counter easy hit

صف اول کے نوجوان صحافی کی پیشگوئیوں پر مبنی تحریر

Written on the predecessors of the first journalist of Safi

آپ اسے کشف سمجھیں یا پھر الہام، مگر مجھے پہلے ہی معلوم ہوگیا ہے کہ نئے پاکستان کا پہلا بجٹ عوام دوست، غریب پرور اور وزیراعظم کی طرح ہینڈسم ہے۔ اخبارات میں شائع ہونیوالی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق حکومت اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثال کے طور پر اقتصادی ترقی کی شرح نمو جو گزشتہ برس کے اختتام پر 5.79فیصد تھی اور سابقہ حکومت نے جس کا ہدف 6.3فیصد مقرر کیا تھا، معکوس ترقی کے بعد 3.3فیصد رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ تنزلی صنعتی شعبہ میں ہوئی۔ گزشتہ برس کے اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی ترقی 5.8فیصد نوٹ کی گئی چنانچہ بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف 7.6فیصد طے کیا گیا مگر موجودہ مالی سال کے دوران ریورس گیئر لگنے کے باعث صنعتی ترقی کی شرح لڑھکتے ہوئے 1.4فیصد پہ آکر رُکی۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بڑھوتری کا ہدف 8.1فیصد طے کیا گیا تھا، اگر اس شعبہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو لارج مینوفیکچرنگ کے تناظر میں 2فیصد جبکہ اسمال مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں شرح نمو 0.3فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تعمیراتی شعبے میں شرح نمو کا ہدف 10فیصد مقرر کیا گیا تھا مگر مالی سال کے اختتام پر معلوم ہوا کہ 7.6فیصد پر پہنچتے پہنچتے کنسٹرکشن کی سانس اُکھڑ گئی۔ محاصلات جمع کرنے والا ادارہ ایف بی آر بھی مطلوبہ ہدف سے بہت پہلے تھک کر گر پڑا۔ یوں ٹیکسوں کی وصولی میں 447ارب روپے کا ریکارڈ شارٹ فال دیکھنے کو ملا۔ البتہ ان بُری خبروں میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ توقعات سے بڑھ کر ترقی کرنے میں کامیاب رہا اورشرح نمو سے متعلق طے کئے گئے 3.8فیصد کے ہدف کو پھلانگتے ہوئے 4فیصد تک جا پہنچا۔ اچھی خبر کو دیکھتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار نکلا ”دیکھا، یہ ہوتا ہے وژن، یہ ہوتا ہے لیڈر، اسے کہتے ہیں تبدیلی“۔ البتہ جہاں تک باقی شعبہ جات میں ہدف حاصل نہ کئے جانے کی بری خبروں کا تعلق ہے تو اس کی ذمہ دار ماضی کی کرپٹ حکومتیں ہیں۔ آپ تحریک انصاف کی حکومت کو یہ کریڈٹ تو دیں نا کہ عوام سے غلط بیانی کرنے کے بجائے صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ کونسا شعبہ کس حال میں ہے۔ یہ نئے پاکستان کا اعجاز اور تبدیلی کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے کہ جس عبدالحفیظ شیخ نے 2010سے 2012تک مسلسل تین سال ایک بدعنوان حکومت کے زیر سایہ عوام دشمن بجٹ پیش کئے آج وہ نیک اور صالح حکمرانوں کے زیر اثر عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر مجبور ہیں اور ان کی مجال نہیں کہ غیرمتوازن بجٹ پیش کر سکیں۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے عبدالحفیظ شیخ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کر رہے ہونگے تو اس بار پیپلز پارٹی کے وہ جیالے بھی ان پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہوں گے جو 2010، 2011اور 2012میں ان کے گرد حفاظتی حصار بنالیا کرتے تھے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ عالمی بینک کے تربیت یافتہ مشیر خزانہ ایسے بدترین حالات میں بھی اپنے ہیٹ سے کوئی ایسا کبوتر نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کی بنیاد پر موجودہ بجٹ کو عوام دوست قرار دیا جا سکے۔ ویسے ہر حکومت کے ویژن کے مطابق بجٹ میں رنگ بھرنے والے ”بابو“ بھی کسی آرٹسٹ سے کم نہیں۔ یہ مصور موقع کی مناسبت سے ایسی پینٹنگ بناتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ کینوس بظاہر خالی دکھائی دیتا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسی پینٹنگ ہے۔ چتر کار بتاتے ہیں اس کینوس پر گھوڑے کو گھاس کھاتے دکھایا گیا ہے۔ لوگ تخیل کے گھوڑے دوڑاتے تھک جاتے ہیں تو اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس پینٹنگ میں گھاس کہاں ہے۔ نقاش مسکراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ گھاس تو گھوڑا کھا گیا۔ حیرت زدہ مگر سہمے ہوئے لوگ ہمت مجتمع کرکے ایک بار پھر استفسار کرتے ہیں کہ گھاس تو گھوڑا کھا گیا مگر گھوڑا کہاں ہے؟ صورت گروں کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں، چغد کہیں کے، گھوڑا گھاس کھانے کے بعد کھڑا تو نہیں رہے گا، کہیں گھومنے پھرنے گیا ہوگا۔ یوں یہ لوگ اپنی کم عقلی کا ماتم کرتے ہوئے گھر چلے جاتے ہیں۔ عوام تو کیا ان کے منتخب نمائندوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ بجٹ نامی پینٹنگ میں گھوڑا کہاں ہے اور گھاس کہاں مگر وہ بیچارے کوئی سوال پوچھنے کے بجائے خاموش رہ کر بجٹ کی حمایت یا مخالفت میں ڈیسک بجانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ عوام اور ان کی نمائندگی کرنے والے بیشتر ارکان پارلیمنٹ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ”معاشی شرح نمو“ کس چڑیا کا نام ہے؟ انفلیشن نام کا ہاتھی گنے کے کھیت میں گھس جائے تو کیسی تباہی مچاتا ہے، انہیں کیا معلوم؟۔ بجٹ ڈیفیسٹ نام کا پودا کیا گل کھلاتا ہے، ان بیچاروں کو کیا خبر۔ عام آدمی تو بس یہ جانتا ہے کہ کرپٹ حکومتوں کے دور میں دو وقت کی روٹی تھوڑی بہت تگ و تاز کے بعد مل جایا کرتی تھی مگر اب نیک اور صالح حکمرانوں کے دور میں کتے تو کیا انسان بھوکے مر رہے ہیں۔ آمدن گھٹتی جا رہی ہے مگر اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ مہنگائی کی گاڑی فراٹے بھرتی دوڑتی چلی جا رہی ہے۔ تمام غذائی اجناس عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بیمار ہونے کی سہولت محض رؤسا تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ غریب آدمی کی طبیعت تو دواؤں کی قیمتیں سن کر ہی صاف ہوجاتی ہے۔ مہنگائی تو ہر دور میں ہوتی رہی ہے مگر اس بار مہنگائی کی زد میں محض متوسط طبقہ ہی نہیں آیا بلکہ اس عام آدمی کے بھی پیر جل رہے ہیں جو طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے خاصا سخت جان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روپے کی قدر کم ہونے کیساتھ ساتھ آمدن بھی گھٹ گئی ہے یا پھر بالکل زیرو ہوگئی ہے۔ مگر میں ان حالات و واقعات سے متاثر ہونے والوں میں سے نہیں۔ آپ مجھے انصافیا کہیں یا یوتھیا، میں اب بھی نئے پاکستان سے مایوس نہیں۔ مجھے اب بھی سب ہرا دکھائی دیتا ہے، میں اپنے چترکاروں کی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ بظاہر خالی دکھائی دے رہے کینوس میں گھوڑے کو سبز گھاس کھاتے دکھایا گیا ہے۔ اگر موجودہ حکومت سانس لینے پر ٹیکس لگا دے تو تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میرا وزیراعظم ہی نہیں، اس کی حکومت میں پیش کردہ بجٹ بھی ہینڈسم ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website