میڈیف اجلاس میں مختصر مگر فیصلہ کن اعلان
پیرس: فرانس کے شمالی علاقے او-د-فرانس کے صدر اور قدامت پسند جماعت لے ریپبلکن کے رہنما زاویئر برٹرینڈ نے 2027 کے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان جمعرات کو آجروں کی تنظیم میڈیف کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کیا۔
سابق وزیر محنت اور صحت نے صحافیوں کے سوال پر مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: “میں امیدوار ہوں گا۔” یہ اعلان فرانسیسی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ ان کی جماعت پہلے ہی برونو ریتائیو کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر چکی ہے۔
پرائمری میں حصہ لینے سے صاف انکار
برٹرینڈ نے واضح کیا کہ وہ دائیں بازو اور مرکزی قوتوں کی کسی ممکنہ پرائمری میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا: “ہم ہر بار وہی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔” یہ بیان ان کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک خود مختار امیدوار کے طور پر میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے اگست کے آغاز میں اخبار لو فیگارو کو دیے گئے انٹرویو میں بھی کہا تھا: “جب میں اعلان کروں گا تو ایک آزاد امیدوار کے طور پر کروں گا، اور میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔”
فرانسیسی دائیں بازو میں دراڑ
برٹرینڈ کا یہ اعلان فرانسیسی قدامت پسند کیمپ میں گہری تقسیم کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کی جماعت نے حال ہی میں برونو ریتائیو کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا، لیکن برٹرینڈ نے پارٹی فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی آزاد راہ اختیار کی ہے۔
زاویئر برٹرینڈ او-د-فرانس ریجن کے صدر ہیں۔ وہ سابق صدر نکولس سرکوزی کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2022 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن پرائمری میں ناکام رہے۔
2027 کی دوڑ پر ممکنہ اثرات
سیاسی مبصرین کے مطابق برٹرینڈ کی یہ جرات مندانہ پیش قدمی فرانسیسی سیاست میں دائیں بازو کی ساکھ کو مزید کمزور کر سکتی ہے، جہاں پہلے ہی ایمانوئل میکرون کی مرکزی جماعت اور میری لے پین کی انتہائی دائیں جماعت کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ سابق صدر فرانسوا اولاند نے بھی حال ہی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس میں 80 سے زائد تجاویز شامل ہیں، جس سے ان کی ممکنہ واپسی کے قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

