counter easy hit

حکوم کو گھر بھیجنے کے لیے (ن) لیگ نے آخری کارڈ کھیلنے کی تیاریاں شروع کر دیں

The N-League started preparing the last card to send the government home

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک سال میں حکومتی بجٹ خسارہ 8.9فیصد تک پہنچ چکا ہے جو کہ پچھلے 40سال کے اندر بلندترین خسارہ ہے ،یہاں پر ترقیاتی اخراجات توہوئے ہی نہیں، بلکہ 50فیصد کم کردیے گئے ہیں یہ بہت بڑی الارمنگ صورتحال ہے ،ٹیکس وصولیوں میں 600ارب کی کمی ہوئی ہے ،حکومت معیشت کونہیں بچاسکتی، تومستعفی ہوجائے ۔ انہوں نے مریم اورنگزیب اور سابق گورنر محمد زبیر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہاکہ حکومت جو صبح شام قرضوں کا حساب کرکے بتاتی تھی ،لیکن آج 120روپے سے 160روپے کے درمیان 40روپے کمی ہوئی ہے ،روپے کی قدر میں 40فیصد کمی سے قرضے کئی ہزار بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے ،پوری قوم گوادر سے گلگت تک متحرک ہے لیکن وزیراعظم اور وزیرخارجہ دونوں نظر نہیں آرہے ، وزیراعظم نے پاکستان سے باہر نکل کراسلامی ممالک کا کیوں دورہ نہیں کیا؟ پاکستان کی حکومت اگر ترکی کے ساتھ رابطہ کرتی توترکی سربراہی اجلاس کیلئے اپنا وزن ڈال سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسئلہ کشمیر پر سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرنا چاہیے ؟، ہمیں تشویش ہے ہم نے اجلاس بلانے کی قرارداد جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔احسن اقبال نے کہاحکومتی پالیسیاں ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، موجودہ حالات میں حکومت کو گھر بھیجنا مسائل کا واحد حل ہے ، اپوزیشن جماعتیں اس پر متفقہ لائحہ عمل بنا رہی ہیں،چودھری نثار کے پارٹی میں واپس آنے کا کوئی علم نہیں،وہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے ۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کاغذات لہرا کر وزرا کرپشن کا نیا ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں، عدالتوں میں ثبوت کی بجائے واٹس ایپ پر جج تبدیل ہوتے ہیں، وزیر اعظم سمیت تمام وزراء کے نام ای سی ایل میں شامل کئے جائیں،یہ نہ ہو کسی صبح معلوم ہو باہر بھاگ گئے ۔محمد زبیر نے کہا کہ یہی صورتحال رہی تو چھے سے آٹھ ماہ میں معیشت مکمل تباہ ہو جائے گی۔سنا ہے بھارت کیلئے پاکستان کی فضائی حدود بند کی جا رہی ہے. انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسئلہ کشمیر پر سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرنا چاہیے؟ یہ کیفیت پاکستان کے مئوقف کو کمزور کررہی ہے، ہمیں تشویش ہے ہم نے اجلاس بلانے کی قرارداد جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے.انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو ایک سال میں ریڈزون میں داخل کردیا ہے.انہوں نے کہا کہ جب کسی جہاز کو ایمرجنسی ہوتی ہے تو کیپٹن مے ڈے کا میسج بھیجتا ہے. ایک سال میں حکومتی بجٹ خسارہ 8.9فیصد تک پہنچ چکا ہے.یہ پچھلے 40سال کے اندر بلندترین خسارہ ہے.یہاں پر ترقیاتی اخراجات توہوئے ہی نہیں، بلکہ 50فیصد کم کردیے گئے ہیں.یہ بہت بڑی الارمنگ صورتحال ہے، اس کی بنیادی وجہ حکومت ٹیکس محصولات میں ناکام بے بس اور دوسرا کرنٹ اخراجات بڑھ گئے ہیں.ٹیکس وصولیوں میں 600ارب کی کمی ہوئی ہے.دنیا میں کوئی مثال نہیں کہ کوئی معیشت ایک سال میں 3.5فیصد گر جائے. لیکن یہ ریکارڈ نیا پاکستان کی ٹیم نے بنا دیا ہے.موجودہ حالات میں پاکستان کی معیشت صفر فیصد ترقی کررہی ہے.10لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں.ایک سال میں بیرونی سرمایہ کاری میں 50فیصد کمی ہوچکی ہے.احسن اقبال نے کہا کہ یہ حکومت جو صبح شام قرضوں کا حساب کرکے بتاتی تھی ،لیکن آج 120روپے سے 160روپے کے درمیان 40روپے کمی ہوئی ہے .روپے کی قدر میں 40فیصد کمی سے قرضے کئی ہزار بڑھ گئے ہیں. تمام سیکٹرز میں کارخانے بند ہورہے ہیں، ترقی کی شرح رک گئی ہے.انہوں نے کہا کہ ایک سال میں تقریباً10ہزار ارب قرضے لیے ہیں، جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے 5سال میں لیے تھے.ہم نے 10ہزار ارب میں تعمیر وترقی کے منصوبے بنائے، 12ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی،سڑکیں بنائیں. کسی حکومت نے ماضی میں عوام کی گردن پر اتنا قرضہ نہیں چڑھایا جتنا اس حکومت نے چڑھا دیا ہے.

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website