counter easy hit

جمہوریت پسند عوام

Democratic People

Democratic People

جنگ عظیم اول میں جنگ بندی کے باوجود برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے یونان کو ترکی پر حملے کا اشارہ دیا تو ترکی فوجی چیف نے ملک کا کامیاب دفاع کیا ،اور بھرپور عوامی حمایت حاصل ہونے پر 1299کو قائم ہونے والی خلافت عثمانیہ کو 1922میں ختم کر دیا ترکی صدیوں تک مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا مرکز رہا جب فوجی چیف مصطفیٰ کمال نے اقتدارسنبھالا تو خلافت کا خاتمہ کر کے ہر قسم کی مذہبی شناخت پر پابندی لگادی اور ترکی کو سیکولر سٹیٹ بنا دیا اور یوں ترکی مذہبی بادشاہت سے سیکولر ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا،ترکی کی مسلح افواج نے چوتھی بار حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ،1960میں وزیر اعظم عدنان میندرس کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا جنہوں نے ملک میں اسلامی شعار کے خلاف بے جا پابندیوں کو ہٹایا اور سیکولر کی ایک الگ تشریح کی کوشش کی، فوج نے نہ صرف اسے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا بلکہ موت کے پھندے تک لے گئے ،1980میں ایک بار پھر فوج نے اقتدار پر قبضہ کی کوشش کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ،بعدازاں کئی افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ،حالیہ فوجی بغاوت نے 56سالہ تاریخی یاد تازہ کر دی مگر اس بار ترک صدر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ترک عوام نے جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ،مسلسل تیسری مرتبہ حکومت بنانے والے رجب اردگان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسی اچھی نہیں ہیں ،شام اور مشرق وسطیٰ کے بارے جو پالیسی بنا رکھی ہیں وہ ناقابل قبول ہے ایک بڑی وجہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت ختم کرکے صدارتی نظام متعارف کرانے کے عوامل زیر بحث ہیں ،ترکی کے وزیر انصاف کے مطابق بغاوت کرنے والے گروپ کا تعلق فتح اللہ گولن سے ہے فتح اللہ گولن ایک معروف مذہبی رہنما ہے اپنی سوچ اور نظریہ رکھتے ہوئے ملک بھر میں ان کے مدارس اپنا کام کر رہے ہیں ان کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور وہ خود آج کل پنسیلونیا میں مقیم ہیں فتح اللہ گولن سے متاثر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد فوج میں بھی موجود ہے اب تک جتنے بھی افراد نے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی ہے ان کا الزام فتح اللہ گولن پر ہے ،حالیہ فوجی بغاوت کو ترک عوام نے کچل کر رکھ دیا جمہوریت پسند عوام نے ثابت کردیا کہ اپنے حقوق کو کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے حالیہ فوجی بغاوت میں جب باغیوں نے جمہوریت کی بساط لپیٹنے اور اقتدار پر قبضہ کی کوشش کی گئی تو سرکاری ٹی وی پر قبضے کے بعد باغیوں نے صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردیا ،انقرہ اور استنبول میں جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹر کی نچلی پروازیں شروع ہوگئیں ،باغی فوجیوں کے حرکت میں آنے کے بعد مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے اعلانات کئے گئے کہ حکومت کا تختہ الٹنے والوں کو راستہ روکا جائے مساجد میں حکومت اور صدر کی سلامتی کی دعائیں کی جانے لگیں ،ترک عوام اپنے حکمران کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دارالحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے زوردار دھماکے گن شپ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کے باوجود ترک عوام سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے اسی کشمکش میں 150سے زائد افراد لقمہ اجل بنے سینکڑوں زخمی ہوئے ،آخر وجہ کیا ہے کہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ترک صدر عوام میں مقبول ہوتے چلے جارہے ہیں اردگان سے عوام کی محبت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں ترکی سولہویں اقتصادی قوت بنایا عوام کو ریلیف دینے والے طیب اردگان عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ فوج کی اقتدار پسندی کے خلاف کام کیا ،بھرپور عوامی حمایت کے حامل ترک صدر کا مغربی ذرائع ابلاغ بھی کچھ نہ بگاڑ سکے عوام نے ان کے اس پر اپیگنڈے پر کان نہ دھرے عوامی حمایت کے ساتھ فوج اور تمام اداروں کو اپنی اپنی اوقات میں رہنے پر مجبور کر دیا ،ترک صدر نے بیرون ملک سے اپنے ویڈیو پیغام میں عوام کو سڑکوں پر نکلنے کو کہا ،دشمنوں کو اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس چالیں ہیں اور ہمارے ساتھ اللہ ہے اقلیتی گروپ کے حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد اردگان قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کو عوام اور جمہوریت پسند فوج نے مکمل طور پر ناکام بنادیا ہے ،جمہوریت اور عوام ہی اصل طاقت ہیں فوج کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسے عوام کی خواہشات کے مطابق کام کرنا ہوگا اقلیتی فوجی گروہ نے ہتھیار اٹھا کر اپنے ہی لوگوں کے خلاف بغاوت کی ، ان کو کڑی سزا دی جائے گی اور ترکی کی خوشحالی کا سفر جاری رہے گا یہ ہے عوام سے حکومت کا تعلق اور عوام کی حکمرانوں سے محبت کہ اپنی حکومت کو بچانے کیلئے میدان میں اتر آئے اور اپنی محبت کا ثبوت اپنی جانیں قربان کر کے دیا یقیناً اگر حکمرانوں نے عوام کیلئے کچھ کیا ہو ان کی فلاح وبہبود کا خیال رکھا ہو تو تو عوام اپنی حکومتوں کیلئے جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ،یہ اس ملک کی صور ت حال ہے جہاں حکمرانوں نے عوام کی فلاح و بہبود روزگار کے وسائل ،ملکی معیشت کو مضبوط اور ملک و عوام کی بھرپور خدمت کا بیڑا اٹھایا ہواہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پرلئے سڑکوں پر نکل آئے گولہ و بارود اور گولیوں کیلئے اپنے سینے پیش کئے اگریہ صورت حال پاکستان میں پیش آئے تو یقیناً عوام سڑکوں پر ہونگے اور ٹینکوں کے آگے نہیں پیچھے لیٹ جائیں اور کہیں گے خدارا واپس نہ جانا