counter easy hit

انصاف معاشرہ اور ہم‎

Justice

Justice

تحریر: کہکشاں صابر
اسلام نے سب سے زیادہ زور عدل وانصاف کے تقاضوں کی تکمیل پر دیا ہے، قرآن کریم میں اللہ تعا لی نے ایک جگہ ارشاد فرمایا اے ایمان والو!انصاف پر خوب قائم ہو جاؤ، اللہ (کی رضا) کے لیے (حق وسچ کے ساتھ) گواہی دو ،چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا، جس پر گواہی دو، وہ غنی ہو یا فقیر ہو، بہر حال اللہ کو اس کاسب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش (نفس) کے پیچھے نہ پڑو کہ حق (عدل) سے الگ پڑو اور اگر تم (گواہی میں) ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (سورۃ النسا)۔

عدل و مساوات کا جو پیمانہ اسلام نے دیا ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ رسول اکرم نے اپنے قول اور فعل سے مساوات کی بہترین مثالیں قائم فرمائیں۔ اسلام میں امیر و غریب، شاہ و گدا، اعلیٰ و ادنیٰ، آقا و غلام اور حاکم و محکوم میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا بلکہ اسلام تمام انسانوں کو برابر حقوق دینے کی تعلیم دیتا ہے۔

خطبہ حجۃالوداع کے موقع پر رسول اکرم نے ساری دنیا کو مساوات کا درس دیتے ہوئے فرمایا:
اے لوگو! تم سب کا پروردگار ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک (حضرت آدم) ہے، کسی عربی کو عجمی پر او ر کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اورنہ کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو کسی گورے پر فضیلت حاصل ہے، سوائے تقویٰ اور پرہیز گاری کے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔

حضرت علی ہجویری و امام غزالی کی نظر میں عدل کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے۔ سید سلیمان ندوی اس کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ جو بات ہم کہیں یا جو کام کریں اس میں سچائی کی میزان کسی طرف جھکنے نہ پائے سید ابو ا لاعلیٰ مودودی کی نظر میں عدل کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے: ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن و تناسب قائم ہو، دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقے سے دیا جائے اللہ واحد لا شریک اس بات پر شاہد ہے۔

کہ اس نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو اس جہاں میں منصف ِاعلی بنا کر بھیجا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام بہت جلد عام لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ ورنہ آپ سے قبل دنیائے عرب جہالت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں تھی۔ ہر طرف ظلم و ستم کا دور دورہ تھا۔ حقیقی انصاف نام کی چیز دنیا سے ناپید تھی۔ حالانکہ عدل و انصاف کرنا سب سے مقدم اور اہم فریضہ ہے اس لیے کہ عدل و انصاف کے بغیر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور نہ انسانی حقوق کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔ اس لئے آپ نے عدل و انصاف کو قائم کرنے کا حکم دیا۔

قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں پکڑی گئی، وہ ایک امیر گھرانے کی خاتون تھی سردارانِ قریش نے حضرت اسامہ کو بارگاہِ رسالت میں سفارش کے لئے بھیجا جنہیں آپ بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ حضور ا قبیلہ کی عزت کا خیال کرتے ہوئے یقینا سزا میں تخفیف کر دیں گے۔

اس کے بر عکس جب اپ نے حضرت اسامہ کی بات سنی تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا؛

تم سے پہلی قومیں اسی لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب اُن میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے لیکن جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ الله کی قسم! محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا (صحیح بخاری ومسلم) یہ ہی تو ہے انصاف کا وہ عالی قدر نمونہ کہ اگر مجرم اپنی اولاد بھی ہو تو اسے معاف نہ کیا جائے! اس کے علاوہ حضور کی زبان سے قرآن میں کہلایا گیا ہے : کہو ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں (سورة شوریٰ : ۱۵) دنیا میں کوئی عادل ایسا نہیں ہو گا جس کے عدل کی گواہی خود خالق کائنات نے دی ہو۔ یہ بات بھی آپ کی اس صفت کو اور ٹھوس بناتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ کافروں کو بھی آپ پر پورا اعتماد تھا۔

جب کوئی مظلوم کسی حاکم، قاضی یا جج کے سامنے کوئی فریاد لے کر جائے تو بغیر سفارش کے اور بغیر رشوت کے اُسے انصاف مل سکے۔ کسی شخص کی غربت یا معاشرے میں اس کی کم زور حیثیت حصول انصاف کے لیے اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور نہ یہ ہوکہ کوئی شخص اپنے منصب یا دولت کی وجہ سے انصاف پر اثر انداز ہوسکے۔ اسلام میں قاضی کو یہ مقام اور حق حاصل ہے کہ وہ حاکم وقت کو بھی بلواکر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرسکتا ہے۔ قانونی عدل کے متعلق سورۃ النساء میں ارشاد ہوا اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔

لیکن آج اگر ہم اپنے اردگرد اپنی عدالتوں کو دیکھیں انصاف کہاں ہے عدل کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں ہے جس کے پاس دولت ہے وہ کچھ بھی کریں کچھ بھی ، کوئی اس کے گریبان تک ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور کوئی غریب آدمی ایک چھوٹی سی بھی غلطی کر لیں تو اس کو سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے وسائل رزق اور معیشت پر چند افراد کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ معاش کی راہیں سب کے لیے یکساں طور پر کھلی ہوں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ:
تاکہ دولت تمہارے امیروں کے درمیان ہی نہ رہے۔

آج کے دور میں جو امیر ہے وہ امیر سے امیر تر ہو رہا ہیں اور جو غریب ہے وہ غریب سے غریب تر
کچھ چہرے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں لیکن ہم لوگ بے حسی کی چادر اڑئے اپنی ہی دنیا میں گھوم ہے روپے پیسے کی گردش روک سی گئی ہیں ہمارے سیاست سے تعلق رکھنے والے جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ووٹ لینا اور کرسی پر بیٹھنا ہی رہ گیا ہے تو وہ یہ جان لے کہ دنیا فانی ہے ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور جواب دینا یے تو کیوں نہ اس کے بتائے ہوئے طریقے پر چلا جائےاور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوارا جائے اس سلسلے میں انفرادی یا اجتماعی اختلاف اور دشمنی کو ختم کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا: اور کسی قوم کی عداوت تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی کرنے لگو، عدل کرو یہی پرہیز گاری کے قریب ترین ہے۔

ہمارے آس پاس عادل کھو سا گیا ہے کئی بھی انصاف نہیں ہے حقیقت سے نگاہیں چورا کر ہم اپنے ہی مستقبل کو تاریک بنا رہےہیں اسلام میں ایک کا فرض دوسرے کا حق اور دوسرے فرض پہلے والے کا حق ہے جس سے عادل وانصاف کا چکر چلتا ہی رہتا ہے لیکن ہم ہر احساس سے آری ہو گئے ہیں ہم لوگ صرف اپنے مفاد پر نظریں جمائیں ہوئے ہیں چاہے ہمارا مفاد تنکے برابر کیوں نہ ہو اور اس مفاد کی وجہ سے کسی کا نقصان پہاڑ کے برابر ہی کیوں نہ ہو ہم نے اپنے رب تعالی کی باتیں جو انھوں نے قرآن کے ذریعے ہم کو دی بھول چکے ہیں ہم لوگ اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد کی باتیں جو انھوں نے اپنے حدیث قول اور فعل سے ہم کو بتائی سمجھائی ہم سب کچھ ہی فراموش کر چکے ہیں۔

عادل وانصاف ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے کہ اگر ہم اس قلعے میں قدم رکھ دے تو معاشرے میں، ہمارے اردگرد ، ملک میں یہاں تک کہ پوری دنیا میں عدل وانصاف کی فضا قائم ہو جائے گی تو کیوں نہ ہم سب مل کر اپنے قدم اس مثبت رہ کی طرف اٹھائے ہم لوگ پہل کریں گے تو ہی دیکھا دیکھ لوگ ہمارے ساتھ چلے گے یہ ایک چھوٹے سے قافلے سے کارواں بنے گا جس سے ہمارا ہی مستقبل روشن ہو گا اور آخرت میں ہر طرف ہمارے لیے ہی نور کی بارش ہو گی ہم کسی اور کے لیے نہیں یہ سب کر رہے بلکہ آپنے لیے اپنی ذات کے لیے ہی یہ سب کریں گے اور ہر انسان اپنے لیے کچھ نہ کچھ تو کرتا ہی ہے سوچیں۔۔۔! ۔۔۔۔ فائدہ ہمارا ہی ہے

kehkashan sabir

kehkashan sabir

تحریر: کہکشاں صابر