yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    بین الاقوامی خبریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    • اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

سیاسی برداشت کا فقدان

Web Editor June 25, 2018 1 min read
Lack of political endurance
Share this:

ربِ کائنات نے اِنسان کو اشرف المخلوقات تخلیق کرکے اِس فانی دنیا میں بھیجا، اُسے عقل و شعور عطا کرکے اچھے اور بُرے کی تمیز سے آشنا کیا۔ انسان کو اس کی ان ہی صفات کی بِنا اعلٰی ظرف تصور کیا جاتا ہے۔ انسان میں ایک مادہ پیدا کیا جسے صبر و تحمل، برداشت کہتے ہیں۔ اسی صبر و تحمل کے ساتھ انسان شیِریں سُخن ہو تو وہ مسائل سے بَخوبی نِمٹ سکتا ہے۔

بجا کہ معاشروں کے اِقدار میں یَکدم تبدیلیاں پیدا نہیں ہوا کرتیں، ان تبدیلوں کے پیچھے مختلف عوامل کی ایک طویل تاریخ ہوا کرتی ہے۔ ہمارے سَماج سے بھی برداشت اور عمل آن واحد میں نایاب نہیں ہوۓ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ کی ہَوس اور اس کی خاطر بہر صورت طاقتور اور بار سُوخ ہونے کی طَمع نے ان سماجی اوصاف کا گلا دبانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور حالات سب سامنے ہیں۔ آپ یہ سنتے ہی ہوں گے کہ “جیسے حکمران ہوتے ہیں، ویسے ہی عوام ہوتی ہے”۔ بھلے یہ مقولہ عام زندگی میں بولا جاتا ہو، مگر اس کا حقیقت سے کافی گہرا تعلق ہے۔ سماج کی بالائی پَرت یعنی حکمران طبقہ میں پیدا ہونے والی خرابیاں بتدریج عوام میں منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور پورا سماج ان ہی قباحتوں کا شکار ہے۔ وطن عزيز کے ماضی میں زیادہ آگے جانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ بس گذشتہ سَتر سال کا دور دیکھ لیں۔ اس میں کیا کچھ ہوتا چلا آرہا ہے اور سیاسی معاملات میں عوام کی دلچسپی کافی نمایاں نظر آئی گی۔ تاہم آپ حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے۔

پاکستان کے حالات نے پَندره سالوں میں جو رُخ اختیار کیا ہے، اس میں کسی قسم کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ شائستگی، خیالات کی دُرستگی، غور و فکر کی جگہ دشنام طرازی نے لے لی ہے۔ حَزب اقتدار اور حَزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوۓ ذہنی پَستی اور اخلاقیات سے اُتر کر ذاتیات پر آجاتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو وزیر اِطلاعات و نَشریات مریم اورنگریب صاحبہ نے یہ اِستدعا کر ڈالی کہ خدارَا سیاست میں بہن، بیٹیوں کو مَت لائیں۔ اِن کی اِس بات کا اثر مَحض وقتی طور پر رہا۔ اب حالات نے ایسا پلٹا کھایا گویا کہ مُلک میں دریدہ دہنی کا مقابلہ ہی شروع ہوگیا ہو اور اب تک جاری ہے۔ ایسا کوئی دن نہیں جاتا کہ ایک دوسرے پر لفاظی حملے نہ کیے جاتے ہوں، طعن و تشنیع کی تو جیسے عادت سی ہوگئی ہو۔ ملک کے دانشور طبقے نے ان کی اصلاح اور سیاستدانوں کو اِس چلن سے دُور رکھنے کی کوشش تو کی ہے، مگر خدانخواستہ حالات قابو سے باہر ہوگئے تو حالات کو بہتری کی جانب لانا مشکل ہوجاۓ گا۔

افسوس کہ جمہوریت کے کئی سال کے تسلسل کے بعد حالات پہلے سے زیادہ ابتر ہیں۔ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے جمہوریت مُوزوں نظام نہیں ہے۔ لیکن اِسی جمہوریت کے خاطر کئی قربانیاں دی گئی ہیں۔ جب آمریت کا ملک پر سایہ تھا تو لوگ جمہوریت کے متلاشی تھے لیکن جب جمہوری نِظام رائج ہے تو ہم نے اس کے تقدُس کو پامال کیا ہے۔ اخلاقیات کا جو جنازہ نکالا ہے اس کے بارے میں سوچنا چاہئیے۔ آمریت میں کم از کم یہ تو معلوم ہوتا تھاکہ کس سے خوف کھانا ہے اور کس سے بچ نکلنا ہے۔ جمہوریت میں تو یہ آگاہی بھی چھین لی ہے۔ اگر سیاسی جماعت کے لیڈرز ایک دوسرے کو دھمکیاں دیں گے تو ان کے کارکن باہم دست و گریباں تو ہوں گے۔ خدا نخواستہ یہ سلسلہ آگے انتشار کی جانب گامزن ہو جاتا ہے تو سیاستدان ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

سیاستدانوں کو چاہئیے کہ سیاست کو شائستگی، صبر و تحمل، برداشت اور رَواداری کے ساتھ کریں، نہیں تو دوسرے ممالک کی سیاست کے اصول اِن کے سامنے ہیں۔ ان سے ہی کچھ اوصاف مُستعار لے لیں۔ انتخابات کی آمد آمد ہے، شائد اسی لیے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے عُیوب تلاش کرنے میں لگ گئی ہیں جن سے انتخابی فِضا مسموم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت سیاستدانوں کو غور و فکر کے ساتھ کام لینا ہوگا کیونکہ عوام حکمرانوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ عوام کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر اپنا مثبت تاثُر پیدا کریں۔ عوام کے سامنے اپنے آپ کو ایک مثالی نمونہ بن کے دکھائیں۔ یہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کَڑا امتحان ہے۔v

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Asked from NA-53 to Shahid Khaqan's appeal on the Election Commission
Previous Post این اے 53 سے شاہد خاقان کی اپیل پر الیکشن کمیشن سے معاونت طلب
Next Post کس پارٹی کو ووٹ دے کر جنت میں جایا جا سکتا ہے؟
Which party can be voted in paradise by voting?

Related Posts

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

August 15, 2026
What Happens to Melania Trump If President Dies?

اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟

July 18, 2026

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟

July 18, 2026

پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، مشکوک بیانیے کی تحقیقات ہونی چاہئیں: قاری فاروق احمد

June 11, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.