counter easy hit

آسٹریلیا کے ساحل پر نیلی جیلی فش کا حملہ

ماہرین کے مطابق جیلی فش آکسیجن کے بغیر، گندگی اور آلودگی میں بآسانی افزائش پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں جیلی فش کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

Blue jellyfish attack on the coast of Australia

Blue jellyfish attack on the coast of Australia

لاہور:  آسٹریلیا کے شہر برسبین کے ساحل پر لاتعداد جیلی فش پانی سے باہر آگئیں جس سے ساحل نیلگوں ہو گیا۔ برسبین کے شہریوں نے یہ نظارہ دیکھ کر اس کی تصاویر کھینچیں اور فوراً اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا کچھ نے انہیں دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی اور کوئی اس منظر کو دیکھ کر خوش ہوا۔ ایک ماہر حیاتیات ڈاکٹر لیزا این کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ان کا ساحل پر آنا دراصل ان کے حیاتیاتی چکر کا ایک حصہ ہے۔ سمندر کی اونچی لہروں کے ساتھ یہ ساحل پر آجاتی ہیں اور کچھ دن بعد جب دوبارہ اونچی لہریں ساحل پر آتی ہیں تو یہ ان کے ساتھ واپس سمندر میں چلی جاتی ہیں۔


واضح رہے کہ جیلی فش تقریباً 92 فیصد پانی کی بنی ہوتی ہے اور اس کی 85 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، اس جاندار کا دماغ، سانس، حسیات اور ہاضمے کا مکمل نظام موجود نہیں ہوتا اس کے باوجود جیلی فش دن کے 24 گھنٹے خوراک کھاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جیلی فش آکسیجن کے بغیر، گندگی اور آلودگی میں بآسانی افزائش پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں جیلی فش کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
جیلی فش کے جسم پر موجود لمبے لمبے دھاگے اس کا ہتھیار ہیں۔ ان دھاگوں کے اندر چھوٹے چھوٹے کانٹے ہوتے ہیں جو وہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے ۔ بظاہر خوشنما نظر آنے والی اس جیلی فش کا کاٹا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جبکہ اس کی بعض اقسام مہلک اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔کوریا، جاپان اور چین میں جیلی فش کو سکھا کر بطور خوراک بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website