counter easy hit

خواتین آج بھی تشدد کا شکار ہیں

Women Violence

Women Violence

تحریر: امتیاز شاکر
ساری دنیا یہ بات تسلیم کرچکی ہے کہ آج کی عورت زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار نبھا رہی ہے۔اس کے باوجود مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز پر خواتین پر تشددکے حوالے سے رپورٹس اور خبریں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں، کبھی خبر آتی ہے کہ ایک معمرخاتون پر تشدد کیا گیا، اس کے بال مونڈکر سربازار منہ کالا کرکے گھسیٹا گیا۔

کبھی کسی نرس یا ہیلتھ ورکر خاتون پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح سینکڑوں واقعات رونما ہوتے رہتے ۔ہیں،خواتین کے عالمی دن پر لمبی لمبی تقاریر پھربھی کی جاتی ہیں،پران پر عمل نہیں کیا جاتا۔آج کی خواتین کوسب سے زیادہ گھرمیں ہی عدم تحفظ کا شکار بنا دیا جاتا ہے،جس کی عام شکل گھریلوتشددہے،پاکستان میں عورت کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے دومختلف رخ ہیں،پہلے رخ میں عورت زندگی کے ہرمیدان میں کامیابیاں حاصل کرتی نظرآتی ہے،جبکہ دوسرے رخ میں اس پر ظلم کی انتہا کی جاتی ہے،لڑکیوں کو براسمجھنا زمانہ جاہلیت کی گندی اور ناپسندیدہ روایات ہیں ۔آج کے معاشرے میں عورت کی بے توقیری دیکھتا ہوں تو دور جہالت کے بدصورت رسم ورواج تصویروں کی صورت آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں، مجھے احساس دلاتے ہیں کہ تُوبھی کسی مہذب معاشرے کا فرد نہیں بلکہ دورجہالت سے ملتے جلتے دور میں پیدا ہوا ہے۔

جس نسل کی ماں ظلم زیادتی ،ناانصافی کا شکار ہووہ کس طرح پرامن ،باشعوراور باعزت معاشرہ قائم کرسکتی ہے۔جولوگ اپنی مائوں ،بہنوں ،بیٹیوں اور بیویوں کو عزت وانصاف نہیں دے سکتے وہ کیونکر دنیا میں باعزت زندگی بسر کرنے کے حقدار ہوسکتے ہیں ۔غلام،بے توقیر اور ظلم کی چکی میں پسی ماں کس طرح بچوں کو خوددار،خودمختار،ایمانداراور باشعور بنا سکتی ہے؟جس معاشرے میں ماں ،بیٹی ،بہن اور بیوی کی کوئی عزت نہیں اُس معاشرے کے افرادکی دنیا کیا عزت کرے گی ؟جن کی ماں ،بہن،بیٹی اور بیوی کو اپنے بیٹے ،باپ،بھائی ،شوہر یا گھر پرکوئی حق نہیں وہ کس منہ سے دنیا سے اپنے یا انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں؟افسوس کہ اسلامی معاشرے کو غیرمذہب رسم ورواج نے یرغمال بنا کر ہمیں مفلوج کرکے ہمیں حقائق سے دور تر کردیاہے ۔ اسلام سے پہلے معاشرے میں بھی عورتوں کی کوئی عزت اور قدرومنزلت نہ تھی ۔وہ ظلم وستم کاشکار تھی۔

حضرت عمرفاروق فرماتے ہیں کہ مکہ میں عورتوں کوبالکل ناقابل توجہ سمجھا جاتاتھا ،مدینہ میں نسبتاعورتوں کی قدر تھی لیکن اس قدرنہیں جس کی وہ مستحق تھیں۔رسول ا للہۖنے حکم خُدا وندی کے تحت عورت کوعزت و احترام کا وہ مقام بخشا جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی کریمۖ نے عورت کے حقوق و فرائض کا تعین فرمایا اور اسے ماں،بیٹی،بہن اور بیوی سمیت تمام رشتوں سے عزت عطا فرمائی۔ارشاد نبوی ہے ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو(اپنی)بیویوں سے بہتر سلوک کریں اور میں اپنی بیویوں سے بہترین سلوک کرتا ہوں”خطبہ حجتہ الوداع میں بھی عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔آپۖ نے مسلمانوں کواس خطبہ کے ذریعے خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے پابند کردیا کہ ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئو،آپۖ نے فرمایا مردوں کایہ مقام نہیں کہ وہ عورتوں کو بھیڑبکری سمجھیں بلکہ سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کے تحت ہونا چاہئے اور انہیں ان کا جائز مقام ملنا چاہئے۔

افسوس آج مسلمان معاشرہ بھی ہندو و دیگر غیر مسلم معاشروں کے رسم ورواج اپناچکا ہے جن میں عورتوں کو نہ تو عزت دی جاتی ہے اور نہ انسان سمجھا جاتا ہے۔آج عورت پر ہر طرح سے ظلم وستم ہورہے ہیں ْوہ ماں بھی ہے،بہن بھی،بیٹی بھی اور بیوی بھی ،ہمیں اُس کی ضرورت بھی بہت ہے لیکن اُس کی عزت کرنا ہمارے لئے باعث شرم بنتا جارہا ہے ۔عام طورپرجب کوئی مرد اپنے گھرمیںجھاڑو دیتا ہے،برتن،کپڑے دھوتا ،فرش صاف کرتا یا پھر بچوں کو واش روم لے کے جاتا ہے تو معاشرہ اُس کا مذاق اُڑاتا ہے لیکن جب یہی مرد لمبے بال رکھتا ہے،ریشمی کپڑے پہنتا ہے یا عورتوں سے زیادہ فیشن کرتا ہے ،جب عورتیں کام کرنے کیلئے کارخانوں کا رخ کرتی ہیں تب اسی مرد کی مردانگی پر معاشرہ کوئی فتویٰ نہیں دیتا۔آخر عورت بھی انسان ہے وہ سارادن گھر،بچوں، مردکے رشتہ داروں اور مہمانوں کی خاطر داری سمیت کئی دیگر کام کرنے کے بعد رات کو مرد کا بھی خیال رکھتی ہے ۔جب یہی عورت گھر سے باہر کمانے نکلتی ہے اسے اس قدر ملامت نہیں کیا جاتا جس قدر ایک مرد کو برتن یاکپڑے دھونے پر کیا جاتا ہے۔مرد چھٹی والے دن بھی اپنے دوستوں اور دوسیتوں کے ساتھ وقت گزار سکتا ہے یعنی مرد کو کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کس کس سے ملتا ہے کیا کیا کرتاہے،وہ کسی بھی وقت کہیں بھی آجاسکتاہے لیکن عورت صرف کپڑے،برتن،فرش دھوسکتی ہے،کھاناپکاسکتی ہے ،مرد کے خاندان والوں کی فرمانبرداری کرسکتی ہے یہ سب کام کرنے کے بعد بھی اگر اُونچابولے گی تووہ اچھی عورت نہیں بلکہ بدسیرت ہوجائے گی۔

وہی مرد جو گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتا وہ سارا دن دفتر میں برتن بھی دھوتا ہے اور فرش بھی ،چائے بھی بناتا ہے اور کھانابھی گرم کرتا ہے اگرباس کے بچے دفتر آجائیں تو اُن کی نیپی بھی تبدیل کرتا ہے ۔یہ تمام کام کرتے وقت شرم کی بجائے فخر محسوس کرنے والا مرد ساری مردانگی گھر کی چاردیواری میں قید ایک عورت پر نکالتا ہے کیا اپنی بیوی دفتر کے باس کے مقابلہ میں بہت کمتر ہے؟عورتوں کی طرح لمبے بال رکھے ،سرخی ،پوڈر اور کاجل لگائے والدین کوبیٹاخوبصورت لگتا ہے لیکن اگر یہی بیٹا اپنی بیوی کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے گھر کا کوئی چھوٹا موٹاکام کردے تواُسے چوڈو،رن مرید،بڈی تھلے لگااور نجانے کون کون سے خطابات سے نواز دیا جاتا ہے ۔یہ مرد عورتوں کی طرح بیوی کو جہیز کم لانے کا طعنہ تو دے سکتا ہے لیکن خود کماکر اپنے گھر کی چیزیں پوری نہیں کرسکتا ۔ ہمارے معاشرے کو دیکھ کون یقین کرے گا کہ ہم رسولۖ کے اُمتی ہیں؟ جنہوں نے خود بھی خواتین کی عزت کی اور ہمیں بھی حکم فرمایا ہے ۔دُکھ تو اس بات کا ہے کہ اس برس بھی حقوق خواتین کاعالمی منایاتو جائے گا پراُن کوحقوق دینے کیلئے کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔افسوس کہ ہمیںخواتین کا عالمی مناتے صدی سے زائد عرصہ بیت چکاہے پر آج بھی دنیا بھر میں خواتین تشددکا شکار ہیں۔

Imtiaz Ali Shakir

Imtiaz Ali Shakir

تحریر: امتیاز شاکر:(1)فرید کوٹ روڈ لاہور
مرکزی ”نائب صدر” کالمسٹ کونسل آف پاکستان ccp
imtiazali470@gmail.com