سان جوآن، پورٹو ریکو: 75ویں مس یونیورس مقابلے کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، جہاں دنیا بھر سے خوبصورت اور باصلاحیت خواتین اپنے ممالک کی نمائندگی کے لیے تیار ہیں۔ یہ باوقار مقابلہ 24 نومبر 2026 کو پورٹو ریکو کے دارالحکومت سان جوآن میں منعقد ہوگا۔ پاکستان کی جانب سے اس بار 26 سالہ سائیکالوجی کی طالبہ اور ماڈل Misbah Arshad ملک کی نمائندگی کریں گی۔
بین الاقوامی تجربے کے ساتھ عالمی اسٹیج کی طرف
Misbah Arshad اس سے قبل بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جن میں 2023 میں جاپان میں منعقدہ مس انٹرنیشنل مقابلہ بھی شامل ہے۔ ایک ماڈل اور کانٹینٹ کری ایٹر کے طور پر ان کی شناخت سوشل میڈیا پر فیشن، خوبصورتی، سفر اور مختلف ثقافتوں سے دلچسپی کے باعث نمایاں ہے۔
ٹیم ایشیا مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے
بھارت نے حال ہی میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ Kaziah Liz Mejo کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔ جے پور میں 23 اگست کو منعقدہ مس یونیورس انڈیا 2026 کے فائنل میں کازیہ نے 52 فائنلسٹس کو شکست دے کر تاج اپنے نام کیا۔ اس موقع پر Misbah Arshad نے نومنتخب بھارتی ملکہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
پچھلے ہفتے ہم نے تین خوبصورت ملکاؤں کو تاج پہنتے دیکھا، جس سے ٹیم ایشیا مزید مضبوط اور خوبصورت ہو گئی ہے۔
پاکستانی پیجینٹس کی جانب سے شیئر کی گئی ایک تصویری کولاج میں مس یونیورس تھائی لینڈ 2026 Tharina Botes، Misbah Arshad اور Kaziah Liz Mejo کو “ٹیم ایشیا: مضبوط تر ہوتی ہوئی” کے عنوان کے ساتھ دکھایا گیا۔
لڑکیوں کی تعلیم: سب سے طاقتور سرمایہ کاری
صرف خوبصورتی اور فیشن ہی نہیں، Misbah Arshad نے ہمیشہ تعلیم کی اہمیت پر بھی آواز اٹھائی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے۔ جولائی 2026 میں انہوں نے لاہور کے ایک اسکول کے دورے کی جھلکیاں شیئر کیں، جہاں انہوں نے طالبات سے بات چیت کی اور پاکستان کی ترقی سے متعلق اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اس تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے Misbah نے کہا کہ اس دورے نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم پاکستان کے مستقبل میں سب سے زیادہ اثر انگیز سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے۔
ناکامی فاتح کا تعین نہیں کرتی
مس یونیورس پاکستان تنظیم نے Misbah کو ملک کی نمائندہ قرار دیتے ہوئے انہیں ایک ایسی ملکہ قرار دیا جو “نفاست، خوبصورتی، اعتماد اور مقصدیت” کی علامت ہے۔ اپنے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے Misbah کا کہنا تھا کہ ناکامی اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ کوئی فاتح ہے یا نہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی امید برقرار رکھنے، محنت جاری رکھنے اور ہر قدم کے ساتھ بہتر ہونے سے ملتی ہے۔
ان کے سفید گاؤن میں بھی علامتی معنی پوشیدہ تھے۔ Misbah نے وضاحت کی کہ سفید رنگ امید کی علامت ہے، جبکہ شاہی نیلے کرسٹل تعلیم اور علم کی نمائندگی کرتے ہیں جو سیکھنے اور ذاتی نشوونما کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
عالمی اسٹیج پر پاکستان کا پیغام
جیسے ہی Misbah Arshad 75ویں مس یونیورس مقابلے کی تیاری کر رہی ہیں، وہ اپنے ساتھ تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور ذاتی ترقی کا پیغام لے کر بین الاقوامی اسٹیج پر جائیں گی۔ نومبر میں پورٹو ریکو میں ہونے والا یہ مقابلہ نہ صرف خوبصورتی کا مظاہرہ ہوگا بلکہ دنیا بھر سے آئی ہوئی خواتین کی آوازوں اور مقاصد کا پلیٹ فارم بھی ثابت ہوگا۔

