yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    بین الاقوامی خبریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    • اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

”آدم کے کسی روپ کی تحقیر نہ کر ”

Yes 2 Webmaster April 6, 2015 1 min read
Beggar
Share this:
Beggar
Beggar

تحریر : محمد شہباز
فکرِاغیار، سو چ بچار، حالت استفسار، آزادی ء اظہار اور صاحب خو د مختار رہنا بہت اچھی با ت ہے مگر اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں کہ انسا ن بلا وجہ ہی کسی دوسرے کے الفاظ پر اپنے ہی غیر ضرو ری نقا ط لگا کر نا صر ف ان الفا ظ کو بگاڑ دے بلکہ ان کے مطا لب کو بھی مکمل طو ر پر تبدیل کر دے تاکہ ان کی سو چ امن و آشتی کی بجا ئے فساد اور ظلم و زیادتی کو جنم دے دے ۔ آج اگر معاملہ صر ف اپنے ہی گھر تک محدود ہو تا تو کو ئی بڑی با ت نہیں تھی کیو نکہ ہم تو ان معا ملا ت کو بر سو ں سے ایسا ہی دیکھ رہے ہیں اور ہر لحا ظ سے ان الجھی ہو ئی گتھیو ں کو سلجھا نے کی نا ممکن کا و شیں بھی سر انجا م دے ر ہے ہیں مگر جب معاملہ کسی دو سرے کے سا تھ منسو ب ہو جائے تو پھر اپنے معاملا ت کو فو قیت دینی چا ہیے ناکہ اغیار کی الفت کو اپنے او پر حاوی کر کے، اپنے سا تھ منسو ب عوام کی خوا ہشا ت کو پس پشت ڈال کر ، محض چند رنگ و نما ئش سے مزین پنو ں اور لا ئق صد احتر ام اعزا زت کے لیے پچھلے کئی بر سو ں سے چھٹر ی جنگ کو آخر ی دہا نے پر لا کر پھر نئے سرے سے ہو ا دینی چا ہیے۔کچھ لو گ تو بڑ ے آرا م سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی مر ضی سے جیسی گفتگو مر ضی کر یں مگر انھیں یہ نہیں پتہ کہ ایسا حق جب وہ کسی کے عقید ے پر انگلی اُٹھا نے کے لیے استعمال کر تے ہیں

وہ در حقیقت کسی دو سرے کا بنیا دی مذہبی اور سما جی دو نو ں قسم کے حقو ق کا قتل ِعام کر تے ہیں کیو نکہ دنیا کا کو ئی مذہب بھی کسی دو سرے مذہب کو یا اُس کے لو گو ں کو یا اس سے بھی زیا دہ عام مگر وسیع اصطلا ح میں کسی بھی انسا ن کی روایا ت اور اس کے عقید ے کو ٹھیس پہنچا نے کی ہر گز اجا زت نہیں دیتا۔ حتی کہ ادب سے تعلق رکھنے والے بھی کچھ لو گ اگر یہ کہتے ہیں کہ ادب مذہبی اقدارنہیں سکھا تا لیکن وہ سا تھ ہی اس با ت کا اعترا ف بھی کر لیتے ہیں کہ یہ انسا نیت ضر و ر سکھا تا ہے کیو نکہ انسا نیت ہر انسان کی بنیا دی صفت ہے جو کہ چند سما جی روایا ت اور رو ا بط کی وجہ سے منظر ِعام پر نہیں رہی اور شا ذو نا در ہی کسی کسی انسان میں ملتی ہے ۔ مذ ہب اگر تقلید ی سو چ کا نا م ہوتا تو شر و ع سے ایک ہی چلتا مگر مختلف اوقات میں مختلف اقوام کے لیے مختلف مذا ہب اتارے گئے اور پھر آخر میں ایک ہی کو ساری کا ئنا ت اور پو ری عا لم انسانیت کے لیے را ئج فرما یا گیا اور اسے اصلا ح ، امن اور محبت کا را ہنما بنا یا گیا۔ اگر اپنے ذاتی مفا دات کے لیے ہم انسا نیت کو بھلا نا چا ہتے ہیں تو پھر ہم خو د بھی انسا نیت کے حق سے محر وم ہو جا ئیں گے۔ اگر کو ئی کسی کے گھر پر حملہ کر دے تو نقصان تو زیا دہ اسی گھر کو اور اس کے با شندو ں کو ہو گا مگر ار د گر د کے لو گ بھی کسی حد تک اس وبا ل سے دو چار ہو ں گے۔

اب اس کی تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ منا سب پو چھ گچھ کی جا ئے اور معا ملا ت کو حو صلے اور انصاف سے حل کیا جا ئے نا کہ کسی بھی مشتبہ شخص کو پکڑکے مو قع پر ہی اپنی مر ضی کے مطا بق سز ا سنا کر عملد رآمد کر دیا جا ئے۔ ہر شخص کو افسو س ہے کہ کیو ں کسی کی عبا دت گا ہ کو نشا نہ بنا یا گیا مگر سا تھ ہی یہ بھی کسی جبر سے کم نہیں کہ صر ف چندبالو ں کی وجہ سے جو کہ قدر تی طو ر پر ہر مذ ہب سے تعلق رکھنے والے کے چہر و ں پر نکل ہی آتے ہیں ، کسی کو بھی بغیر تصدیق کے پکڑ کر مو ت کی سزا دے دی جا ئے ۔اگر یہا ں پر یہ سو چا جا ئے کہ تشدد پسند صر ف کسی مخصو ص مذ ہب کو نشا نہ بنا ئے ہو ئے ہیں تو پھر اس با ت کی بھی کو ئی دلیل نہیں ملتی کیو نکہ حملے تو تما م کی عبا دت گا ہو ں پر ہو چکے ہیں ۔ یہ آجکل ہم جس جنگ کے ما حو ل میں ہیں وہ مذا ہب کی جنگ نہیں ہے بلکہ وہ پو ری عالم انسا نیت کی جنگ ہے اور جس کے اثرا ت تمام عالمِ انسا نیت پر اثر اندا ز ہو رہے ہیں کیو نکہ پو ری انسا نیت سے جنگ در حقیقت کسی مخصو ص مذہب کی بجا ئے تما م انسا نیت کو پستی کی طر ف لے جا رہی ہے ۔
با با بلھے شا ہ فر ما تے ہیں :
گل سمجھ لئی تے رو لا کی
فیر رام رحیم تے مو لا کی

اگر انسا نیت بچے گی تو ہی در حقیقت تما م مذا ہب کو ما ننے والے بچیں گے ہر کو ئی اپنے گھر کا چر ا غ ہی ہو تا ہے بس فر ق صر ف اتنا ہوتا ہے کہ کو ئی خو د تیل بن کر جل رہا ہو تا ہے تو کو ئی کسی کو رو شن کر نے کے لیے استعما ل ہو رہا ہو تا ہے اگر کو ئی بھی کسی بھی معا شرے سے تعلق رکھنے والا کسی کے بنیا دی حقو ق کا احترام نہیں کر تا تو وہ حقیقی طور پر انسا نیت کے مطلب سے نا آشنا ہے اور اس کی یہ نا آشنا ئی کسی کے چر ا غ کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیتی ہے ۔ اور چو نکہ انسان کا تعلق انسانیت سے ہے اور اگر کو ئی انسا نیت سے نا واقف ہے تو بنیادی طو ر پر وہ انسا ن سے نا واقف ہے اور جو انسا ن سے نا واقف ہے وہ یقینی طور پر خو د بھی انسان کہلا نے کا حقدار نہیں ہے۔

انسان کو سمجھنے کے لیے اگر کسی وسیع تعر یف کا سہا را لیا تو جا ئے تو وہ یہ ہے کہ اﷲکی سما ئی ہی انسا ن(بند ئہ مو من )کے دل میں ہے۔ اور اسی با ت کو علامہ اقبال اپنے الفا ظ میں یو ں بیان فر ما تے ہیں کہ : آدم کے کسی رو پ کی تحقیر نہ کر پھر تا ہے زما نے میں خدا بھیس بدل کےشعو ر تو انسا ن میں ہو تا ہے کیو نکہ بلا وجہ کی آہ و پکارتو جا نو ر بھی کر تے ہیں اور اس لیے ان کا پر سا نِ حال کو ئی نہیں ہو تا ۔ آج وقت ہے کہ انسان کو انسا نیت سے آشنا کر وایا جا ئے کیو نکہ اگر چھو ٹے چھو ٹے معا ملا ت میں سنجید گی نہ دکھا ئی گئی تو پھر بڑے مسا ئل در پیش آئیں گے اور جب کو ئی سو چ چھو ٹے مسا ئل کو حل نہ کر سکے تو پھر بڑے مسا ئل کیسے حل کر ے گی اور انسا ن کا وجو د انسانیت کے اعتبا ر سے ختم ہو کر رہ جا ئے گا۔

ایک انسا ن کا قتل پو ری انسا نیت کے قتل کے برا بر ہے اور سو چیں کہ آج کتنو ں کی انسا نیت دم تو ڑ چکی ہے ۔ سو چ بچا ر اور آزادی اظہا ر کو اگر اخلا قی و انسا نی اقدارمیں رہ کر استعما ل کیا جا ئے تو کسی کے عقید ے کو بھی ٹھیس نہیں پہنچے گی اور محبت کا بھی فر و غ عام ہو گا جس سے انسا ن کا مقام بلند ہو گا اور انسانیت کو عر و ج ملے گا۔

Muhammad Shahbaz
Muhammad Shahbaz

تحریر : محمد شہباز

Share this:

Yes 2 Webmaster

6,502 Articles
View All Posts
Poetry
Previous Post اصل رازق ہم بھول گئے
Next Post عمران خان کی جعلی اسمبلی میں واپسی
Imran Khan

Related Posts

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

August 15, 2026
What Happens to Melania Trump If President Dies?

اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟

July 18, 2026

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟

July 18, 2026

پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، مشکوک بیانیے کی تحقیقات ہونی چاہئیں: قاری فاروق احمد

June 11, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.