counter easy hit

سو لفظوں کی کہانیاں ۔۔۔ چھیاسٹھ سے ستر

Short Stories

Short Stories

تحریر : سید انور محمود
سو لفظوں کی کہانی نمبر 66۔۔۔۔ خودکشی ۔۔۔۔۔۔
سکندر کے وڈیرئے نے وعدہ کیا تھاکہ
وہ عید سے قبل اس کی کھیت مزدوری ادا کردیگا
کل اسے پتہ چلا کہ وڈیرہ عید منانے بڑئے شہر چلا گیا
رات بھر وہ لوگوں سے مانگتا پھر اکچھ نہ ملا
گھر واپس آیا تو عید کی صبح تھی ، بچوں نے اس سے کہا کہ
ابا! ہمیں بھوک لگی ہے
بچوں کی بھوک کی حالت برداشت نہ کرسکا
کمرئے میں جاکرچھت کے پنکھے میں رسہ باندھا
گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی
بچے اپنے باپ کی لاش سے لپٹ لپٹ کر
رو رہے تھے کہ ابا اٹھو!
ہم روٹی نہیں مانگیں گے

سو لفظوں کی کہانی نمبر 67۔۔۔۔ ایدھی مرگئے۔۔۔۔۔۔
دونوں بیمار ہوگئے
وزیر اعظم کا دل اور ایدھی کے گردئے خراب ہوگئے
وزیراعظم علاج کےلیے لندن چلے گئے
ان کا کامیاب آپریشن ہوگیا
ایدھی مفت کا علاج کرانےسرکاری ہسپتال ایس آئی یو ٹی چلے گئے
آٹھ جولائی کو ایدھی مرگئے اور
وزیر اعظم کو ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت دئے دی
اگلے دن ایدھی کو جب دفنایا جارہا تھا
وزیر اعظم کا چارٹر طیارہ لاہور میں اتررہا تھا
ایدھی ان ہی کپڑوں میں دفن ہوئے جو پہنے ہوئے تھے
ایدھی غریبوں کےلیے اربوں روپے چھوڑ گئے
وزیر اعظم کی آمد پر غریب عوام کے 30 کروڑ روپے خرچ ہوگئے

Terrorism

Terrorism

سو لفظوں کی کہانی نمبر 68۔۔۔۔ ’ڈو مور‘۔۔۔۔۔۔
فاطمہ بھٹو نے ایک کانفرس میں
دہشت گرد نامی سانپ ہم پر چھوڑنے والوں کو کہا
’’دنیا میں اکھٹے ابھریں گے یا اکھٹے ڈوبیں گے
یہ نہیں ہوسکتا کہ دمش میں دھماکہ ہو اور پیرس بچا رہے
کابل میں سکون نہ ہو اور لندن میں سکون ہو
امریکہ کے اسکولوں کے بچے محفوظ ہوں
اور بغداد میں بچے محفوظ نہ ہوں‘‘
آگے میرئے دوست بے باک کہتے ہیں
ائے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے حکمرانوں
آپ ہمیشہ ہمیں کہتے تھے ’ڈو مور‘ ’ڈو مور‘
لیکن آج ہم آپ کی ہمدردی میں آپ سے کہہ رہے ہیں
’ڈو مور‘ ’ڈو مور‘

سو لفظوں کی کہانی نمبر 69۔۔۔۔ فوجی بغاوت ۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف نوئے کی دھائی میں دو مرتبہ وزیر اعظم بننے
اپنے دوسرئے دور میں غیر جمہوری فیصلوں کی وجہ سے غیر مقبول ہوگئے
بارہ اکتوبر 1999 کو فوج نے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا
پندرہ جولائی کی رات ترکی میں فوجی بغاوت ہوئی
ترک وزیر اعظم اردوان نے عوام سے جمہوری حکومت بچانے کی اپیل کی
لاکھوں افراد باہر نکل آئےجنہوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا
نواز شریف کہہ رہے تھے
ترکی کے بہادر عوام کا عزم قابل تعریف ہے
اپنے پاکستانی عوام کےلیے ایسا کیوں نہ کہہ سکے
فرق واضع ہے مقبول اور غیر مقبول حکمراں میں

سو لفظوں کی کہانی نمبر 70۔۔۔۔ کشمیر کمیٹی ۔۔۔۔۔۔۔
رانا تبسم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کاخاندانی شجرہ
دادا تاج برطانیہ کا وفادار اورتنخواہ دارتھا
باپ پاکستان بنانے کے “گناہ” میں شریک نہیں تھا
نواز شریف کی وزات عظمی میں
کشمیر کمیٹی کی چیرمین شپ سونے کی کان
6 کروڑ روپے سالانہ کا بجٹ،
گذشتہ تین سال میں تین اجلاس ، لاگت 18 کروڑ روپے
رہا کشمیر کمیٹی کا کردار تو کشمیر کے نام پر 6 کروڑ روپے کی سالانہ عیاشی
میں نے پوچھا تو پھر
کشمیریوں کے دکھ درد پر کون آواز اٹھائے گا؟
کم ازکم کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین مولانا فضل الرحمان تو نہیں

Syed Anwer Mahmood

Syed Anwer Mahmood

تحریر : سید انور محمود