counter easy hit

’’ سیاست کے تین سیانے‘‘

افضال ریحان

بہت سے دوستوں نے انڈین مووی ’’ تھری ایڈیٹس‘‘ دیکھی ہو گی۔جب ہم نے اس مووی کانام پہلی دفعہ سنا تو ہمیں ’’ ایڈیٹ کا لفظ‘‘عجیب لگا اس لئے کہ جس کی بھی تربیت بہتر تہذیبی ماحول میں ہوئی ہوتی ہے وہ اپنے مخاطب کو ’’توُ‘‘کہہ کر نہیں ’’ آپ‘‘ کہہ کے بلاتا ہے اپنے مخالف کا ذکر کرتے ہوئے بھی ایک وقار کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔اس لئے کسی ’’ایڈیٹ‘‘کو بھی ایڈیٹ کہنا مشکل لگتا ہے شنید ہے کہ جب بھٹو صاحب سیاست میں وارد ہوئے تھے تو اس نوع کی تہذیبی قدریںکا فی حد تک قائم تھیں جن کی وہ بعض اوقات خلاف ورزی کرتے پائے جاتے تھے اس کے باوجود اُن کے سیاسی مخالفین انہیں بھٹو صاحب کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے ۔اگر اصغر خان نے غلطی کی تو مفتی صاحب نے اُن کا پورا محاسبہ کیایہ تو اہل سیاست کی شائستگی کا طرز عمل تھا جبکہ کھلاڑیوں میں اس کے برعکس جو کلچر پایا جاتا تھا وہ نرم سے نرم الفاظ میں خاصا کھلنڈرا تھا جب ہم نے اخبار پڑھنا شروع کیا تو اس وقت اخباری رپورٹنگ میں کھلاڑی کے لئے جمع کا نہیں واحد کا صیغہ استعمال کیا جاتا تھا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اس میں ان کا قصور نہیں تھا ان بیچاروں کی تر بیت ہی ایسی ہوئی تھی؟ آگے چل کریہ اپنی اپنی صلاحیتوں کی بات ہوتی ہے کوئی وقت سے سیکھتا ہے اور کوئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو مہذب اقوام کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں داخلہ لے کر تھرڈ ڈویژن میں ڈگری تو حاصل کر لاتے ہیں لیکن اپنی تہذیبی اقدار کو وہ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اس لئے تہذیب اُن کا کچھ بھی بگاڑ نہیںپاتی مکے کے مضافات میں بدوئوں کی مثال تو مشہور ہے اس لئے اپنی قبائلی روایات کے اسیر لوگ خواہ آکسفورڈ سے ہو آئیں یا ہاورڈیو نیورسٹی سے تعلیم تہذیب یا نالج اُن کی اصلیت کو تبدیل کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔
ہمارے بہت سے قومی سیاستدانوں کو شکایت ہے کہ ہماری موجودہ سیاست میں کئی ایسے گھس بیٹھیے ہیں جو سیاسی ادب آداب کا پاس لحاظ نہیں رکھتے مثال کے طور پر ہمارے ایک جدی پشتی پختوں سیاست دان نے اپنے مقابل یا مخالف پریشر گروپ کے لیڈر کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اس بے بسی کا اظہار کیا ہے کہ اُن جیسی زبان استعمال کر سکتا ہوں نہ گالیاں دینے میں ان کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔کچھ اسی طرح کی مایوسی کا اظہار ہمارے اچھے خاصے ’’زبان دان‘‘ریلوے کے موجودہ وزیر نے کیا ہے اُن کا فرمانا ہے کہ ہم سیاسی میدان کے تو شیر ہیں لیکن اپنے مخالفین جیسی زبان ہمیں نہیں آتی ہے۔اپنی ریل ہی کے سابق وزیر کو تو وہ اس فن کا بادشاہ مانتے ہیں جن کی ’’لمبی زبان‘‘کے سامنے بڑے بڑے اہل سخن بے زبان ہو جاتے ہیں شاہد یہی وجہ ہے کہ چسکے لینے والا میڈیا لپک لپک کر اس سنگل سیٹ والے ’’ قومی رہنما‘‘کے آگے پیچھے بھاگا پھرتا ہے وہ بھی ہنس ہنس کر یا جل بھن کر بتا رہے ہوتے ہیں کہ اگر مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تو یہ زبان وہاں بھی یونہی ’’پھلجھڑیاں‘‘بکھیرتی رہے گی۔
کسی کو سیاسی اناڑی کہنا بھی شاید مناسب فقرہ نہ ہو لہذا اُ س شخص کو جسے ربع صدی کے دھکے کھانے کے باوجود سیاست نہ آئی ہو اس کے لئے ’’اناڑی ‘‘کی بجائے مہذب لفظ شاید ’’سیاسی نابالغ‘‘کا ہو سکتا ہے یا پھر ’’ھولا‘‘یا کمزور سیاستدان لیکن کیا کریں اعتراضات تو ان الفاظ پر بھی وار ہو سکتے ہیں ۔کرسی کا حصول ہر سیاستدان کی آخری تمنا ہوتی ہے گو اس سے پہلے کچھ کرکے دکھانا ہوتا ہے عوامی خدمت کے جذبے سے بندہ نیچے سے شروع ہوتا ہے مختلف ذمہ داریوں پر فائز ہوتے اور نبھاتے ہوئے اپنا آپ منواتا ہے یوں تجربات سے گزرتے ہوئے سیاست کے میدان میں اعلیٰ مقام تک پہنچتا ہے یہ تو نہیں ہوتا کہ بندہ کھیل کے میدان سے اُٹھے اور سیاست کے آخری رتبے کو چھین لینا چاہے بے شک دوستوں کی گردنوں پر ہی نہیں لاشوں پر بھی چڑھنا پڑے۔۔
ہمارے ایک ایسے ہی ’’پیشہ ور سیاستدان ‘‘کے متعلق رپورٹ چھپی تھی کہ انہیں کوئی فارم پر کرنے کے لئے دیا گیا جس میں ایک خانہ پروفیشن یا پیشے کا تھا۔نام اور ولدیت کے خانے تو انہوں نے جلدی سے پر کر دئیے۔لیکن پیشے پر آ کر اٹک گئے ۔۔۔ساتھ بیٹھے دوستوں سے پوچھا کہ بتائو میں پیشے میں کیا لکھوں ؟۔وہ بیچارے کیا بتاتے ۔پیشہ کوئی ہوتا تو وہ بتاتے ۔اس کھلاڑی کا پیشہ بھی اب سابق ہو چکاتھا لہذا کافی تردو کے بعد خود ہی یہ سوچ لیا کہ ’’ پیشہ‘‘کے خانے میں لکھ دو ں ’’سیاستدان‘‘۔اب ان دونوں لفظوں کو ملا کر اگر کوئی قلمکار اسے’’ پیشہ ور سیاستدان‘‘ کہہ دے تو اس پر غصہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ قطعاً غیر مہذب اصلاح نہیں ہو گی کیونکہ یہ موصوف کی اپنی پسند ہے۔
بات تھری ایڈیٹ سے شروع ہوئی تھی کہ کسی بھی شخص کے لئے چاہے وہ جتنا بھی ’’ایڈیٹ ‘‘ ہو ہمیں یہ اصطلاح استعمال نہیں کرنی چاہئے تو کیا پھر اس لفظ کو انگریزی یا اردو ڈکشنری سے نکال دیا جائے آخر کہیں نہ کہیں تو یہ استعمال ہو گا ۔انڈین فلم بنانے والوں نے اس اصطلاح کا قطعی غلط استعمال کیا ہے فلم میں وہ تینوں لڑکے من کے بہت اچھے تھے بلکہ من موجی تھے ۔اب اگر کوئی نئی’’ تھری ایڈیٹس ‘‘بنے ۔ تو اس کے دو حقیقی کردار ہم بتائے دیتے ہیں تیسرے کردار کا فیصلہ ہم فلم بنانے والوں یا اسلا م آباد کے عوام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ان میں ایڈیٹ کا ایک کردار تو خود انڈین سیاست میں موجود ہے اور انڈیا کی اس سے بڑی بدقسمتی ہونہیں سکتی ہے کہ وہ کردار اب مودی صاحب کی شکل میں انڈین سیاسی قیادت پر فائز ہے جبکہ دوسرا ایڈیٹ ٹرمپ کے نام سے امریکہ کی سیاسی قیادت پر فائز ہو نے کے لئے سچ جھوٹ کی تمیز کیے بغیر تہذیب اور شائستگی کو پائوں کے جوتوں تلے روندتے ہوئے قلابازیاںکھا رہا ہے لیکن ہیلری لگتا ہے شیر کی بچی ہے اور پھر امریکی قوم اپنے حقیقی ایڈیٹ کو پہچاننے میں قطعاً غلطی نہیں کھا سکتی۔۔ پاکستان میں بھی بلاشبہ اس نوع کی خاصی گرمجوشیاں دکھائی جارہی ہیں ایمپائروں کی انگلیوں کے اشارے سمجھائے جا رہے ہیں لیکن ہم اپنے کسی ایڈیٹ کا نام لے کر اپنے اخباری ایڈیٹر کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے البتہ موقع ملا تو ان تھری ’’ایڈیٹس‘‘ کی خصوصیات کسی کالم میں مفصل بیان کر دیں گے جو اتنی ملتی جلتی ہیں کہ ہمارے قارئین اس خدمت پر ہمارا شکریہ ادا فرمائیں گے۔

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website