counter easy hit

کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتا

Hazrat Umar Farooq

Hazrat Umar Farooq

تحریر: عقیل خان
حسب عادت میں اپنے موبائل پر سوشل میڈیا میں گم تھا۔ دوستوں سے چیٹینگ میں مصرور ف تھا۔واٹس اپ کو چیک کیا تو اس میں ایک دوست نے مجھے ویڈیو شئیر کی ہوئی تھی۔ وہ ویڈیومیرے ہی نہیں دنیا بھر کے لاکھوںمسلمانوں کے پسندیدہ مفکروعالم مولانا طارق جمیل صاحب کی تھی۔ میں نے اس کو اوپن کیاتوان کا وہ بیان حضرت عمربن خطاب پر تھا۔ ان کا وہ بیان حاکم اور خلیفہ کے بارے میں تھا۔ان کے بیان کے مطابق حضرت عمر حاکم نہیں بلکہ خلیفہ تھے انہوں نے خلیفہ اور حاکم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ حکم پر حکومت قربان کردیتا ہے اور حاکم کون ہوتاجوحکومت پر حکم کو قربان کردیتا ہے یعنی حکم جائے پر حکومت نہ جائے اور خلیفہ کہتا ہے کہ حکومت جائے پر شریعت نہ جائے۔

مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر مہینے میں ایک دن گوشت کھاتے تھے۔ ایک حضرت عمر کے بیٹے نے آپ کی دعوت کی توآپ نے نوالہ منہ میں رکھتے ہی ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا کہ میں نہیں کھاؤں گا بیٹے نے پوچھا کیوں ابا جان؟ فرمایا کہ دوسالن ہیں۔ بیٹے نے کہا نہیں اباجان ایک سالن ہے گوشت، آپ نے فرمایا نہیںدوسالن ہیںگوشت میں گھی ہے اور گوشت الگ سالن اور گھی الگ، آپ نے زندگی میں کبھی گھی اور گوشت ملا کر نہیں کھایا۔بیٹے نے کہا ابا جان میں نے کوئی فضو ل خرچی نہیں کی،آج گوشت سستا مل گیا تھا اس لیے آدھے درہم کا گوشت لے لیا اور آدھے درھم کا گھی۔ اس لیے میں نے کوئی فضول خرچی نہیں کی۔

حضرت عمر نے فرمایا نہیں بیٹا عمرکا ہاتھ منہ میں نہیں جاسکتا۔مولاناصاحب حضرت عمر کے دور حکومت کے بارے میں مزید بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ آپ 22لاکھ مربع میل کے حاکم راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ ایک رات کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑھیاچولھے پر ہانڈی چڑھا کر بیٹھی ہے اور اس کے بچے رو رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا اماں کیا بات ہے یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟ بوڑھیا نے کہا کہ کھانے کو کچھ نہیں ہے اس لیے بچے رو رہے ہیں ۔ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے تو بوڑھیا نے کہا کہ تو تسلی کے لیے ہانڈی چڑھائی ہے تاکہ بچے سو جائے۔ بوڑھیا نے کہا کہمیرا اور عمر کا اللہ کے ہاں حساب ہوگا۔

آپ کے کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے کہ عمر کو تمھاری کیا خبر ؟ بوڑھیا نے کہا کہ پھر وہ ہمارا حاکم کیوں بنتا ہے جو ہمارے حال کی خبر نہیں لیتا۔یہ سن حضرت عمر وہاں سے بھاگے ، بیت المال سے مال اٹھایا، اپنی کمر پر اٹھا کر رکھنے لگے تو غلام آیا کہ میں اٹھاتا ہوں آپ نے فرمایا کہ کیا قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھا و گے؟حضرت عمر سامان لیکر وہا ں پہنچتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر ان بچوں کوکھلاتے ہیں ۔بچوں کو کھانا کھلا کر چل دیے تو وہ عورت بولی کاش عمر کی بجائے تم امیرالمومینین ہوتا۔تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں وہ ہی ہوں بلکہ فرمایا کہ اماں جب تو امیر المومینین سے ملے گی تو مجھے بھی وہی پائے گی۔

مولانا طارق جمیل صاحب کاانداز بیاں تو پہلے ہی دنیا میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایک بار ان سے مل لے تو پھر وہ گناہ سے توبہ کرکے نیکی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ میں خود ان سے ملنے کا طلب گا ر ہوں مگر موقع میسر نہیں آرہا۔ دور دور سے تو ایک دو بار دیدار ہوا ہے پرایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔2010میں جب میں حج پر تھا تو اس وقت میرے ایک دوست حافظ رانا فرمان صاحب ان کے ساتھ موجود تھے اور انہوں نے کئی بار میرے نمبر پر ٹرائی بھی کی کہ ہم لوگ ایک ہوٹل میں اکٹھے رہیں مگر بدقسمتی سے جس نمبر پر وہ ٹرائی کررہے تھے وہ نمبر میرا میدان عرفات میں حج کی گہما گہمی میںگم ہوگیا تھا۔بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ میں آپ کو حج کے بعد کال کرتا رہا پر آپ کا نمبر بند تھا۔ بقول حافظ فرمان صاحب کے اس وقت مولانا طارق جمیل صاحب اور وہ ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے۔شاید میر ی قسمت میں اس موقع پر ملاقات نہ تھی۔

جس انداز میں مولانا صاحب نے حضرت عمر کا واقعہ بیان کیا اس سے میرے اندر کا انسان مجھے جھنجھوڑنے لگا کہ ایک طرف یہ حکمران تھے اور دوسری طرف ہمارے حکمران۔ہمارے کسی بھی جماعت سے وابستہ حکمران جھوٹ کا سہارا لیے بغیر بات نہیں کرتے۔ جس وقت میں یہ ویڈیو دیکھ رہاتھا اسی وقت ہمارے وزیراعظم آزاد کشمیر میں ایک نئے پاور پلانٹ کا افتتاح کرکے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب پاکستان میں لوڈشیڈنگ چھے گھنٹے کی رہ گئی ہے ۔ مجھے یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی اور میرا ذہن فوراًاس بیان کی طرف چلا گیا کہ ایک وہ حاکم جو خوف خدا سے سالن نہیں کھا رہے ، عورت کے جواب سن کر آبدیدہ ہوگئے کہ روزقیامت میں کیا جواب دونگا اورایک طرف ہمارے یہ حاکم وقت جوصاف جھوٹ بول رہے ہیں جبکہ آج بھی ہمارے شہر میں بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔کوئی حاکم وقت کو جاکربتائے کہ ہمارا شہر بھی انہی کی رعایا میں شامل ہے ۔ہم ملک پاکستان سے باہر نہیں۔

ویسے بھی سیاست کا دوسرانام جھوٹ ہے مگر پھر بھی لوگ اس کا بر ملا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سیاست نہیں عبادت کررہے ہیں۔ سیاستدان ہی نہیں بلکہ بہت سے علما کرام جو اسمبلیوں میں ہوتے ہیں وہ بھی جھوٹ اور سچ کا موازنہ اپنے مفاد کے مطابق کرتے ہیں۔ کبھی وہ ایک پلیٹ فارم سیاسی قائدین پر کرپٹ ہونے کا الزام لگارہے ہوتے ہیں اور دوسرے دن اسی کرپٹ لوگوںکے ساتھ بیٹھ کر فوٹو سیشن کرا رہے ہوتے ہیں۔ کہنے کو ہم اسلامی ملک کے باشندے ہیں مگر یہا ں پر اسلام صرف نام کا ہے۔ سود کو حلال ، کام کرانے کے لیے رشوت جائز، عورتوں میں پردہ بس نام کا، ٹی وی پر فحاشی عام، پرائیویٹ چینلز پر گفتگو ایسی کہ کوئی بھی مرد بہن بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا، قتل و غارت عام ۔کیا ہمارا اسلام یہی درس دیتا ہے؟

Aqeel Khan

Aqeel Khan

تحریر: عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com