counter easy hit

’’ دینی مدارس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔۔۔‘‘مولانا فضل الرحما ن کو پہلا جھٹکا، 25مذیبی تنظیموں نے آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے بڑا پیغام جاری کر دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) اہلسنت علمائے اکرام کی جانب سے کہا گیا ہے مولانا فضل الرحمان کا دھرنا پاکستان کی سلامتی اور امن کے خلاف ہے، اہلسنت کی تمام تنظیمیں اس آزادی مارچ یا دھرنے کا حصہ نہیں بنے گی۔ تفصیلات کے مطابق ااہلسنت پاکستان کے علمائے اکرام کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی مخالفت کر ددی گئی ہے۔ اس حوالے سے علمائے اہلسنت کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ پاکستان کے سلامتی اور امن کے خلاف ہے۔ اس حوالے سے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ دینی مدرسوں کا سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ، اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا مسئلہ ہے، ہم لوگ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کی بجائے 27 اکتوبر کو اپنے کشمیری بھائیوں اظہار یکجہتی کریں گے ، جو حالات اس وقت پاکستان کے ہیں ان میں حکومت مخالف کسی بھی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اور نہ ہی کسی کو حصہ لینا چاہیئے۔ یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اہلسنت پاکستان کا اتحاد 25 تنظیموں پر مشتمل ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پابندی کیلئے مزید اہم ترین ثبوت حکومتی اداروں کو مل گئے ہیں۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد انصار الاسلام پر پابندی لگانے کے حوالے سے آرٹیکل 256 کے تحت صوبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہدایات پر عمل ممکن ہے جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت انصار الاسلام پر پابندی کا معاملہ التوا میں رکھے گی۔ سب سے زیادہ انصار الاسلام کے رضاکار صوبہ سندھ میں ہیں اور اگر وہاں پابندی نہیں لگتی تو اسکے رد عمل میں دیگر امور پر بھی غورشروع ہو چکا ہے ۔ انصار الاسلام کے حوالے سے باقاعدہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی کسی بھی جگہ رجسٹریشن نہیں ۔ باقاعدہ پابندی لگانے سے پہلے چار سوالناموں پر جواب اور اس حوالے سے کام مکمل کیا جائیگا کہ اگر انہوں نے یہ رضاکار بنائے ہیں تو رضاکاروں کا کام مدد کرنا ہوتا ہے نہ کہ مسلح ہو کر کسی جماعت کا ونگ بنیں، کسی بھی تنظیم کو ملیشیا آرگنائز یونیفارم کی اجازت نہیں ہو تی۔ دس ہزار افراد کے پاس ایک جیسے ڈنڈے ، ایک جیسی یو یفارم، انکے کھانے پینے اور رہائش کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے ، کہاں سے فنڈنگ ہو رہی ہے ، تنظیم کے ہیڈ لاکھو نامی شخص کا کہاں سے تعلق ہے اور اگر یہ رضاکار ہیں تو یہ کس کی حفاظت کیلئے آ رہے ہیں؟ ذرائع کے مطابق اگر چاروں صوبوں میں سے کوئی صوبہ وفاق کی جانب سے بھیجی گئی پابندی کی سمری پرعمل نہیں کراتا تو پھر آئین کے مطابق وفاق اپنے اختیارات کو استعمال کریگا اور سندھ میں اگر پابندی نہیں لگتی اور سندھ سے اگر یہ پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو پنجاب کے اندر ان پر پابندی لگ جاتی ہے تو پھر پنجاب میں انکی گرفتاریاں قانون کے مطابق ہونگی۔ اگر ان پر آرٹیکل 256 کے تحت پابندی لگ جاتی ہے تو پھر اس تنظیم کو جہاں سے فنڈنگ ہو رہی ہو گی اور اگر وہ ذرائع نہیں بتائے جاتے تو پھر جمعیت علما اسلام کے اکائونٹس بھی اس حوالے سے چیک یا منجمد کئے جا سکتے ہیں ۔

would, not, allow, Molana Fazal ur Rahman, to, use, mdrasa, students, for, SitIn

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website