counter easy hit

تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت تاپی گیس منصوبے سے 2020ء تک گیس ملنی شروع ہوجائے گی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت تاپی گیس منصوبے سے 2020ء تک گیس ملنی شروع ہوجائے گی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

Gas will start meet till 2020 with Tajikistan, Afghanistan, Pakistan and India Tapi Gas Project, Prime Minister Shahid Khaqan Abbasiاسلام آباد: (اصغر علی مبارک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران تیل اور گیس کے ایک سو سولہ ذخائر دریافت کئے گئےوزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں تیل اور گیس کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں گیس کی کمی کے مسئلے پر قابو پالیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک میں تمام صارفین کو کم قیمت اور وافر مقدار میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں مائع قدرتی گیس کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کررہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گیس سے سستی بجلی پیدا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اربوں ڈالر کی بچت میں مدد مل رہی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ گیس کی مناسب دستیابی کے نتیجے میں ہم نے گزشتہ سال چھ لاکھ ٹن کھاد برآمد کی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے روس اور چین کے تعاون سے شمالی جنوبی پائپ لائن بچھانے کیلئے بھی انتظامات کرلئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک شفاف نظام کے تحت بیس لاکھ نئے گیس کنکشنز فراہم کئے گئے۔تاجکستان ، افغانستان ، پاکستان اور بھارت (تاپی منصوبے) کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ اس اہم منصوبے پر کام جاری ہے اور 2020ء تک اس منصوبے سے گیس ملنی شروع ہو جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نے 2013ء میں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج تحت صوبوں کو تیس ارب روپے فراہم کئے جبکہ گزشتہ سال اسی مد میں صوبوں کو 73 ارب روپے دیئے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور کے قریب تین لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی استعداد کار کا حامل ملک کا دوسرا کارخانہ قائم کیا جائے گا جس پر چھ سے سات ارب روپے لاگت آئے گی۔ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قطر کے ساتھ گیس کی درآمد کا دنیا کے کم ترین نرخ کا معاہدہ کیا ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں تیل درآمد کرنے والے بیشتر ملکوں سے کم ہیں۔وزیراعظم نے ایل پی جی کے حوالے سے کہا کہ موجودہ حکومت میں اس کی پیداوار میں سو فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کے ایئر مکس پلانٹس ان علاقوں میں لگائے جا رہے ہیں جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک میں معیاری ڈیزل اور پٹرول متعارف کرایا جو ناصرف ماحول دوست اور گاڑیوں کیلئے سازگار ہیں بلکہ سستے بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔وزیراعظم عباسی نے کہا کہ تیل صاف کرنے کے نئے کارخانوں کے علاوہ کراچی میں تیل صاف کرنے کے موجودہ کارخانوں کی صلاحیت پچاس ہزار سے ایک لاکھ بیرل تک بڑھائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پارکو کی ساحلی ریفائنری پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے تین سال میں مکمل کی جائے گی یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی کارخانہ ہوگا۔