counter easy hit

خلیجی ممالک میں مزدوروں کا استحصال

Labor

Labor

تحریر : ساروان خٹک
یکم مئی کو ہر سال مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کی حیثیت سے ہٹ کر اس دن کی مناسبت سے خلیجی ممالک میں مزدوروں کا جو استحصال ہو رہا ہے اسی سلسلے میں ذاتی تجربات اور مشاہدات کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے اور مقصود کسی کی تنقیص یا برائی نہیں بلکہ میڈیا کے اس دور میں عامة الناس اور استحصالی قوتوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ شاید اس سے مزدوروں اور عام مخلوق خدا کا کچھ بھلا ہو ـ خلیجی ممالک کے عوام اور حکمران ہمارے بھائی ہیں اور جب اغیار ان پر تنقید کرتے ہیں تو ان کے اغراض و مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد بد امنی افراتفری اور اباحیت کو فروغ دیں ـہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلام کے زرین مشاورتی اصولوں پر عمل ہوتا اور مشورے تجاویز اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ نظام ہوتا لیکن شخصی اقتدار اور دولت کے نشے میں بد مست مغرور اور متکبر خلیجی حکمران ان چیزوں سے کافی دور ہیں

یہاں کے شاہی ایوانوں کی دیواریں اتنی اونچی ، پہرے داروں کے پہرے اتنے سخت ، خوشامدیوں کی جھرمٹ اور جی حضوری مصاحبین کی قطاریں اتنی لمبی ہیں کہ یہاں بات پہنچانا بہت مشکل کام ہے ـ جب ہم چھوٹے اور اپنے ملک ووطن میںتھے اس وقت استحصال استعمار وغیرہ کے الفاظ سنا کرتے تھے لیکن عملاً کوئی صورت سامنے نہ پاکر کچھ خاص تصور قائم نہیں کر پا رہے تھے لیکن خلیجی ممالک میں آکر معلوم ہوا کہ استحصال اور استحصالی نظام کیا ہوتا ہے بظاہر ان ممالک میں آجر اور آجیر ، مکتب العمل اور لیبر قوانین موجود ہیں لیکن وہ اس لیے ناقص ہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر بنائے گئے ہیں نہ ان پروقتاً فوقتاً نظر ثانی کی جاتی ہے اور نہ کسی مزدور یا مزدور رہنما سے رائے لی جاتی ہے اور سب سے بڑا استحصال یہ کہ یہاں مزدور کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا یا یونین سازی کرنا شجرِ ممنوعہ ہے ـ خلیجی ممالک میں مزدوروں کو اگر مختلف درجوں میں تقسیم کر دیں تو ان میں بعض وہ مزدور ہیں جو صنعت و تجارت سے وابستہ ہیں بعض کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیںبعض وہ جو زرعی شعبے سے وابستہ ہیں کچھ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں کام کرتے ہیں بعض مزدور وہ ہیں جو تعمیراتی کمپنیوں میں مزدوری کرتے ہیں جبکہ بعض گھریلو ملازمین اور خادمائیں شامل ہیں ـاستحصال کی بد ترین شکل ان ممالک میں موجود کفالت کا نظام ہے یہ نظام جس وقت بنایا گیا تھا

بے شک کہ اس وقت اس سے بہترین نظام کا تصور ہی نا ممکن تھا دنیا میں ایک قاعدہ و دستور ہے کہ ہر نظام پر اگر وقت کے ساتھ ساتھ نظر ثانی یا اس میں اضافہ وترمیم نہ کی جائے تو وہ خوب تر سے بد تر کی طرف جاتا ہے ـ جب خلیجی ممالک کو اللہ تعالیٰ نے تیل کی دولت دی اور ان ممالک نے تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے تو افرادی قوت کی شدید کمی کہ وجہ سے غریب اور ترقی پذیر ممالک سے لوگوں نے اپنے ہاں غربت اور معاشی عدممساوات کے سبب اور خوشحال مستقبل کی خاطر ان ممالک کا رخ کیا ایک ادمی بالکل نئے دیس میں آتا تھا اور یہاں اس کا کوئی واقف کار جان پہچان یا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا اس وقت قانون سازی کی گئی اورکمپنیوں یا ا فرد کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ لوگ کام کے سلسلے میں ان نئے آنے والوں کی رہائش کام تنخواہ علاج معالجے اور دیگر سہولتیں بہم بہنچانے کے کفیل ( ذمہ دار ہوں) گے ـ انسان کی فطرت میں سرکشی ہے اس لیے جب ایک انسان کے اختیارات کی بھاگیں مکمل قانونی طور پر دوسرے انسان کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہیں تو وہ فرعونیت کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور آج دنیا میں اگر بدترین غلامی کا تصور کیا جاسکتا ہے تو وہ خلیجی ممالک میں کفالت کا نظام اور کفیلوں کے معاملات ہیں ـ کفیل کسی وقت بھی کسی جواز کے بغیر ملازمت سے بر خاست کر سکتا ہے بلکہ بلا کسی حقوق کی ادائیگی کے ملک بدری کا پروانہ بھی تھما سکتا ہے

Dollar

Dollar

حضرت کفیل کی مرضی کہ تنخواہ دے یا نہ دے مقامی لوگوں کی کمپنیوں میں چھ چھ مہینے تک تنخواہیں نہ ملنا تو عام معمول کی بات ہے کہیں آنے جانے کی اجازت بھی کفیل کی مرضی سے مشروط ہے کسی مزدور کو فوری طور پر ملک جانا ہو تو یہ ناممکن ہے پہلے تو کمپنی یا کفیل کی مرضی چھٹی دے یا نہ دے ہفتوں تو کفیل نہیں ملتے اور وہ مل جائیں تو پھر ہفتوں پاسپورٹ آفس (جوازات) کے چکر اور کہیں بعد میں ری انٹری ویزہ لگتا ہے حالانکہ کمپیوٹر کے اس دور میں یہ کام بہت سارے ممالک کی طرح ایر پورٹ پر بھی ہو سکتا ہے ـ کفالت اور پیشے کی تبدیلی پر حکومتوں نے بلا جواز بھاری فیسیں عائد کر رکھی ہیں تاکہ لوگ کفیلوں کے مظالم سے چھٹکارا ہی نہ پاسکیں ـ کوئی مزدور فوت ہو جائے تو پولیس اسٹیشنوں گورنر ہاوس سفارتخانوں اور ہسپتالوں کی اتنی لمبی چوڑی کاروائی ہوتی ہے کہ ہفتوں اور مہینوں لاش سرد خانے میں پڑی رہتی ہے جبکہ یہاں اوروطن میں پسماندگان کو ایک لمبی اذیت سے گذرنا پڑتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں صرف مقامی لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت حاصل ہے غیر ملکی غریب مزدور مرتا ہے تو مر جائے لیکن سرکاری ہسپتال میں علاج نہیں ہوتا بہت کم کمپنیوں نے اپنے ورکروں کو علاج معالجے کی انشورنس سہولت دے رکھی ہے

لیکن استحصالی ذہنیت کا کیا کیا جائے کہ یہاں بھی درجہ بندی ہے بڑے بڑے افسروں کے لیے A درجے کے بڑے بڑے شاندار ہسپتال جبکہ مزدوروں کے لیے(جو ہر وقت جان جوکھوں میں ڈال کر کام کرتے ہیں) B اور Cکے معمولی ہسپتال جو کارڈ دیکھ کر ہی عام چھوٹی موٹی گولیاں دے کر ٹرخا دیتے ہیں ـ رہنے سہنے کے لیے بڑے بڑے افسروں کے لیے خوبصورت مقامات پر بڑے بڑے جنت نما کمپاونڈز اور نئی ماڈل کی بڑی بڑی گاڑیاں جبکہ مزدوروں کے لیے ڈربے نما کمرے اور ایک ایک کمرے کے اندر بہت سارے افراد اور چارپائیوں کے اوپر چارپائیاں لگا دی جاتی ہیں ویسے تو ان ممالک میں کسی کے گھر کی تلاشی لینے کے لیے گورنر کی اجازت لینی پڑتی ہے لیکن غریب مزدوروں کے ڈیروں پر ادھی رات کے وقت درجنوں ادارے بلا کسی اجازت کے دھاوا بول لیتے ہیں اور گھر کا کونہ کونہ چھان مارتے ہیں ـ مزدروں کے رہائشی علاقوں میں چوریاں عام ہیں گھروں کے اندر سے قیمتی اشیاء چوری کر لی جاتی ہیں گاڑیوں کے شیشے توڑے جاتے ہیں مزدور راہ چلتے لوٹ لیے جاتے ہیں ان پر آوازیں کسی جاتی ہیں سر راہ پتھر مارے جاتے ہیں اور تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے ان سے موبائل فون اور نقدی چھین لی جاتی ہے

قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے تو کسی اجنبی مزدور کی شکایت پر کان نہیں دھرتے اور اگر آبھی جاتے ہیں تو رسمی سی کاروائی کرکے چلے جاتے ہیں مقامی چور پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن بغیر کسی سزا کے چھوڑ دیے جاتے ہیں ورک پرمٹ پر بدقسمتی سے مزدور لکھا ہونے والوں کو بیو ی بچے بلانے یا کسی قسم کی کوئی دوسری سہولت حاصل نہیں ـ کسی ڈگری والے کے ورک پرمٹ پر بھی اگر مزدور لکھ دیا گیا ہے تو پھر اسے مزدورہی سمجھا جائے گا یہاں ایک لطیفہ عرض کروں کہ ایک شیر خلیجی ممالک میں لایا گیا یہاں آنے کے بعد اس کے سامنے سبزی گھاس رکھی گئی کہ اسے کھاؤ شیر نے کہا کہ میں تو جنگل کا بادشاہ ہوں میں بھلا کہاں گھاس سبزی کھاتا ہوں میری خوراک توگوشت ہے چڑیا گھر کے ملازمین نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کے ورک پرمٹ میں بندر لکھا ہوا ہے ـ چاہے کوئی اپنے کام کا کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو اولیت ہر حال میں مقامی بے کار اور نکمے قسم کے لوگوں کو ہی حاصل ہو گی ـ

LAW

LAW

دنیا کے بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک میں پانچ سال سے زیادہ مقیم رہنے پر شہریت کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں لیکن خلیجی ممالک نے پچھلے سال بین الاقوامی دباؤ میں آکر صرف PHD ڈگری رکھنے والوں اور ہائی ایجوکیٹیڈ لوگوں کو شہریت کے حقوق دینے کا شوشہ چھوڑا حالانکہ وہ شہریت لینے کے محتاج بھی نہیں تھے ان کو تو بغیر شہریت کے وہ تمام حقوق پہلے سے ہی حاصل ہیںاس کے برعکس شہریت کے اولین حقدار وہ غریب مزدور ہیں جنہوں نے خون پسینا بہا کر اور دن رات ایک کرکے ان ممالک کی تعمیر کی اور اب بھی اگر ضرورت پڑے تو خون کا آخری قطرہ تک بہا سکتے ہیں اس کے علاوہ اگر خلیجی ممالک میں مزدوروں کو شہریت کے حقوق مل جائیں تو تجربات کی بناء پر وہ ان ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہاں کی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں ـ خلیجی ممالک دنیا کے وہ عجیب و غریب ممالک ہیں جہاں مزدور کی مزدوری بیچی جاتی ہے حضرات کفیل ان سے بھاری معاوضہ طے کرکے ان کو کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں

لیکن یہ بے چارے مزدور رزق حلال کمانے نکلتے ہیں تو شاہی ہرکارے (شرُطے اور جوازات) انہیں دھر لیتے ہیں او جیل میں بند کر دیتے ہیں پھر یا تو دلالوں کے زریعے بھاری رشوت لے کر انہیں چھوڑ دیتے ہیں اور یا ملک بدر کر دیتے ہیں لیکن ظالم ہر کارے یہ نہیں سوچتے کہ اس ایک فرد کی ملک بدری سے کتنے لوگوں کے رزق کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا ـ آخر وہ مزدوری کرنے تو نکلے تھے کوئی چوری ڈاکہ ڈالنے نہیں نکلے تھے اور ایسے استحصالی قانون کا کیا کیا جائے جس میں حق اور حلال کی جائز مزدوری بھی جرم بن جاتی ہے ـ بعض لوگ سہولتوں اور تجربات کی بناء پرمقامی لوگوں کے ساتھ مل کر شراکت پر کچھ کام شروع کر لیتے ہیں دن رات کی انتھک محنت سے جب کام چلنے لگتا ہے تو کفیل صاحب کے منہ میں پانی آجاتا ہے اور چونکہ قانونی طور پر کفیل کو ہی حقوق حاصل ہوتے ہیں اس لیے وہ بلا کسی ترددکے کاروبار پر قبضہ کرلیتا ہے ـاستحصال کی ایک شکل طبقاتی تقسیم ہے خلیجی ممالک میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کا معاوضہ الگ الگ ہے غریب ترین ممالک کے مزدوروں کا معاوضہ بھی قلیل ترین ہے جس سے نہ وہ جی سکیں اور نہ مر سکیں اور نہ ترقی کر سکیں جبکہ دیگر ممالک کے مزدوروں کا الگ ـ

صفائی ( بلدیہ) کے کارکنوں کا 300 کے قریب ماہانہ معاوضہ مقرر ہے اور وہ بھی چھ چھ مہینے تک نہیں دیا جاتا اور وہ مجبور ہیں کہ گلیوں اور کچرے کے ڈرموں سے خالی ڈبے جمع اور بیچ بیچ کر اپنا پیٹ پال سکیں ـ ان میں سے اکثر کا تعلق ایک ایسے ملک سے ہے جن کے لیڈروں نے انہیں سبز باغ دکھا کر مسلمان بھائیوں سے قومیت کے نام پر الگ کیا کہ ان سے الگ ہو کر تم سونے چاندی میں کھیلنے لگو گے نتیجتاً وہ سونے چاندی میں کھیلنے کی بجائے کچرے کے ڈبوں میںرزق تلاش کرنے لگے ، دنیا کے غریب ترین لوگ بن گئے ، ان سے دنیا میں ہر جگہ غلاموں سے بھی بد تر سلوک ہونے لگا اور خلیجی ممالک نے ان کی غربت کا نا جائز فائدہ اٹھا کر قلیل معاوضے بلکہ نہ ہونے کے برابر معاوضے پر گرمی سردی میں دن رات صفائی کچرے اٹھانے اور دیگر اس قسم کے کاموں کے لیے مخصوص کر لیا ـ خلیجی ممالک میں گھریلوخادماؤں کی بر ی حالت ہے نہایت ہی قلیل تنخواہ پر صبح سے لے کر رات گئے تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے چونکہ چاردیواری کا مسئلہ ہے اس لیے اکثر خادماؤں کے ساتھ درون خانہ جو بیتتی ہے اس پر انسانیت شرماتی ہے جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ نہایت ہتک آمیز سلوک ـ

Police

Police

دنیا کی یہ بے چاری مخلوق کہیں فریاد لے کر بھی نہیں جا سکتی سفارت خانوں کے راستوں پر مسلح پولیس کی چوکیاں قائم ہیں اور وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں ـ لے دے کر بعض اہل خیر ان دکھی و درماندہ اور لٹی پھٹی خادماؤں کے لیے دارالامان قسم کی جگہیں حاصل کر لیتے ہیں لیکن اگر وہ بھی شاہی گرگوں (پولیس )کی نظر میں آجائیں تو سخت گرفت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ خادماؤں کے خود کشی کے واقعات عام ہیں ـ گھریلو ڈرائیوروں کے کام کے لیے کوئی وقت نہیں صبح سویرے مدرسوں کے اوقات سے لے کر رات 12 بجے تک مسلسل کام تو عام معمول کی بات ہے درجن بھر خواتین و حضرات اور بچوں کے لیے ایک ڈرائیور ہر ایک کا کام الگ الگ اس لیے یہ بے چارے مسلسل دن بھر ذہنی دباؤ کے ساتھ مدرسوں اور مارکیٹوں کے درمیان بھاگتے رہتے ہیں خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ان گھریلو ڈرائیوروں کے کے نصیب میں نہ جمعے کی چھٹی ہے اور نہ عید کی بلکہ دن رات غلاموں کی طرح مسلسل کام ہی کام ہے یہی حال پٹرول پمپوں اور دکانوں اور مارکیٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی ہے

دنیا کے بین الاقوامی قانون کے مطابق 8 گھنٹے ڈیوٹی اور ہفتے میں ایک چھٹی مقرر ہے لیکن خلیجی ممالک کے حریص سرمایہ دار دن بدن مارکیٹوں اور کاروبار کو وسعت تو دے رہے ہیں لیکن مزدور کے حقوق کا کوئی خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی یہاں مزدور کے اوقات مقرر ہیں حالانکہ اگر مارکیٹوں اور کاروبار کے اوقات مقرر ہو جائیں تو پھر بھی اتنا ہی کاروبار ہوگا کیونکہ گاہک انہی اوقات اور دنوںکے اندر خریداری کریں گے ـاور آخر میں خلیجی عوام اور حکمرانوں سے چند گذارشات کہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے زور زبردستی غلامی اور دھونس دھاندلی کا دور گذر چکا ہےاسلام اور عربوں کا چولی و دامن کا ساتھ ہے

Islam

Islam

اسلام کے صاف و شفاف تعلیمات کو مزید داغدار نہ بنائیں ہمارے دین مبین کے دشمن انہی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور تمہارے کرتوتوں عیاشیوں اور ظلم و زیادتیوں کو بھی اسلام کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں ـ خدا را ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ وقت آپ سے حساب لے اپنا محاسبہ خود کرلیں اپنے ممالک میں اصلاحات نافذ کریں کفالت کے نظام پر نظر ثانی کریں ملک اور سرحد مقامی اور غیر مقامی کی تفریق کے بغیر اپنے ہاںمزدور کی کم سے کم اجرت مقرر کریں ان کے لیے کام کے اوقات مقرر کریں ان کو ان کے جائز حقوق دیں کہ ہمارے نبی بر حق ۖ نے ہمیں تاکید کہ ہے کہ جو کچھ ہم خود کھائیں اپنے خادموںکو وہی کھلائیں جو ہم خود پہنیں ان کو وہی پہنائیں اور مزدور کی مزدوری اس کے پسینے کے خشک ہونے سے قبل ادا کر دیا کریں ـ

تحریر : ساروان خٹک