counter easy hit

خاتون کتا سمجھ کو پالتی رہی ، سال بعد پتا چلا کہ وہ تو کوئی اور ہی مخلوق ہے ۔۔۔ پڑھیے ایک اکیلی عورت اور پالتو جانور کا دل دہلا دینے والا واقعہ

ایک چینی خاتون حال ہی میں بین الاقوامی خبروں کا حصہ بن گئی ہے جب اسے یہ پتہ چلا کہ ایک سال پہلے اس نے سفید رنگ کا جو چھوٹا سا کتا خریدا تھا وہ دراصل سفید لومڑ کا بچہ تھا۔ گزشتہ سال یہ خاتون جس کا نام وانگ بتایا جاتا ہے، نے ایک جاپانی نسل

Pakistan Jobs 2019 for 100+ Assistant Directors, Dy Directors, Dispatch Riders, Naib Qasid & Other

کا کتے کا بچہ چین کے صوبہ شنسی میں جن ژونگ کی ایک دکان سے خریدا تھا جہاں پالتو جانور فروخت کیے جاتے تھے۔ تین ماہ بعد اسے احساس ہوا کہاس کا پیارا کتا شاید مکمل طور پر ٹھیک نہیں تھاکیونکہ اس نے کتوں والی غذا کھانا چھوڑ دی تھی اور اس کی ایک نہایت غیر معمولی لمبی و ملائم دم بھی نکل آئی تھی۔ اس نے پھر بھی اس بات پر زیادہ توجہ نہ دی اور اسے بدستور گوشت اور پھل کھلاتی رہی۔ کچھ عرصہ یہ سب چلتا رہالیکن پھر اچانک ہی کچھ عجیب تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ وانگ نے بتایا کہ تین ماہ کی عمر میں اس کتے کی کھال موٹی ہو گئی۔اس کا چہرہ نوکدار اور دم ایک عام کتے کی نسبت طویل ہو گئی۔ باہر لے کر جانے پر دوسرے لوگوں کے کتے اس کے کتے سے خوف کھانے لگے۔ایک بار وانگ کو یہ احساس بھی ہوا کہ اس کا کتا کبھی بھونکا نہیں تھا۔ اسے یہ بات عجیب لگتی تھی۔ پھر پارک میں آنے والے افراد نے اسے کہا کہ اس کا کتا، کتا کم اور لومڑ زیادہ نظر آتا ہے۔اس بات پر وانگ نے کسی تجربہ کار شخص سے رابطہ کرنے کا سوچا۔ وہ اسے ایک چڑیا گھر لے گئی جہاں جانوروں کے وبائی امراض کا علاج کرنے والے ماہر سن لیشن نے اسے بتایا کہ یہ درحقیقت مقامی سفید لومڑ ہی ہے۔ جس کے بعد وانگ نے اپنا لومڑ اسی چڑیاگھر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ایک ماہ تک اس کی صحت کا بخوبی معائنہ کرنے کے بعد اس کی کسی لومڑ کی طرح ہی مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ البتہ اسے اپنی مرضی سے کسی بھی وقت اپنے لومڑ سے ملنے کے لیے چڑیا گھر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

All Pakistan Government & Private Latest Jobs 2019 for 100+ Categories as Assistant Directors, Dy Directors, Dispatch Riders, Naib Qasid & Other

women, keep, a, pet, thought, a, dog, but, that, was, another, creature

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website