counter easy hit

*پاکستان کی موجودہ تصویر* Be *Patriotic* Be *Pakistani* .

*پاکستان کی موجودہ تصویر*
Be *Patriotic* Be *Pakistani*
*ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی *ڈاٸری* سے اک ورق انتخاب *مسکان رومی ۔*
*ﺍﯾﮏ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺤﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺭﮈ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ* ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﯾﺐ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔزﺭ ﮨﻮﺍ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﺎﮞ! ﺍﺗﻨﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭرﺕ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻟﻔﻆ “ *ﯾﮩﺎﮞ* ” ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺍٓﺋﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ “ *ﺑﮭﺌﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎتھ* ” *ﺗﺎﺯﮦ* ” ﻟﮑﮭﻨﮯﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ”۔ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﻟﻔﻆ “ *_ﺗﺎﺯﮦ_* ” ﻣﺤﻮ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮکچھ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮ ﺍٓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ “ *ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ”۔* ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺍٓﺋﮯ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺑﻮﺭﮈ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ” *ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ ”* ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﯿﺶ ﺍٓﮔﺌﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ؟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ ” *ﻣﭽﮭﻠﯽ* ”۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﺑﻮﺭﮈ کچھ ﯾﻮﮞ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ “ *ﻣﭽﮭﻠﯽ* ” ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺍﺩﯾﺐ , ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺍٓﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ” *ﺑﮭﺌﯽ ﯾﮧ ﺑﻮﺭﮈ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮑﻠﻒ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ۔ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﭼﯿﺰ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﺭﮈ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮧ ﺭکھ ﻟﯿﺎ۔* یهی حال همارے ملک کا ہے۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﺑﮍﺍ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔”ﻻ ﺍﻟٰﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ” ﭘﮭﺮ کچھ ﻣﻔﮑﺮﯾﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ۔ *ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮑﻠﻒﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ؟ ﺟﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ , ﻟﻮﮒ ﻧﻤﺎﺯ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﻨﮕﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ۔* ہم تو امن و سلامتی کے داعی ہیں خدا تو معاف کر دیتا ہے بس اپنے آقاوں کو ناراض نہ ہونے دو ۔ *ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺷﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻠﻤﮧ ﮨﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﺭکھ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ* ۔ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓ ﺭﮨﺎ ۔ ﻧﮧ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻧﮧ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ، ﻧﮧ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ! نہ معاملات میں ۔ *بلکہ اب کچھ اور راگ آلاپنے والے اسے سیکولر اور قاٸداعظم علامہ اقبال کو انڈے ڈبل روٹیاں کھانے پارٹیاں انجواۓ کرنے والا قرار دے رہے ہیں* ۔ بلکہ ریاست مدینہ کے نام کا مکمل طور پر استحصال کر رہے ہیں ۔ آزادی راۓ پر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ہر اصول اور حدود سے تجاوز کر رہے ہیں ۔ *اغیار کا کریکلم اپنے نصاب کا حصہ بنا رہے ہیں ۔اپنے جہاں پیدا کرنے سے زیادہ غلامی کی زندگی گزارنے اور کشکول کے بھر جانے پر فخر کر رہے ہیں* ۔اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ دشمن پوری طرح تیار ہے کچھ اپنے میر جعفر والا کردار ادا کر رہے ہیں کچھ اپنی زبان سے اسلام کا نام لے رہے ہیں اور کردار سے نفرت پھیلا رہے ہیں *کچھ نوجوان نسل کو سیکولر کی چھت اور لبرل کا لباس پہنا کر چوہراوں کی رونق بنا رہے ہیں۔* کچھ کشمیر کی سلامتی کے ٹھیکدار بنے ہیں اور غلامی پسند ہیں .ایک درویش قسم کا عالم با عمل جج گزرا . *تاریخ میں اسے پیر محمد کرم شاہ الازہری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے* اس شخص کے لاکھوں شاگرد ہیں وہ اکثر اپنے شاگردوں کو کہا کرتا تھا کہ *آیندہ زمانہ میں جنگیں میدان جنگ میں نہیں کلاس رومز میں لڑی جایں گی* .آج آپ اور میں بھی اس جملہ کو حقیقت کے آینے میں دیکھ سکتے ہیں بڑے بڑے برینڈ آگیے سب کے سب کون سی تعلیم دے رہے ہیں یہاں ایسی تعلیم دی جارہی ہے جس میں وطن تو وطن اسلام تو اسلام گھر میں بوڑھے والدین بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں .تو *آج ہم ماڈرن بننے کے چکر میں غلام بن گے .ہر وہ شخص جو پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے اسے اسی وقت جواب دیں .* کیونکہ ہمارا ایمان اسلام اور پاکستان .الحمد للہ . *آج کل کے وزرا میں ایک وزیر ہے جو بہت پیارا نعرہ لگاتا ہے مجھے ذاتی طور پر اچھا لگا اس لیے میں نے اسے اپنی تقریر اور تحریر کا حصہ بنا لیا ہے .نعرہ ہے .*
*سدا سلامت* ….پاکستان
*تا قیامت* ….. پاکستان
*اس سابق وزیر.مملکت کا نام پیر امین الحسنات شاہ ہے* جو اسی *جسٹس پیرمحمد کرم شاہ الازہری کے بیٹے ہیں* .اللہ ہمیں بھی ایسا محب وطن بناے .امین *میری تحریریں عموما ان معاشرتی رویوں سے اپنا موضوع اخذ کرتی ہیں جن کی وجہ سے انسان بے سکون ہوا ہے .عمل کیجیے* اور کردار سے تبلیغ کیجیے . اصلاح خود سے شروع کریں جلد معاشرہ بدل جاے گا .محبت اخوت اور احساس عام ہو گا . اچھی بات اگے پھیلانا بھی صدقہ ہے .. شکریہ … ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے …https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
*ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں* . 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website