counter easy hit

دوہرا معیار تعلیم

Education

Education

تحریر : مجید احمد جائی

دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ،ان کی ترقی کی بنیادی وجہ ”تعلیم ”ہے۔جس ملک کی شرح خوانداگی کم ہے وہ کبھی ترقی کی بلندیوں کو چھو بھی نہیں سکتے۔ابھی تک کی بات لگتی ہے مشرقی پاکستان کو الگ ہوئے اور آج تعلیمی مقابلے میں سب سے سبقت لے گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان ہے جو گوناگوں مسائل کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔دہشت گردی کا وائرس ناسور بن گیا ہے۔کرپشن کا جن آزاد گھوم رہا ہے۔ملاوٹ،سود خوری آسمان کو چھو رہی ہے۔قتل و غارت عام ہے۔اب انسان حیوان بنتے جارہے ہیں۔انسانیت ناپید ہو تی جا رہی ہے۔مہنگائی کا سیلاب غریبوں کو نگل رہا ہے۔ذات پات کی تفریق نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔اپنوں کے چہروں نے نقاب اڑوھ لئے ہیں۔غیر تو غیر سہی ۔اپنے ہی اپنوںکو نوچ رہے ہیں

پاکستان کو انگریزوں ،یہودئوں سے آزادی حاصل کیے 68سال بیت گئے ہیں۔مگر ان کی غلامی آج بھی ہماری رگوں میں روز اول کی طرح رچی بسی ہوئی ہے۔انہوں نے جو کہا ،ہم نے سر جھکا دیا۔آج شرح خوانداگی بڑھنے کی بجائے کم تر ہو رہی ہے۔جب تک علم کی روشنی گھر گھر نہیں پہنچے گی ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔قوموں کی ترقی کا انحصار تعلیم ہی ہے۔ہم نجانے کن سوچوں کے غلام بنے جاتے ہیں۔ہمارے کھیت ویران پڑے ہیں۔ہمارے کارخانے بند پڑے ہمارا منہ چڑھا رہے ہیں۔ہماری تجارت پستی کی طرف جا رہی ہے۔ہمارے کھیت منتظر پڑے ہیں۔جب تک پڑھے لکھے کسان جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا نہیں جا ن پائیں گے ،ہمارے کھیتوں میں چھپی معدنیات کیسے باہر آسکتی ہیں۔

ہمارا وطن اسلامی تہذیب و تمدن سکھاتا ہے۔بد قسمتی سے بھائی چارے سے جنم لینے والا معاشرہ آج مذہبی بٹوارے کا شکارہے۔مسلمان تفرقوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔نفرت کے پودے تن آور درخت کا روپ دھار چکے ہیں۔آج بھائی ،بھائی کے سر پر تلوار رکھے کھڑا ہے۔مہنگائی عام ہے۔غربت آسمان کو چھور ہی ہے۔یہ سب مسائل تعلیم سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ہمارے دشمن یہی تو چاہتے ہیں کہ اس طاقتور قوم کو ان مسائل میں گِراکر خود بلندیوں پر قبضہ جما لیں۔

ایک وقت تھا مسلمان سائنسدانوں کا پوری دُنیا پر راج تھا۔یورپ ان کے گن گاتا ہے۔مگر ہم نے اپنے آبائو اجداد کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ دیا ہے ،تبھی تو ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ہمارے ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بجائے دوہرا معیار تعلیم رائج ہے۔یہی ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ایک طرف سرکاری اسکول ہیں ،جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔کہیں سرکاری عمارتیں تو بن گئی مگر حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے جاگیرداروں ،وڈیروں نے اپنے جانور باندھ کر اپنی ملکیت بنا لی ہے۔کہیں ٹوٹی پھوٹی سرکاری اسکول ہیں تو وہاں ٹیچروں کا فقدان پڑا ہے۔

کہیں ٹیچر ہیں تو بچے غائب ہیں۔مجھے ایک خبر پڑھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ، ایک اسکول میں ایک ہی طالبہ زیر تعلیم تھی اور وہاں سات لیڈی ٹیچر تعنیات تھیں۔ہم کاغذی کاروائی تو کرتے ہیں عملی نہیں۔دیہاتی علاقوں میں استاتذہ صبح اسکول تو آتے ہیں مگر حاضری لگوا کر اپنے اپنے کاموں پر نکل جاتے ہیں۔کوئی پوچھنے ہے نہیں۔کوئی پوچھ سکتا بھی نہیں۔ سرکاری جو ٹھہرے۔ رہی سہی کسر ”مار نہیں،پیار”کے فارمولے نے پوری کردی ۔جب سے یہ فارمولا نافذعمل ہوا ہے سرکاری اسکولوں سے پڑھائی نے اپنا بوریا بستر گول کر لیا ہے۔اب حالت یہ ہے کہ بیچارے استاد ،بچوں سے ڈرتے پھرتے ہیں۔بچے استاد اور استاد بچے بنے پھرتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے مدرسوں نے بدنامی کے طوق گلے میں لٹکا دئیے ہیں۔مذہب کے ساتھ کھیلواڑ کیا جا رہا ہے۔مدرسوں میں وہ وہ کام ہو رہے ہیں کہ روح تک کانپ اٹھتی ہے۔بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کھلے عام کیا جاتاہے۔جہاد کے نام پر دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔جنت کے خواب دیکھا کر معصوم ذہنوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔انسانوں کو درندوں کا روپ دیا جاتا ہے۔ملکی فضا میں بدامنی باہر نہیں کر رہے ،ہمارے اپنے ہی ہیں جو اپنوں کا گلہ کاٹ رہے ہیں۔ان کو بے نقاب کر نا ہوگا۔

سرکاری اسکولوں، دینی مدرسوں کو چھوڑ کر غیر سرکاری اداروں کی طرف رُخ کریںتو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم کا معیار تو ہے مگر غربیوں کے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ان کی بھاری بھر فیسیں غربیوں کی دسترس میں نہیں ہیں۔جو بنیادی ضروریات سے محروم ہوں وہ اپنے بچوں کو ان سکولوں میں کہاں تعلیم دلوا سکتے ہیں۔یہاں تو امیروں کے چشم و چراغ پڑھ سکتے ہیں۔

ہماری حکومت کو ایسی حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ دوہرا معیار تعلیم کا خاتمہ کر کے یکساں تعلیم کو فروغ دیا جائے۔سکولوں میں دینی و دنیوی تعلیم کو رائج کرکے مدرسوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے جو معاشرہ پڑھا لکھا ہوتا ہے وہ ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے۔ یکساں معیار تعلیم رائج کرکے ناکامی ،غربت سے لڑاجا سکتا ہے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ دن دُور نہیں جب ملک ترقی کرتے ہوئے بلندیوں پر جا کھڑا ہو گا۔ بیروزگاری کا جن قابو میں آجائے گا، اس ملک کا ہر فرد خود کفیل بن جائے گا۔ہر چہرا مسکراتا نظر آئے گا۔ دہشت گردی پر کنٹرول ہو جائے گا۔ بس اک قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔

Abdul Majeed Ahmed

Abdul Majeed Ahmed

تحریر : مجید احمد جائی
majeed.ahmed2011@gmai;.com