counter easy hit

ٹرمپ امیگریشن پالیسی، امریکا کے بعد مختلف ملکوں میں مظاہرے

ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کےخلاف امریکا کے بعد لندن،مانچسٹراور گلاس گوسمیت برطانیہ بھرمیں مظاہرے ہورہے ہیں۔امریکی صدرکودورہ برطانیہ سےروکنےکےلیےدستخطی مہم پرچودہ لاکھ افرادکےدستخط ہوئے ہیں۔

Trump immigration policy, after US protests in other different countries

Trump immigration policy, after US protests in other different countries

برطانوی وزیر خارجہ نے پٹیشن مسترد کر دی ،کہا کہ امریکی پابندی کا اطلاق برطانوی شہریوں پر نہیں ہوگا، چاہے وہ کسی بھی ملک میں پیدا ہوئے ہوں۔ ورجینیا میں مسلم رہنماؤں اور واشنگٹن کے اٹارنی جنرل کی جانب سے مقدمات دائر کر دیئے گئے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور حکومتی اہلکار عدالتی احکامات پر عمل نہیں کررہے۔ اقوام متحدہ نے کہاہے کہ ٹرمپ کے اقدامات الجھانے والے اور دل توڑ دینے والے ہیں۔ رواں ہفتے 800 پناہ گزینوں کی امریکا آمد روک دی ہے۔ جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں پر ویزا پابندیاں عائد کردی جائیں یا انہیں مشکوک سمجھا جائے۔ عراقی پارلیمنٹ میں امریکا کے خلاف جوابی اقدام کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ سابق امریکی صدرباراک اوباماکاصدارت سےسبکدوش ہونےکےبعدپہلابیان سامنے آیا ہے۔ اوباما کہتے ہیں وہ ٹرمپ کی تعصب کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے اسے مذہبی تعصب پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ٹرمپ کےمسلمانوں متعلق فیصلےسےامریکی روایات کوخطرہ ہے۔ انہوں نے ٹرمپ مخالف مظاہرین سےاظہاریکجہتی بھی کیا ہے۔
کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز نے واشنگٹن کی ایک عدالت میں صدر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ویزا کی پابندی مسلمانوں سے امتیازی سلوک کے مترادف ہے جو امریکی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔  واشنگٹن کے اٹارنی جنرل باب فرگوسن نے سات مسلم ممالک پر ویزا پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ ۔ نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں چاہے وہ صدر ٹرمپ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ اپنے مقدمے میں انہوں نے صدر ٹرمپ کے خلاف ہوم لینڈ سیکورٹی اورٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران کو فریق بنایا ہے ۔امریکن سول لبرٹیز یونین نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور حکومتی اہلکار عدالتی احکامات پر عمل نہیں کررہے۔ نیویارک کی ایک عدالت نے گزشتہ روز ایگزیکٹو آرڈر کو معطل کردیا تھا۔ برطانوی حکومت نے تیرہ لاکھ افراد کی جانب سے دائر کی جانے والے آن لائن پٹیشن کو مسترد کردیا ہے۔ پٹیشن میں حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کا دورہ برطانیہ منسوخ کرنے کا اعلان کرے جبکہ وزیر اعظم ٹیریزا مے کا کہنا تھا کہ امریکا ہمارا قریبی اتحادی ملک ہے اور دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے خطاب میں برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پابندی کا اطلاق برطانوی شہریوں پر نہیں ہوگا۔ چاہے وہ کسی بھی ملک میں پیدا ہوئے ہوں۔ اس حوالے سے امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے برلن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لوگوں پر ویزا پابندیاں عائد کردی جائیں یا انہیں مشکوک سمجھا جائے۔ ۔ صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی تعاون کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ نے مشترکہ قرارداد کی منظوری دی، قرارداد میں حکومت پر زور دیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ویزا کی پابندی کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا تو پھر جواب میں عراق کو بھی ایسا ہی اقدام اٹھانا چاہئے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website