counter easy hit

کرپشن کا خاتمہ ، کوئی سنجیدہ نہیں

پانامہ کیس میں حکومت کے مخالفین کی کوششیں اب تک کیوں کامیاب اور کارگر نہیں ہوپائیں، اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہی دکھائی دیتی ہے کہ اس ملک سے کرپشن اور مالی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ہمارے یہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی یکسو اور سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ فقط مخالفت برائے مخالفت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔

ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اس مقدس مقصد کے حصول میں کسی حد تک کامیاب و سرخرو ہوجاتے۔ زبانی دعوے اور ارادے بھلا کچھ بھی ہوں لیکن کسی بھی نیک کام میں کامیابی صرف اسی وقت مل سکتی ہے جب نیت صاف اور پرخلوص ہو۔ مگر یہاں معاملہ ہی بالکل الٹا ہے۔ نواز شریف حکومت کے خلاف جتنے لوگ بھی آج برسر پیکار ہیں ان سب کے دامن پر ناجائز ذرایع سے مال بنانے کے داغ لگے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ یا اس کے ساتھی مکمل پاک، صاف، نیک اور پارسا ہیں۔ پیپلز پارٹی کو بھی سب جانتے ہیں۔ این آئی سی ایل، او جی ڈی سی ایل، ای او بی آئی، حج اسکینڈل اور رینٹل پاور پروجیکٹس ان کے دور کی واضح مثالیں ہیں۔ وہ آج جمہوریت کے لیے اپنی قربانیاں قرار دیتے ہیں۔

یہی حال ہماری دیگر سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے۔ خود پی ٹی آئی کے سربراہ کو بھی اپنی پارٹی میں وہی لوگ زیادہ عزیز ہیں جن کے پاس مال و دولت بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کا غریب، پرانا اور مخلص کارکن رفتہ رفتہ ان سے دور ہوتا جارہا ہے۔ کہنے کو وہ کرپشن کے خلاف جہاد کررہے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے اتنے پُرخلوص اور سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی صرف یہی کوشش ہے کہ کسی طور وہ میاں صاحب کو اقتدار سے محروم کرکے خود کو کامیاب سیاستداں منوا سکیں۔ وہ اگر مخلص اور دیانتدار ہوتے تو صرف پاناما کیس کے خلاف ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کرتے۔ کم از کم اپنے صوبے خیبر پختونخوا ہی میں کرپشن کے خلاف وہ اگر کچھ کر دکھاتے تو شاید قوم کو یہ یقین ہوجاتا کہ خان صاحب اپنے قول و فعل میں واقعی درست اور سچے آدمی ہیں۔

خان صاحب کی خوبی یہ ہے کہ اپنی ہر تحریک اور ہر احتجاج کی کامیابی کے لیے وہ کسی نہ کسی ادارے سے امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔ 2014ء میں الیکشن میں کی گئی مبینہ دھاندلی کے خلاف کیے جانے والے دھرنے کے پیچھے بھی ان کی یہی خواہش کارفرما تھی اور اب پاناما کیس میں بھی نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل اسلام آباد بند کردینے کے منصوبوں کے پس پردہ یہی مقاصد کارفرما تھے۔ لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا اور ان کی یہ خواہش تکمیل کے مراحل سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ نادیدہ قوتوں کی جانب سے خلاف توقع ردعمل آجانے کے بعد وہ بادل نخواستہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کی جانے والی اپنی درخواست پر ہی قناعت کرنے پر مجبور ہوگئے، مگر وہ وہاں بھی اپنی خصلت اور طبیعت کے مطابق صرف اپنے حق میں فیصلے کے لیے اعلیٰ عدلیہ پر دباؤ ڈالتے رہے۔ اپنی توقعات اور امیدوں کا شیش محل چکناچور ہوتا دیکھ کر وہ اب عدلیہ سے بھی بددل اور مایوس ہوچکے ہیں۔

اسی طرح ہماری دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ابھی تک کرپشن کے خلاف شاید اس لیے پرزور طریقے سے میدان میں نہیں اتر پائیں، کیونکہ ان کے ہاتھ بھی اسی بہتی گنگا میں اچھے خاصے دھلے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے کرتا دھرتاؤں پر بڑے بڑے قرضے معاف کروانے کے الزامات ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر قرضے معاف کروانے والوں کا کچا چٹھا کھل گیا تو وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ پرویز الٰہی کے فرزند ارجمند مونس الٰہی پر، جن کی کی اب ایک آف شور کمپنی بھی نکل آئی ہے، این آئی سی ایل کیس میں 14 کروڑ کی کرپشن کا الزام بھی رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے حکومت سے نکل جانے کے بعد ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر وہ زرداری حکومت کی پارلیمنٹ میں عددی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی حاضر ہوگئے اور یوں اس پرویز الٰہی اس ملک کی تاریخ کے پہلے نائب وزیراعظم بھی بنادیے گئے۔

اب آجائیے پرویز مشرف کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب، جس کے سربراہ کے ذاتی اکاؤنٹس میں راتوں رات کئی ملین ڈالر کیوں اور کس طرح آجاتے ہیں، وہ یہ راز کسی کو بتانے کے روادار نہیں ہیں۔ شریف خاندان سے اچانک محبت دکھانے والے قطری شہزادے کے مشکوک خط پر تو ہم سب بڑی لعن و طعن کرتے ہیں لیکن پاکستان سے بے پناہ محبت کا دعویٰ کرنے والے اس جنرل پر سعودی شہزادوں کی عنایت و اکرام کا ہم ذکر بھی کرنا نہیں چاہتے۔ ہمارا یہی دوغلا اور امتیازی رویہ احتسابی عمل کی کامیابی میں اب تک حائل اور رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ہم صرف اپنے متعین کردہ اصولوں اور اپنے پسندیدہ مقاصد اور خواہشوں کے تحت احتساب چاہتے ہیں۔ ایسا احتساب جس میں خود ہم پر کوئی آنچ بھی نہ آئے اور ہمارا مخالف فریق جل کر بھسم ہوجائے۔ ہم صرف ایک پاناما لیکس پر تحقیقات چاہتے ہیں اور اس میں بھی صرف میاں نواز شریف کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، باقی چار پانچ سو افراد جن کے نام اس ’’لیکس‘‘ میں آئے ہیں وہ آرام و سکون سے رہیں، انھیں کوئی نہیں چھیڑے گا۔ اس کے برعکس حکومت کا موقف ہے کہ اگر اپوزیشن کھلے دل سے کرپشن اور مالی بدعنوانی کاخاتمہ چاہتی ہے تو کرپشن کی ہر قسم اور نوع کا سدباب کرنا ہوگا، خواہ اس کی زد میں کک بیکس، کمیشن اور قرضے لے کر ہڑپ کرنے والے ہی کیوں نہ آئیں۔ مگر اپوزیشن تحقیقات کو صرف اور صرف پاناما لیکس تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لڑائی میں آٹھ نو مہینے گزر گئے اور کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ عدلیہ اور مقتدر حلقوں سے ناامید اور مایوس ہوجانے والوں کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کوئی ایسا نظام وضع کریں کہ صحیح معنوں میں کرپش اور بدعنوانی کا اس ملک سے خاتمہ ممکن ہوسکے۔

اگر ہم واقعی اس ملک سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر ہر طرح کی کرپشن کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آف شور کمپنی رکھنے والا تو کڑے اور بے رحم احتساب کے شکنجے میں جکڑا جائے اور کک بیکس، کمیشن اور قرضے لے کر خود کو دیوالیہ ظاہر کرنے والے دندناتے پھریں۔ اگر احتساب ہو تو سب کا بے لاگ اور بلاامتیاز و تفریق ہو۔ کوئی بھی شخص محترم اور مقدس نہ قرار پائے۔ کسی کو بھی کوئی آئینی یا دستوری استثنیٰ حاصل نہ ہو۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website