کو یہ مژدہ مِلا کہ ایک اور وردی پوش مسیحا نازل ہوچکا ہے۔ پانچ جولائی کی رات کو تو کوئی نہیں مرا لیکن آئندہ گیارہ برسوں میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ پھانسی گھاٹوں پر، ٹھوڑی پھاٹک پر ، بوہری بازار میں، اوجھڑی کیمپ میں، طالبِ علم، مزدور، سیاسی کارکن اور کئی جوگھر سے بازار صرف دودھ خریدنے آئے تھےاور سینکڑوں ایسے تھے جو فوج کے عقوبت خانوں میں سالہاسال موت کی دعا مانگتے رہے۔ ملک کی جان اس وقت چھوٹی جب مردِ مومن و مردِ حق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے۔ اناللہِ واِناعلیہِ راجعون۔ جنرل ضیاء کے انتقال کے تیئیس سال بعد پاکستانی قوم میں بڑا تفرقہ ہے۔ ’بےغیرت گروپ‘ ’غیرت بریگیڈ‘ سے نبرد آزما ہے۔ بلوچ بندوقیں اٹھائے پہاڑوں پر جا بیٹھے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ایک بار پھر زیادتی کرو توہم تمہیں بتاتے ہیں۔ ملک کے طول و عرض پر پھیلے سینکڑوں لشکر ’نصرمن اللہِ و الفتح قریب‘ کی بشارت دیتے ہیں۔ امریکا کی عمر رسیدہ رکھیلیں طلاق کی بھی دعوے دار ہیں اور اس بات سے بھی انکاری ہیں کہ کبھی نکاح ہوا تھا۔ نسل در نسل امریکی مفادات کی دلاّلی کرنے والے اس بات پر گھتم گھتا ہیں کہ کمیشن کم کر دیا جائے یا پرانی تنخواہ پر کام کیا جائے۔ اور تو اور آئی ایس آئی چلانے والے اللہ کے پراسرار بندے بھی پارلیمنٹ کے دروازے بند کر کے کہتے ہیں کہ ’پتہ نہیں ہم کیا کرتے پھر رہے ہیں‘۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔ لیکن مذ کورہ بالاگروہوں میں ایک بات پراتفاق ہے کہ جنرل ضیا اور ان کا گیارہ سالہ دور حکومتِ پاکستان کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔ جو زہریلے بیج اس دور میں بوئے گئے تھے وہ تن آور درخت بن چکے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق کا کوئی لے پالک سیاستدان، فوج کا کوئی ریٹائرڈ یا حاضرسروس جنرل شاہ فیصل مسجد کے صحن میں اس کے مزار پر سینہ ٹھونک کر نہیں کہتا کہ وہ ضیاءالحق کے مشن کی تکمیل کرےگا۔ ضیاء دور کے درس پڑھ کر بڑے ہونے والے ٹی وی اینکرز بھی یہ نہیں کہتے پائےجاتے کہ کاش اگر جنرل ضیاء حیات ہوتےتو ہم یوں راندہءِ درگاہ نہ ہوتے۔









