لاہور — ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم کے ممتاز اداکار جمشید انصاری کے مداح آج پیر کے روز ملک بھر میں ان کی 21ویں برسی منا رہے ہیں تاکہ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
ابتدائی زندگی اور پاکستان آمد
جمشید انصاری 31 دسمبر 1942 کو سہارنپور، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں وہ 1948 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے۔ جمشید نے 1964 میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔
چار دہائیوں پر محیط شاندار فنی سفر
چالیس سال سے زائد عرصے پر محیط کیریئر میں انہوں نے 200 سے زیادہ ٹی وی ڈراموں، تین فلموں اور متعدد ریڈیو اور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔
جمشید انصاری نے پاکستان کے طویل ترین ریڈیو پروگرام ‘حمید میاں کے ہاں’ میں صفدر کا یادگار کردار ادا کیا۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک یہ پروگرام سننا پاکستانی عوام کی دوسری عادت بن گیا تھا۔
لندن میں فنی تربیت اور واپسی
اسی سال وہ لندن روانہ ہوئے اور وہاں چار سال قیام کیا۔ لندن میں جمشید نے ٹیلی ویژن پروڈکشن کے کورسز کامیابی سے مکمل کیے اور اسٹیج شوز کے ساتھ ساتھ بی بی سی کے لیے بھی کام کیا۔
جمشید انصاری 1968 میں انگلینڈ سے واپس آئے۔ پاکستان میں ان کا پہلا اداکاری کا تجربہ لاہور ٹیلی ویژن کے ڈرامے ‘جھروکے’ میں ہوا جو 1968 میں پیش کیا گیا۔
کراچی ٹیلی ویژن سے پہلا ڈرامہ
جمشید کا کراچی ٹیلی ویژن سے پہلا ڈرامہ ‘گھوڑا گھاس کھاتا ہے’ تھا جسے آغا ناصر نے تحریر کیا تھا۔
جمشید کی اداکاری سے محبت انہیں نہ صرف اسٹیج اور ٹیلی ویژن بلکہ ریڈیو کی جانب بھی کھینچ لے گئی۔ انہوں نے متعدد ریڈیو پروگراموں میں حصہ لیا۔
اعزازات اور انتقال
جمشید نے اپنے اکتالیس سالہ شوبز کیریئر میں پچپن قومی اور دو بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے۔ ان میں نمایاں قائداعظم ایوارڈ اور گریجویٹ ایوارڈ شامل تھے۔
وہ 24 اگست 2005 کو برین ٹیومر کے باعث انتقال کر گئے۔

