counter easy hit

الیکشن سے پہلے عمران ہلیری کی طرح مقبول ہیں مگر۔۔۔!

عمران نے دعوت دی ہے کہ نوازشریف دوسروں کو آگے کرنے کے بجائے اسمبلی میں آکر خود مجھ سے بات کرےں۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ میاں نوازشریف بے چارے ایک مرتبہ شوکت خانم ہسپتال ملنے اور بات چیت کرنے آئے‘ وہ کیا بات چیت تھی؟ پھر وہ سیاسی شریف آدمی ایک بار بنی گالا آیا تھا وہاں کیا بات ہوئی؟ اب وہ اسمبلی میں بھی آجائے گا، کچھ عرصے بعد یہ بات پرانی ہو جائے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ کبھی نوازشریف اور شہبازشریف خود بات کریں وہ طلال چودھری‘ دانیال عزیز اور رانا ثناءاللہ کو آگے کر دیتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف بھی آگے ہو جاتے ہیں‘ مزا تو جب آئے گا کہ شریف برادران خود اس میدان میں آئیں۔ عمران کے پاس ابھی طلال اور دانیال جیسا آگے سے آگے ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ دونوں پیچھے بھی جا رہے ہوں تو ظاہر یہی کرتے ہیں کہ آگے جارہے ہیں۔ یہ بھی مجھے پتہ نہیں کہ وہ آگے آتے ہیں یا آگے جاتے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے‘ طلال نے‘ اور برادرم رانا ثناءنے شور مچایا ہے کہ عمران چور مچائے شور کی زندہ مثال ہیں‘ تو مردہ مثالیں کون کون سی ہیں؟ شور مچاتے ہوئے ہمارے ایک پرانے گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کی زبان پھسل گئی‘ ان کے قدم بھی پھسلیں گے تو کیا ہو جائے گا۔ گلی گلی میں شور ہے‘ اس کے بعد چور ہے کیلئے جو انہوں نے نام لیا‘ میں بھی نہیں لے سکتا۔ میرے وہ پارٹی سربراہ تو نہیں، پاکستان کے سربراہ رہے ہیں‘ محترم ہیں‘ دوست بھی ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں نہ جاکر ایک مثال قائم کر دی ہے۔ وہ یقیناً دوسری ٹرم کے لئے صدر پاکستان بن سکتے ہیں۔ امریکہ میں تقریباً سب صدر دوسری بار کیلئے ”یونہی“ منتخب ہو جاتے ہیں۔ صدر زرداری دوسری بار الیکشن تو لڑیں‘ وہ اپنے آپ منتخب ہو جائیں گے۔ دروغ برگردن راوی انہیں نوازشریف بھی صدر بناتے تھے مگر وہ ہر کسی کے ممنون نہیں ہوسکتے، پھر انہوں نے پارلیمانی نظام میں ایک قابل قدر صدر کے طور پر اپنی مدت پوری کی‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ اس بات سے اندازہ لگائیں اور میری پرانی بات سننے کا حوصلہ کریں کہ صدر زرداری نے وزیراعظم بنایا جبکہ وزیراعظم نوازشریف نے صدر مقرر کیا۔
میاں نوازشریف بنی گالا گئے تھے اور زرداری صاحب تو رائے ونڈ آئے تھے‘ دونوں ملاقاتیں اہم تھیں مگر یہ پتہ نہیں چلا کہ کیا باتیں ہوئیں۔ ان باتوں کو چھوڑیں رانا ثناءکو سنیں۔ ”شیدا ٹلی اور پاگل خان سن لیں کہ الیکشن 2018ءکو ہی ہونگے اور نوازشریف پھر وزیراعظم بنیں گے؟“ عوام ہمیشہ بے خبر ہی رہتے ہیں۔
عجب معاملہ ہے کہ برادرم شیخ رشید اور برادرم پرویز رشید دونوں گارڈن کالج میں میرے سٹوڈنٹ تھے‘ وہاں صدر یونین کیلئے شیخ رشید‘ پرویز رشید سے جیت گئے تھے۔ اس وقت انہیں یہ لقب دوستوں نے محبت سے دیا تھا۔ شیخ صاحب کے مخالف نوازشریف اور شہبازشریف ہیں‘ عمران خان کا جوڑ بھی انہی دونوں سے پڑتا ہے۔
رانا ثناءخفا ہو جاتے ہیں جبکہ میں نے انہیں کبھی نہیں چھیڑا‘ اور میرا خیال ہے کہ شیدا ٹلی کے ”طعنے“ سے شیخ رشید خفا نہیں ہوں گے‘ البتہ عمران خان پاگل خان کی ”طنز“ سے ناراض ہو سکتے ہیں‘ وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں پاگل نہیں ہوں‘ نیم پاگل ہوں۔
ویسے میں ایک بات ڈسکشن کیلئے کر رہا ہوں کہ 2018ءکے الیکشن میں عمران خان نوازشریف کو ٹف ٹائم دیں گے۔ اس بارے میں کیا کہتے ہیں رانا ثناءصاحب‘ مگر مجھے یقین ہے کہ میرے حوالے سے رانا صاحب اس طرح بات نہیں کریں گے جیسی نیم پاگل خان کے بارے میں کرتے ہیں۔ ایک بار کسی ٹی وی چینل پر میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رانا صاحب نے انکار کر دیا تھا‘ میں نے اس کا برا نہیں منایا مگر میں آج تک حیران ہوں بلکہ پریشان ہوں ۔
اب سے کچھ عرصہ پہلے میں شکر گڑھ گیا تھا وہاں برادرم ندیم صاحب اور پروفیسر ثوبیہ خان سے ملنے کے علاوہ دانیال عزیز کو ملنے کے لئے ان کے گاﺅں بھی چلا گیا۔ ان سے ملاقات نہ ہو سکی مگر وہاں سے بھارتی سرحد قریب تھی اور بھارتی فوجی بھی نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے بندوقیں پاکستان کی طرف کی ہوئی تھیں یعنی ہماری طرف کی ہوئی تھیں۔ ہمارے فوجی بھائیوں کی بندوقوں کا رخ نجانے کس طرف تھا۔ بہادری سے لڑنے اور جان کی قربانی دینے میں ہمارے لوگ دشمنوں سے بہت آگے ہیں ‘ ہم پاک سرحد کے رکھوالوں کو سلام کرتے ہیں۔
صدر اوباما پاکستان میں مقبول ہوا تھا، صدرر کینڈی محبوب ہوا، اب صدر ٹرمپ مشہور ہو رہا ہے۔ پاکستان میں لوگ حیران پریشان ہیں کہ وہ کس طرح جیت گیا جبکہ اس میں ابھی تک نواز شریف والی کوئی خصوصیت سامنے نہیں آئی۔ الیکشن سے پہلے ہیلری صدر بن گئی تھیں، ہلیری بھی بہت مقبول ہوئیں۔ مجھے اس لڑکی کی تلاش ہے اس کا نام بھی مجھے نہیں آتا جس نے ہیلری کو پاکستان کی ساس کہہ دیا تھا اور ہیلری بہت ہنسی تھیں۔ صدر ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد بھی مجھے ہیلری کے ہارنے کا افسوس ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے تمام سفیر فارغ کر دیئے ہیں‘ ابھی نئے سفیر سامنے نہیں آئے۔ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ میرے ہوتے ہوئے سفیروں کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ اس کے خلاف امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں۔ اس نے بڑا زبردست جملہ کہا ہے کہ مجھے ووٹ سے کیوں نہیں ہرایا گیا۔ ہیلری صدر ٹرمپ کی تقریب حلف وفاداری میں ہنستی مسکراتی ہوئی موجود تھیں‘ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ہیلری کے خلاف صدر کلنٹن نے کوئی سازش کی تھی۔ امریکہ میں ابھی تک میل شاونزم کی صورتحال کسی حد تک موجود ہے؟ کیا مریم نواز پاکستان کی ہیلری ثابت ہوں گی؟

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website