ ایک باشعور انسان کبھی ایسی احمقانہ بات نہیں کرتا کہ محبت کے اظہار کے لیے کوئی ایک ہی دن مقرر ہوگا ۔ ایک ایسا دن جس کا تعلق غیر اسلامی تہوار سے ہے۔ جس کا ہمارے دین سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ میں محبت کی انکاری نہیں کہ یہ فطری جذبہ ہے جو اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ میں محبت کے نام پر کیے جانے والے گناہوں کے خلاف ہوں جنہوں نے اس پاک جذبے کو بدنام کر رکھا ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسی چیزیں ہیں جن سے متاثر ہو کر انسان محبت کر بیٹھتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ “لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوبصورت بنادی گئی،عورتیں بیٹے سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے نشان لگے ہوئے گھوڑے،مویشی اور کھیتی یہ زندگی کا سامان ہے اور اللّہ ہی کہ پاس عمدہ ٹھکانہ ہے”(آل عمران) اور ہمارے پیارے نبی نے انسانوں کی باہمی ضروریات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔”اس ذات کی قسم جسکے قبضے میں میری جان ہے،تم اس وقت تک جنت میں نہیں جاسکتے جب تک مومن نہ بن جاو¿ اور تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو،کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاو¿ں جب تم اس پر عمل کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو۔آپس میں سلام پھیلاو¿۔۔(صحیح مسلم)۔۔۔!!! لیکن ہماری،ہمارے نوجوانوں کی محبتیں کیسی ہیں جنہوں نے اس خوبصورت پاک و پاکیزہ جذبے کو نفسانی خواہشات کا غلام بنا ڈالا ہے۔

ہمارے اندر سے رحمت و شفقت کو ختم کر ڈالا ہے اور ہمیں ہمارے دین سے دور کر رہی ہیں۔کیا صرف ایک ویلنٹائن ڈے جسکو محبت کا دن کہا جاتا ہے اس ایک دن سے حقیقی محبت حاصل ہو سکتی ہے،اس ایک دن کو منانے سے سوائے بے حیائی اور برائی کو فروغ ملنے کے کچھ حاصل نہیں ہورہا،بلکہ ہم گناہوں کی دلدل میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔سچی محبت تو قربانی اور صبر سے برداشت کرنے کا سبق دیتی ہے اور ایک دوسرے کی اچھی اصلاح کی کوشش کرتی ہے،جبکہ ویلنٹائن ڈے میں تو ایسی کوئی خصوصیات نہیں پائی جاتیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دو لوگ جن میں محبت کا تعلق صرف ایک دن کے اظہار جیسی ناپائیدار بنیاد پر قائم ہو اور وہ ہمیشہ قائم رہے۔ ذرا سوچئے۔

تحریر : سونیا چوہدری