اسرائیل شہری مسجد نبوی میں کیسے داخل ہوا،مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی
ریاض: اسرائیل کے ایک شہری کے مسلمانوں کے مقدس ترین دوشہروں میں سے ایک مدینہ منورہ میں داخل ہونے اور اسکے بعد مسجدنبوی ﷺ میں جاکر سیلفی بنوانے پر دنیابھر کے مسلمان سوشل میڈیا یوزرز نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلامی عقائد کے مطابق غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
تاہم اسکے باوجود روس میں پیدا ہونے والا 31سالہ اسرائیلی شہری بن تیزیون نہ صرف مدینہ منورہ میں داخل ہوا بلکہ اس نے وہاں اپنی سلفیاں بنانے کے ساتھ مقامی لوگوں کے ساتھ بھی سیلفیاں بنوائیں۔اس دوران اسکے پیٹ پر ایک چرمی بیگ نما بیلٹ بندھا ہوا تھا جس پر عبرانی زبان میں اسکا نام تحریر بھی تھا،تاہم کسی نے بھی ان چیزوں پر اعتراض نہیں کیا۔ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق یہ شخص اس سے قبل ایران ،لبنان، اردن اور سعودی عرب میں واقع مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات پر بھی جاچکا ہے۔بن تیزیون کی اس حرکت پر مسلمان سوشل میڈیا یوزرز نے اتنی زیادہ تنقید کی کہ انسٹاگرام نے منگل کو اسکا اکائونٹ ہی معطل کردیا۔واضح رہے کہ منگل کی صبح تک اسکے مسجد نبوی سے جاری کردہ ویڈیوکوتیس ہزار لوگوں نے دیکھا اور اس پر ساڑھے تین ہزار کمنٹس جاری کیے ۔مذکورہ اسرائیلی اخبار سے گفتگوکرتے ہوئےبن تیزیون نے کہا کہ اس قسم کے دورے اسکا مشغلہ ہے۔
تاہم اس نےزور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسکا دورہ ایک دوست کی حیثیت سے ہے اور وہ اسلام اور عرب دنیا کا احترام کرتا ہے۔اس نے مزید کہا کہ وہ دیگر ثقافتوں اور مذاہب کے تقدس کا دلی احترام کرتا ہے۔اس نے بتایا کہ وہ تہران، قم، بیروت اور ریاض میں جن لوگوں سے بھی ملا انکا رویہ نہایت دوستانہ تھا۔ان لوگوں نے اس کے مختلف قسم کے لباس اور سر پر رکھے عربی کیفا کو دیکھ کر اس سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور جب اس نے انھیں بتایا کہ وہ یروشلم اسرائیل سے آیاہے تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا۔








اسرائیل کے ایک
واضح رہے کہ غیر مسلمانوں کو مکہّ کا دورہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور انھیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کے مرکزی حصے میں داخل نہ ہوں جہاں مسجدِ نبوی واقع ہے۔ تاہم تسیون کا کہنا ہے کہ مدینہ میں واقع مذہبی مقامات عام افراد کے لیے کھلے ہیں۔تسیون نے اخبار ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک کا دورہ کرنا ان کا ‘مشغلہ’ ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام کو ‘دیگر ثقافتوں اور عقائد کا احترام’ قرار دیا۔ واضح رہے کہ بین سنہ 2014 میں اسرائیلی شہری بن گئے تھے۔ان کے بقول ‘عرب دنیا کبھی میرے ساتھ دشمنی کے ساتھ پیش نہیں آئی، اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اسرائیل اور یہودیوں سے محبت کرتے ہیں۔’تسیون نے بتایا کہ انھوں نے مطلوبہ ویزے حاصل کیے اور قانونی طور پر تمام مقدس مقامات میں داخل ہوئے، تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ انھوں نے کن پاسپورٹوں پر سفر کیا۔انھوں نے سوشل میڈیا پر ایران کے شہروں تہران اور قم کے دورے کی بھی تصاویر پوسٹ کیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کے شہریوں کو ایران کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔تسیون کے امن کے اظہار کے باوجود ان کی پوسٹ کی جانے والی تصاویر پر غصے کا اظہار کیا گیا۔سوشل میڈیا پر عربی ہیش ٹیگ ‘مسجدِ نبوی میں ایک یہودی’ کو گذشتہ 24 گھنٹوں میں 90 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کو اپنی جانب متوجہ کیا۔



