counter easy hit

سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے تفتیشی افسر کے پول کھول دینے والے انکشافات

Disclosure reveals the opening officer of investigative officer of compromise express case
لاہور(ویب ڈیسک) سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارتی دہشت گردی کے شکار خاندانوں کے اسلام آباد میں مظاہرے نے ہیمنت کر کرے جیسے انڈین پولیس سروس کے غیر متعصب وکاش نارائین رائے کی یاد کرا دی‘ جنہیں سمجھوتہ ایکسپریس کی تباہی کے تیسرے دن ہریانہ حکومت نے سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کا سربراہ مقرر کرتے ہوئے نامور کالم نگار منیراحمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تفتیش ان کے سپر دکی تھی۔ 2012ء میں پولیس سروس مکمل کرکے ریٹائر ہو نے والے وکاش رائے کہتے ہیں : ہریانہ پولیس کے پاس اندور کے انتہا پسند ہندو گروپ کے خلاف سمجھوتہ ایکسپریس کو بم دھماکوں سے اڑانے کے اس قدر ثبوت ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی عدالت اس کے ملزمان کو سزا دیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وکاش رائے کہنے لگے: مجھے اس وقت شدید جھٹکا لگا ‘جب سنا کہ عدالت نے سمجھوتہ کے تمام ملزمان کو اس مقدمے میں بری کر دیا ہے ۔وکاش نارائین نے غصے سے سر کو جھٹکتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی پولیس افسر کی توہین اور ندامت کا باعث ہوتا ہے کہ اس کے تلاش کئے گئے ثبوتوں کے ہوتے ہوئے کوئی مجرم سزا پانے سے بچ جائے۔رائے کہتے ہیں کہ میرے لیے یہ خبر ابھی تک نا قابل یقین ہے ‘کیونکہ SIT کا سربراہ ہوتے ہوئے میرے پاس آج بھی ان سب کے مجرم ہونے کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ 1977 ء میں انڈین پولیس سروس کا حصہ بننے والے وکاش رائے کے مطابق؛ سمجھوتہ ایکسپریس سے ملنے والے دوسرے سوٹ کیس میں فکس کئے بم کو ناکارہ بنانے کے بعد ہم نے اس میں موجود تمام اشیا ء کا غور سے معائنہ شروع کیا تو اس کے اندر موجو د اجزا کے مینو فیکچرز کے ذریعے ہم جان گئے کہ بم دھماکوں کے لیے تمام سامان راشٹریہ سیوک سنگھ کے انتہا پسندوں نے اندور سے خرید اہے‘ جس کی مکمل تفصیلات ہماری تفتیش کا حصہ بن چکی ہیں۔وکاش رائے کہتے ہیں کہ سمجھوتہ ٹرین سے ملنے والے سوٹ کیس سے ہماری تفتیش اندور میں آر ایس ایس کے سنیل جوشی اور اس کے دو ساتھیوں تک جا پہنچی ‘لیکن جیسے ہی ہم ہریانہ سے جوشی کی گرفتاری کے لیے روانہ ہوئے اسے پر اسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا‘ جبکہ اس کے دو ساتھی kalsangre اورAngre آج تک بظاہر مفرور چلے آ رہے ہیں اور آج بارہ برس بعد بھی ان کے بارے کچھ پتا نہیں چل رہا کہ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان…؟ 20 جون 2011 ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے آٹھ ملزمان سوامی سیما نند عرف کمار سرکار‘ لاکیش شرما‘ کمال چوہان‘ راجندر چوہدری ‘ امیت اور دو مفرور ملزمان سندیپ ڈانگے اور رام چندر کے خلاف پنچ کلا ہریانہ کی عدالت میں فرد جرم عائد کی ۔چھ مارچ 2019ء کو بھارت کی دہشت گردی کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پہلے 13 پاکستانیوں کو بطور ِگواہ طلب کرنے کے احکامات جاری کئے‘ لیکن بھارتی ہائی کمیشن نے انہیں ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی دوران سمجھوتہ ایکسپریس میں شہید ہونے والے ایک پاکستانی مسافر کی بیٹی نے بھارت سرکار اور عدالت کو خط لکھا کہ وہ اپنے باپ کے قتل کیس میں عدالت سے کچھ کہنا چاہتی ہے‘ لیکن کسی نے بھی اس کی پکار نہ سنی اور جیسے ہی پلوامہ کے خود کش دھماکے میں CRPF کے چالیس اہلکار ہلاک ہوئے‘ اس کے چند دنوںبعد سمجھوتہ ایکسپریس کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا اور ” Travesty ofJustice‘‘ دیکھئے کہ اس مقدمے کے299 گواہ جو پولیس کو بیانات ریکارڈ کروا چکے تھے ‘جیسے ہی اس کی تفتیش اے ٹی ایس ممبئی سے NIA کے پاس آئی تو یہ سب عدالت کے سامنے اپنے اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے‘ جبکہ سوامی سیمی نند اے ٹی ایس ممبئی اور میڈیا کے سامنے اقرار کر چکا تھا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے اجمیر شریف‘ مالیگائوں‘ مکہ مسجد میں بھی بم دھماکے کئے ہیں۔ وکاش رائے کہتے ہیں کہ انہیں مالیگائوں بم دھماکے کے پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالین نے بتایا کہ NIA اس پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ان ملزمان کے بارے عدالت میں نرم او دوستانہ رویہ اپنائیں۔ وکاش رائے کے مطا بق ؛بھارت کے انتہائی سینئر بیو روکریٹس الزام لگاتے ہیں کہNIA کے سربراہ شرد کمار کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہی اسی لیے کی گئی تھی ‘تاکہ وہ2006 ء سے2008ء تک بھارت میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہیمنت کر کرے اور اس کے ساتھی پولیس افسران کے تفتیشی ریکارڈ کو ضائع کرتے ہوئے وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے لوگوں کو سزا سے بچا سکے۔18 فروری 2007ء کودہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی دو بوگیوں میں سوار69مسافروں کی شہا دت کے اگلے روز ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے بھارت نے سلیم نامی ایک شخص کا تصویری خاکہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میںملوث تھا‘ لیکن وقوعہ سے کوئی بیس دن بعد سات مارچ کو بھارت کے ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ نے سب کو چونکا دیا کہ سلیم نامی جس شخص کا بھارتی ایجنسیوں نے تصویری خاکہ جاری کیا ہے‘ وہ تو آئی بی کا سکہ بند مخبر تھا‘ جسے فوت ہوئے تین سال گزر چکے ہیں ۔یہ خبر سامنے آتے ہی ملکی اور بین الاقوامی میڈیا سلیم کی رہائش گاہ پر پل پڑا ‘جہاں اس کی بیوہ نجمہ نے یہ بتا کر سب کو چونکا دیا کہ اس کا خاوند تو سمجھوتہ کی تباہی سے تین برس قبل2004 ء میں انتقال کر چکا ہے اور ثبوت میں اس نے اپنے مرحوم خاوند کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور اس کی قبر کی نشاندہی کرا دی ۔ جونہی بین الاقوامی میڈیا کے نجمہ سے رابطہ کی خبریں عام ہوئیں ‘تو اسی رات بھارت کی خفیہ ایجنسی نے اپنے اس مخبر کی بیوہ نجمہ کو نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔ سب جان چکے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تباہی پر بھارت کے پاکستان کے خلاف تمام الزامات سوائے جھوٹ کے پلندہ کے کچھ نہیں تھے اور69 بے گناہ مسلمان مسافروں کی قاتل دہشت گرد تنظیم Abhinav Bharatاور آر ایس ایس اس میں ملوث تھی اور اس تنظیم کے لیڈر کرنل پروہت نے بھارتی فوج کے ایمونیشن ڈپو سے ایک دو نہیں ‘بلکہ 60کلوRDX سمجھوتہ ایکسپریس کی سولہ بوگیاں تباہ کرنے کے لیے بھارتی دہشت گردوں کو مہیا کیا ۔وہ تو خوش قسمتی کہ دوسرے رکھے گئے بم پھٹ نہ سکے‘ جنہیں بعد میں بم ڈسپوزل نے نا کارہ بنا یا ۔ان بموں اورRDX کے لیے دو سوٹ کیس اندور مدھیہ پردیش کی کوتھاری مارکیٹ سے خریدے گئے اوراسی مارکیٹ سے کپڑا خریدنے کے بعد وہاں کے دو درزیوں سے ان سوٹ کیسز کے کور سلائے کئے۔ اندور کے ہی نیا بازار سے بم دھماکوں کے لیے بیٹریاں‘ پلاسٹک کی بوتلیں‘ پلاسٹک بیگ اور الیکٹرانک سامان خریدا گیا۔ وکاش رائے کی قیا دت میں SIT اندور پہنچی اور تمام سامان خریدنے والوں کی کوتھاری مارکیٹ کی راگھو نندن اٹیچی سٹور جہاں سے یہ سوٹ کیس خریدے گئے ‘ ملزمان کی نشاندہی کی۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹرین دیونہ ریلوے سٹیشن کو کراس کرتے ہوئے پانی پت کی جانب جا ر ہی تھی اور اس ٹرین کے ”دو مسافروں‘‘ کو بھارت کی ریلوے پولیس نے دیونہ سے دومیل پیچھے اتار دیا تھا۔ایڈیشنل کمشنر پولیس وکاش رائے نےTHE WIRE سے گفتگو میں کہا: مہاراشٹر جہاں اس وقت کانگریس اور اتحادیوں کی حکومت تھی‘وہاں مجھے تین چار مرتبہ سمجھوتہ سمیت دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا‘ جہاں ہمیں یہی کہا جاتا رہا کہ ان سب کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا ہے۔ سابق پولیس افسر وکاش رائے اور دی وائر کا رپورٹر اجے آشیر واد مہاپرشست آج بھی ہریانہ میں موجود ہیں اور یہ انٹرویو20 مارچ 2019ء کو ریکارڈ کیا گیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website