counter easy hit

‘کرونا وائرس کی دوسری لہر آتی ہے تو امریکہ کو بند نہیں کریں گے’

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کی دوسری لہر آتی ہے تو وہ امریکہ کو بند نہیں کریں گے۔ صدر نے کرونا وائرس سے متعلق خدشات کے باوجود امریکہ کی تمام ریاستوں میں کاروبار دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا ہے۔ جمعرات کو ریاست مشی گن میں وینٹی لیٹرز تیار کرنے والی فورڈ موٹرز کمپنی کے پلانٹ کے دورے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “لوگ ان ریاستوں میں پابندیوں کو نہیں مانیں گے جو معمولات زندگی بحال نہیں کر رہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقل لاک ڈاؤن کسی ریاست یا ملک کی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ کرونا وائرس کے بعد ملک ایک بھرپور واپسی کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے سبب امریکی معیشت زوال کا شکار ہے اور پچھلے نو ہفتوں کے دوران تین کروڑ 86 لاکھ امریکیوں نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔امریکہ کی تمام 50 ریاستوں نے کئی ہفتوں کی بندش کے بعد جزوی طور پر کاروبار کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم اپنے گرجا گھر کھولنے جا رہے ہیں، ہم اپنا ملک کھولنے جا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جس میں لوگ کھڑکیاں توڑ کر گرجا گھروں میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہذٰا اُنہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرجا گھر کھولنے کے لیے گائیڈ لائنز جاری کریں۔اپنے خطاب میں امریکی صدر نے ایک بار پھر چین کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

صدر نے کہا کہ “ہم مقامی سطح پر ادویات تیار کر رہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم کسی دوسرے ملک پر ادویات کے لیے انحصار نہیں کر سکتے۔پلانٹ کے دورے پر کار بنانے والی کمپنی فورڈ کے اعلٰی حکام بشمول چیئرمین بل فورڈ بھی موجود تھے جنہوں نے ماسک اور گوگلز پہن رکھے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُنہوں نے بھی فیکٹری کے دورے کے دوران ماسک اور گوگلز پہنے تھے۔ لیکن وہ ماسک پہن کر ذرائع ابلاغ سے گفتگو مناسب نہیں سمجھتے۔ پلانٹ کے دورے سے قبل تمام ملازمین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہر وقت ماسک پہنے رکھیں۔ فورڈ کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین بل فورڈ نے صدر پر زور دیا تھا کہ وہ ماسک پہنے رکھیں، لیکن اُنہوں نے پلانٹ کے کچھ حصوں کے دورے کے بعد ماسک اُتار دیا۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باوجود جی۔سیون ممالک کے سربراہان کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ جہاں 15 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں اس وائرس سے 95 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website