counter easy hit

خفیہ ایجنسیوں کا بجٹ بھی غیر قانونی ترسیلات ذر ہی ہیں، مولانا فضل الرحمن کا اے پی سی سے خطاب

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے اپنے خطاب میں اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو فوری طور پر تحلیل کرنے کی تجویز دیدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک گروپ میرے عمل کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک بڑے موقع پر میرے پاس پہنچا۔ انھوں نے مجھے اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی کہ میں سخت موقف چھوڑ دوں، نرم موقف کی طرف چلا جائوں، اعتدال کی طرف چلا جائوں لیکن وہ لوگ مجھے مطمئن نہیں کر سکے تو انہوں نے پہلے میرے موقف کی تائید کی اور پھرانہوں نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ ہم نے یہ صوبہ پی ٹی آئی کے حوالے کیا ہے (ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اکثریت لی ہے ) یہ صوبہ اس لئے ان کے حوالے کیا گیا ہے کہ پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں گہری ہیں اور مذہب کی ان جڑوں کو ختم کرنے کے لئے اس سے بہتر بندہ نہیں تھا۔این جی اوز کے ذریعہ سے پندرہ سال محنت کی گئی ہے پھر خیبرپختونخوا میں ایسی فضا بنائی گئی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے شرکاء سے سوال کیا کہ بتائیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں مسلمان ہیں اور ایک بڑا مضبوط مذہبی فرقہ موجود ہے۔ اگر ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو جلدی سے کہہ دیا جاتا ہے مولوی صاحب پھر مذہبی کارڈ استعمال کر رہا ہے ۔ اگر ایک قوم پرست اپنا کارڈ کا استعمال کر سکتا ہے تو میں بھی مذہب کا نام استعمال کر سکتا ہوں۔ مجھے اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا ایک مضبوط موقف سامنے لانا ضروری ہے۔ ہم نے متفقہ موقف لیا ہے کہ ہمیں شریعت چاہیے مگر بندوق کے ذور پر نہیں ۔ ہم آئین اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔مجھے بتایا جائے کہ آج پارلیمنٹ میں قانون سازی ہورہی ہے یہ بندوق کے زور سے نہیں ہو رہی ۔حالانکہ ملک کہاں کھڑا ہے ادارے کہاں کھڑے ہیں یہ سب ہماری کمزوری کا نتیجہ ہے۔ ہم کہہ دیتے ہیں چلو ٹھیک ہے آگے دیکھتے ہیں آگے چلتے ہیں،ہم نظر انداز کرتے آرہے ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں جمہوری نظام بھی اس وقت پابہ جولان ہے۔ پھر یہ کہنا کہ دھاندلی کے لیے کمیٹی بنائی جائے اور کمیٹی اس بات کو تلاش کرے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں اس کو ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔اپوزیشن کا کمزور موقف ہونے کے باوجود حکومت اس طرف نہیں آرہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثریتی گروپ کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ مگر سندھ کی طرح پنجاب میں مسلم لیگ ن کو اکثریتی گروپ ہونے کے باوجود حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر مارچ میں سینیٹ کا الیکشن ہوجاتا ہے تو پارلیمان کا ایک حصہ ان جعلی لوگوں کے ہاتھ میں آجائیگا۔ اس لیے ہم بہت استراحت کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم نے اپنے مقصد کیلئے کچھ کام کیا ہے۔ اگر ہم نے سول سپرمیسی کیلئے کام کرنا ہے تو آپ تاجربرادری، صنعتکاروں، طالبعلموں اور دوسرے طبقات کے پاس جائیں۔ ان کے ساتھ بات کریں کہ ہم تحریک شروع کرنے جارہے ہیں آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔انھوں نے کہا کہ 17ویں ترمیم کی طرح ہم نے جنرل مشرف کے بنائے ہوئے نیب کے ادارے کو ختم کرنے کی بات بھی کی تھی مگر ہماری بات نہیں مانی گئی اور ہمیں آج تک پتہ نہیں ہے کہ کیوں اس کو برقرار رکھا گیا۔ آج پورے نظام کو دیکھیں اسمبلی، وزیراعظم اورچیئرمین سینیٹ سمیت اسپیکر بھی جعلی ہیں۔ اسمبلی میں قانون سازی کیلئے گنتی ہوئی ہے وہ غلط تھی اور پارلیمنٹ کی اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو اکثریت بنا دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد قومی اسمبلی کا سپیکر بھی جعلی قرار پاچکا ہے۔ اس کے بعد ہمیں وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جو ایف اے ٹی ایف کے ذریعے قانون سازی ہورہی ہے اس سے ہم نکل نہیں سکتے کیونکہ اب ایٹمی صلاحیت کو محدود کرنے کیلئے بھی توقعات بڑھیں گی۔ اس سے ہم تب تک نہیں نکل سکتے جب تک ہم مضبوط فیصلے نہ کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو اتنا کمزور کر دیا گیا ہے اور اتنا مقید کر دیا گیا ہے کہ وہ ہمارے لاکھوں کے اجتماعات دکھا نہیں پاتے۔ ہمیں میڈیاکے ساتھ شکایات کے ساتھ ساتھ ان کی مجبوریوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ پاکستان میگا پروجیکٹ کی طرف جارہا تھا ۔پاکستان نے معدنی ذخائر کی طرف جاناہےانھیں استعمال میں لانا ہے۔ مگر ان کو بند کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک سفارتکار نے بتایا کہ جب ہم نے حکومتی ارکان سے پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہاکہ پاکستان میگا پراجیکٹس کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا ہم چھوٹے منصوبے بنا رہے ہیں۔ انہوں نے پھر انڈے اور مرغی اور کٹے سے شروع کیا اور اب کہاں جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم زبانی گفتگو پر اکتفا نہیں کرسکتے۔ آپ بہت پیچھے ہٹ چکے ہیں۔انھوں نے اپوزیشن پارٹیوں سے کہا کہ دو سالوں تک ان کی بقا کا سبب آپ بنے ہیں۔ مگر اب تحریری معاہدہ ہوگا اور جو پیچھے ہٹے گا وہ قومی مجرم کہلائے گا۔ یہ کوئی مذاق نہیں کہ ہم بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں اور پھر ہم کمپرومائز کرلیں۔ ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارا ایک باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کا باقاعدہ نام ہونا چاہیے چاہے کسی بھی ملک یا سپرپاور کا مہمان یہاں آئے ہمیں انھیں پیغام دینا چاہیے کہ ہم اس حکومت کو نمائندہ حکومت ہی نہیں سمجھتے۔ ہمیں عالمی معاہدوں سے بھی کنارہ کشی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ کیا آپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ غیر قانونی ترسیلات ذر خفیہ اداروں کا اصلی بجٹ ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کا پیسہ بند ہونا چاہیے تو ہمیں یہ بھی کرنا چاہیے کہ پیسہ ان کے ہاتھ میں بھی نہ جائے۔ اب اپوزیشن کو ایک مضبوط فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہم تو اپوزیشن کے پیچھے کھچتے کھچتے یہاں تک آئے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website