counter easy hit

درجنوں اوباش لڑکے گرلز کالج میں گھس گئے ، پھر وہاں کیا کیا مناظر دیکھنے کو ملے ؟ شرمناک انکشاف

نئی دہلی (ویب ڈیسک) گارگی کالج میں طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کا معاملہ بھارتی پارلیمان میں بھی سنائی دیا جبکہ اسی معاملے میں نئی دہلی کے ریاستی خواتین کمیشن نے کالج انتظامیہ اور پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ واقعہ چار روز قبل کا ہے تاہم ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

شرط ہارنے پر لڑکی نے اسٹیڈیم میں ہی حیرت انگیز قدم اُٹھا لیا، شائقین اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے

ادھر کالج کی طالبات نے پولیس کی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے شروع کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی دارالحکومت کے محفوظ ترین علاقے میں شرپسند عناصر کے کالج میں گھس کر طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اس واقعے نے بھارت میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔مظاہرے میں شامل ایک طالبہ نے بتایا،”چار فروری کو کالج فیسٹیول تھا اور چھ فروری کو اسٹار نائٹ۔ تقریباً ایک سو افراد نے کالج کا گیٹ توڑ دیا اور اندر داخل ہو گئے اور لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی۔ ان میں سے کئی نے اپنے شرٹ کے بٹن کھول رکھے تھے، کچھ نے شرٹ اتار دیے۔ کچھ لوگ نشے میں تھے۔ وہ لڑکیوں کو فحش اشارے کر رہے تھے، ان کے جسموں کو چھور ہے تھے۔

دبئی کے سٹور پر کام کرنے والی ایک پاکستان لڑکی کون سا شرمناک کام بطور پارٹ ٹائم اور بونس رقم حاصل کرنے کے چکروں میں کررہی تھی؟حقیقت سامنے آتے ہی پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے

 

بعض لڑکیاں رونے لگیں لیکن یہ لوگ ہنستے رہے۔”ذرائع کے مطابق اس موقع پر پولیس کالج کے باہر موجود تھی لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔ طالبات کا کہنا تھا کہ انہوں نے کالج کی پرنسپل کے پاس جا کر ان سے بھی مدد طلب کی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے مدد کرنے سے انکار کردیا،’’ اگر تم لوگوں کو سکیورٹی کی اتنی ہی فکر تھی تو پروگرام میں کیوں آئیں۔‘‘ طالبات کا الزام ہے کہ ان شرپسندوں کا تعلق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے ہے۔اس معاملے کی گونج آج بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں بھی سنائی دی۔ کانگریس کے رکن پارلیمان گورو گوگوئی نے یہ معاملہ اٹھایا۔

اس پر وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں داخل ہونے والے طالب علم نہیں تھے،”اس واقعہ کے لیے جو بھی ذمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اس معاملے پر عام آدمی پارٹی کے رکن سنجے سنگھ نے نوٹس دے کر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے ایک ٹوئٹ کر کے وزیر داخلہ سے سوال کیا،”امیت شاہ جی کیا یہی ہے آپ کی بیٹی بچاؤ مہم؟۔”نئی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے طالبات کے ساتھ دست درازی کے واقعے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’گارگی کالج میں ہماری بیٹیوں کے ساتھ بدسلوکی انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔ اسے قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ہمارے کالجوں میں پڑھنے والے بچے محفوظ ہوں۔‘‘ کمیشن نے کالج انتظامیہ کو بھی نوٹس جاری کر کے پوچھا ہے کہ واردات کے چار دن گزر جانے کے باوجود کالج نے ابھی تک کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔اس معاملے کے طول پکڑنے کے بعد کالج انتظامیہ بیک فٹ پر آگئی ہے۔ اس نے کالج فیسٹیول کے دوران طالبات کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے طالبات سے معافی مانگ لی ہے۔ کالج کی پرنسپل نے طالبات کے نام ایک خط جاری کر کے کہا کہ وہ جلد ہی اس واقعے کی شکایت پولیس میں درج کرائیں گی۔

BOYS, ENTERED, IN, GIRLS, COLLEGE, AND, HARRASSED, GIRLS

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website