yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • فرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغازفرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغاز
    • فرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولیوں سے دماغی ٹیومر کے خطرے کی وارننگ جاریفرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولیوں سے دماغی ٹیومر کے خطرے کی وارننگ جاری
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغازفرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغاز
    • سعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے حوثیوں پر فوجی کارروائی کی درخواست، امریکہ نے دو ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود انکار کر دیاسعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے حوثیوں پر فوجی کارروائی کی درخواست، امریکہ نے دو ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود انکار کر دیا
    شوبز
    • آسٹریلیا میں دریافت ہونے والے نئے کیڑوں کی نسل کا نام ٹیلر سوئفٹ کے نام پر رکھا گیاآسٹریلیا میں دریافت ہونے والے نئے کیڑوں کی نسل کا نام ٹیلر سوئفٹ کے نام پر رکھا گیا
    • وینس فلم فیسٹیول میں دستاویزی فلم “نازا” کی نمائش، اسرائیلی افسران کا غزہ میں شہریوں کے قتل عام کا چونکا دینے والا انکشافوینس فلم فیسٹیول میں دستاویزی فلم “نازا” کی نمائش، اسرائیلی افسران کا غزہ میں شہریوں کے قتل عام کا چونکا دینے والا انکشاف
    مقامی خبریں
    • لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے اور امتحانات منسوخ کرنے پر پابندیلاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے اور امتحانات منسوخ کرنے پر پابندی
    • پاکستان اور ہانگ کانگ میں تجارتی و سرمایہ کاری فروغ پر تاریخی اتفاق، نئے اقتصادی مواقع کی راہ ہموارپاکستان اور ہانگ کانگ میں تجارتی و سرمایہ کاری فروغ پر تاریخی اتفاق، نئے اقتصادی مواقع کی راہ ہموار
    کاروبار
    • مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دوسرے روز بھی برقرارمشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دوسرے روز بھی برقرار
    • پاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلانپاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلان
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

سوال یہ ہے کہ

Yes 1 Webmaster December 30, 2014 1 min read
Prof Riffat Mazhar
Share this:
 Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسر مظہر
سانحہ پشاور پر احتجاج دم توڑرہاہے ،سردراتوں میں چوراہوںپر معصوم پھولوں اور کلیوں کی یاد میں جلائی جانے والی شمعیںبھی بجھ چکیں۔ الیکٹرانک میڈیاحسبِ سابق سب کچھ بھلاکر اپنی پرانی ڈگر پرلوٹ آیا۔ وہی ریٹنگ کی جنگ، وہی چائے کی پیالی میں طوفان اوروہی مزاحیہ پروگرام جن میں ہزل گوئی ،پھکڑپَن ،جگت بازی اور ذومعنی جملوںکی بھرمار۔ لیکن اندھیری راتوںمیں بندکواڑوںکے پیچھے بے کل ماؤں کی سسکیاں اب بھی راتوں کا سکوت توڑرہی ہیں،اُن کی اُجڑتی کو کھیں اب بھی نوحہ کناںاور گھر گھرمیں صفِ ماتم۔ ہم اِس سولہ دسمبر کو اُسی طرح بھولتے جارہے ہیں جس طرح سولہ دسمبر 71ء کو بھول چکے۔

تب توہماراپڑوسی دشمنی نبھانے کے لیے ہمارے سامنے تھا اورسقوطِ ڈھاکہ کے بعد اندراگاندھی نے بڑے فخرسے کہہ بھی دیا ”ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج ِ بنگال میںڈبودیا”۔معاملہ اب بھی وہی درپیش ،ملکی سلامتی داؤ پرلیکن اب کی باردشمن خارجی نہیں ،داخلی ہے اورہم اسے پہچانتے بھی نہیں ۔کوئی نہیںجانتا کہ اُس کے ساتھ بیٹھاشخص محبِ وطن ہے یادہشت گرد ۔جس کی شناخت ممکن ہے اُس پر ہاتھ ڈالنے کی کسی میں ہمت ہے نہ سکت ۔کوئی حکمرانوںسے یہ سوال کرنے کی جرأت بھی نہیںکرتاکہ افلاس کے مہیب سایوںمیںاُن دَس لاکھ سے زائد زبردستی کے مہمانوں(افغان مہاجرین) کو اُن کے گھروںمیں کیوںنہیں بھیجاجاتا؟۔ قوم نہیں جانتی کہ پچاس لاکھ سے زائد ازبک ،چیچن ،تاجک ،سومالین، نائجیرین، سوڈانی، برمی، بنگلہ دیشی اور آذربائیجانی آسمان سے گرے یا زمین سے اُگے۔

اگر سرحد پارکرکے آئے توہماری تین درجن خفیہ ایجنسیاں کس مرض کی دواہیں اوراُن پر اربوںروپیہ کیوں صرف کیا جارہاہے؟۔کوئی بتلائے توسہی کہ CIA کے ہزاروںایجنٹوں کو بنا کسی تصدیق کے کس نے ویزے جاری کیے اوردہشت گردوںکو جدیدترین ہتھیاراور بارودکے ڈھیر فراہم کرنے والے کون ہیں؟۔اورہاں وہ جو میموگیٹ سکینڈل پرہمارے وزیرِاعظم خود کالاکوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے تھے ،اُس سکینڈل کو بحرِہند میں غرق کیا یا بحرِ عرب میں؟۔ باتیں بہت کہ یہاںتو ”قدم قدم پہ ہے جائے نالہ وفریاد” لیکن چلیں یہ سب کچھ یہیںچھوڑ کر آگے بڑھتے ہیںکہ ہمارے سپہ سالارنے کہا ”ماضی کو چھوڑیں ،آگے بڑھیں”۔سوال مگریہ کہ آگے بڑھیں توکیسے؟۔

یہ بجاکہ ہمارے پُرعزم سپہ سالارآپریشن ضربِ عضب میں بے مثل کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں اوریہ یقین کہ انشاء اللہ عنقریب وہ وزیرستان سے دہشت گردوںکا مکمل صفایا کردیںگے لیکن بصدادب گزارش ہے کہ یہ ناسورتو وطنِ عزیزکی نَس نَس میں سماچکا،اِس گلتے ناسور کی بُوسے تو وطنِ عزیزکی فضائیں مسموم ہوچکیں ۔اِس ناسورکی جراحی کون کریگا؟۔

سیاسی اورعسکری قیادت نے متفقہ طورپر بیس نکاتی ایکشن پلان کی منظوری دے دی لیکن کیایہ بھی سوچاکہ اِس پرعمل درآمد کیسے ممکن ہے ؟۔وزیرِاعظم صاحب نے توانا آوازمیں دہشت گردوںکو منطقی انجام تک پہنچانے کاعزم کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آپریشن ضربِ عضب افواجِ پاکستان فاٹا میں کررہی ہیں ،دوسرا آپریشن ضربِ عضب ہم پورے ملک میں کریںگے ۔ہمیں وزیرِاعظم صاحب کی نیت پر کوئی شک ہے نہ عزمِ صمیم پرلیکن راستہ اتناطویل ،کٹھن اور پُرخارہے کہ سوچتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہے ۔ طالبان نامی دہشت گردوںکے خلاف تو آپریشن کامیابی سے جاری ہے لیکن یہاںتو کئی قسم کی دہشت گردی کاسامناہے ۔

جن مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اپنے عسکری ونگز بنارکھے ہیںکیا وہ دہشت گرد نہیں ؟۔کیانفرت انگیزلٹر یچر چھاپنے اور فرقہ واریت کو ہوادے کر فسادات کروانے والے دہشت گردنہیں؟۔ کیا ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری دہشت گردی نہیں؟۔ دین میں شدت کاعنصر داخل کرنے والے تودہشت گردہیں ہی لیکن کیا فسطائیت کا دفاع کرنے والے ”لبرل”دہشت گرد نہیں ؟۔کیا نیوز چینلز پر بیٹھ کر اللہ اور اُس کے رسولۖ کے احکامات کی صریحاََخلاف ورزی کادرس دے کر قوم کے جذبات بھڑکانے والے دہشت گرد نہیں؟۔ ”پنبہ کجا کجانہم”کے مصداق وزیرِاعظم صاحب کِس کِس کے گردشکنجہ کسیں گے۔

سبھی جانتے ہیں کہ کچھ مذہبی اور سیاسی جماعتوںنے اپنے اپنے عسکری ونگ بنا رکھے ہیں اور انہی سیاسی جماعتوںپر ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری جیسے الزامات بھی لگتے رہتے ہیں ۔کیا مرکزی حکومت کراچی سمیت پورے ملک میں بلاامتیاز کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

غیرملکی فنڈنگ پرپلنے والی سیکولرنظریات کی حامل NGO’s ہمیشہ بلندآہنگ سے دینی ومذہبی جماعتوں کے خلاف زہراُگلتی رہتی ہیںکیونکہ اُنہیںفنڈنگ ہی منافرت پھیلانے کی ملتی ہے ۔دوسری طرف مذہبی جماعتیں بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتی رہتی ہیں جس کی بناپر تصادم کی فضاپیدا ہوتی ہے ۔کیاحکومت اِن NGO’s پر ہاتھ ڈال سکتی ہے؟۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ دینی مدارس کی غالب اکثریت میں صرف دینی تعلیم ہی دی جاتی ہے لیکن کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جودہشت گردوں کی تربیت گا ہیں اور پناہ گاہیں ہیں۔ کیا حکومت تمام دینی مدارس کو آئین وقانون کے دائرے میںلانے کی ہمت رکھتی ہے ؟۔ہم تو صرف دعاہی کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرکزی اور صوبائی حکومتوںکو عزمِ صمیم کی دولت سے مالامال کرے لیکن یہ کام اگر ناممکن نہیںتو انتہائی مشکل ضرورہے اور اسے تووہی پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتاہے جوحضرت خالدبِن ولید کی طرح سفینے جلانے کی ہمت رکھتاہو۔

وزیرِاعظم صاحب کے متواتر بیانات سے یقین ہوچلاہے کہ اب اُن میںکچھ کرگزرنے کی اُمنگ جوان ہے،یہ الگ بات کہ کچھ لکھاری اب بھی یہ ماننے کو تیارنہیں ۔شایدیہ بغضِ معاویہ ہی ہے کہ ایک لکھاری میاںصاحب کے بارے میںفرماتے ہیں”یہ صلح جو روحیںہیں جو صرف مذاکرات اورامن کی راگنی ہی چھیڑسکتی ہیں اور اگر فعالیت کامرحلہ درپیش ہوتو کُل جماعتی کانفرنس کی ڈھال کے پیچھے پناہ کا آپشن موجودرہتاہے ۔۔۔جب میں ایم این اے تھا اور مجھے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں شرکت کرناہوتی تھی تو وہاں یہی نغمہ گونجتاتھا کہ ”میاںصاحب ! اٹھارہ کروڑ افرادآپ کے منتظرہیں ۔۔

توشام کو مجھے مُنہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کی عمدہ ترین مصنوعات میں سے ایک کی ضرورت پڑتی تھی ۔وزیرِاعظم ہاؤس میں گزارے ہوئے ایک دِن میں پتہ نہیں جرنیل صاحبان نے مُنہ کا ذائقہ کیسے بدلا ہوگا”۔عرض ہے کہ لکھاری موصوف کوشام توکیا ،ہر وقت ہی اسکاٹ لینڈکی عمدہ ترین مصنوعات میںسے ایک کی ضرورت پڑتی رہتی ہے لیکن لکھاری موصوف خاطرجمع رکھیں ہمارے جرنیل صاحبان کومُنہ کا ذائقہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہیںہوتی۔

ویسے جس ”شے”سے موصوف مُنہ کا ذائقہ بدلتے رہتے ہیں اُس سے بندہ ایسے ہی مخبوط الحواس ہوجاتاہے جیسے ہمارے یہ” عظیم لکھاری”آجکل ہوچکے ہیں۔ ویسے اگرمحترم لکھاری نوازلیگ کی پالیسیوں سے اتنے ہی نالاںتھے تو 2013ء کے الیکشن میں میاںبرادران سے ٹکٹ کی بھیک کیوں مانگتے رہے اور جب ایم این اے تھے تواپنی غیرت و حمیت کو مہمیز دیتے ہوئے مستعفی کیوں نہیں ہوئے؟۔

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Tharparkar
Previous Post تھر میں غذائی قلت کے شکار مزید 3 بچے دم توڑ گئے
Next Post ملائیشین طیارے کی تلاش جاری، انڈونیشین جزیرے میں دھواں اٹھنے کی اطلاعات
Search Malaysian Aircraft

Related Posts

فرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغاز

فرانس میں سائبر حملوں کے بعد ٹیکس حکام کے دفاتر کا ڈیٹا واچ ڈاگ معائنہ، تحقیقات کا آغاز

September 11, 2026
فرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولیوں سے دماغی ٹیومر کے خطرے کی وارننگ جاری

فرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولیوں سے دماغی ٹیومر کے خطرے کی وارننگ جاری

September 11, 2026
آسٹریلیا میں دریافت ہونے والے نئے کیڑوں کی نسل کا نام ٹیلر سوئفٹ کے نام پر رکھا گیا

آسٹریلیا میں دریافت ہونے والے نئے کیڑوں کی نسل کا نام ٹیلر سوئفٹ کے نام پر رکھا گیا

September 11, 2026
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے اور امتحانات منسوخ کرنے پر پابندی

لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے اور امتحانات منسوخ کرنے پر پابندی

September 11, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.