counter easy hit

صف اول کے صحافی نے نمبر گیم کے حوالے سے حیران کن حقائق سامنے رکھ دیے

The front-page reporter put out surprising facts about the number game

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی ساری قیادت ڈٹی ہوئی ہے کہ سندھ میں حکومت کا کوئی ککھ نہیں بگاڑ سکتا۔مگر سندھ میں طاقت کا اصل منبع اور سر چشمہ روایتی جاگیر دار گھرانوں کا ایک بڑا حلقہ جن کے نوجوان سندھ اسمبلی میں معقول تعداد میں بیٹھے ہیں، نامور کالم نگار مجاہد بریلوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک خاص مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئےہے۔ جھکرانیوں،بجرانیوں،مگسیوں،مہروں، شیرازیوں ،تالپوروں سمیت اپنی طاقوں میں بیٹھے ’’صاف چھپتے بھی نہیں،سامنے آتے بھی نہیں‘‘۔ یہ درست ہے کہ سندھ میں چھ دہائی سے بھٹوز کے ووٹ بینک کا زور ابھی کمزور نہیں پڑا مگر جولائی 2018ء کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے باوجود اس میں دراڑیں ضرور پڑی ہیں۔خود بھٹوز کے آبائی گاؤں لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی نا اہلی کے سبب ان کی صاحبزادی ندا کھوڑو کی شکست پارٹی کی قیادت کے لئے کچھ کم دہلا نے والی نہیں تھی۔پھر اسی طرح نصف دہائی سے اوپر پی پی پی کے سیاسی گڑھ لیاری میں بھٹو خاندان کی تیسری پیڑھی کے وارث بلاول بھٹو زرداری کی شکست بھی بھٹوز اور انکے لاکھوں جانثاروں کے لئے کچھ کم بڑا صدمہ نہیں تھی۔بھٹو صاحب کی آخری چشم و چراغ صنم بھٹو خاص طور پر لندن سے لیاری پہنچیں۔مگر ایک اجنبی کی طرح انہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔جولائی 2018ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ہاتھ 97نشستیں آئیں ۔رہی تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی نشستیں، تو اسکے بارے میں کراچی کے سیاسی پنڈت نے 24گھنٹے پہلے سرگوشی میں خبر دی کہ سب کچھ گیم پلانر کے ہاتھوں میں ہے۔آگے بڑھنے سے پہلے ،ذرا سندھ میں پارٹی پوزیشن پر نظر ڈال لیں: پیپلز پارٹی 97/تحریک انصاف30/ متحدہ قومی موومنٹ 17/ جی ڈی اے 13/تحریک لبیک 2/جماعت اسلامی 1 نمبر گیم میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانا تو معجزہ ہی کہلائے گا۔ بھلے سندھ کے روایتی سیاسی گھرانوں کی نشستیں موروثی ہی کیوں نہ ہوں ماضی کی دونوں حکومتوں کی کارکردگی بھی بھلے صفر جمع صفربرابر صفر ہو،پر بھٹوز فیکٹر یعنی پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا impactبہر حال ابھی تک اتنا کمزور نہیں پڑا کہ اسے ایک طرف رکھ کر اسٹیبلشمنٹ سندھ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کردے ۔سندھ نصف دہائی سے پاکستان کے تینوں صوبوں کے مقابلے میں ہمیشہ مختلف نتائج دیتا رہا۔جام صادق علی کا ایک مختصر دورضرور ایسا تھا کہ جب جام صادق اسٹیبلشمنٹ کی چھڑی پکڑ کے سندھ کی عنان ِ حکومت سنبھال بیٹھے تھے۔مگر جام صادق علی جیسے لوگ میر صادق کی طرح ایک ہی ہوتے ہیں۔یہ جو میں نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ کے منفرد سیاسی کردار کا ذکر کیا تو اسکا ایک پورا تاریخی پس منظر ہے۔بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کی نمائندہ جماعت نیشنل عوامی پارٹی سن1970ئکے انتخاب میں بڑی مشکل سے سادہ اکثریت حاصل کرسکی تھی۔حکومت بنانے کے لئے اسے دائیں بازو کی جماعت جمعیت علمائے اسلام سے اتحاد کرنا پڑا تھا۔مگر نیشنل عوامی پارٹی وقت گذرنے کے ساتھ اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی کہ آج اُس کے کسی دھڑے کی بلوچستان اسمبلی میں ایک بھی نشست نہیں ۔اس وقت کے صوبہ ٔ سرحد میں سو سالہ سیاسی سیاسی جد وجہد اور قربانیوں کے باوجود باچا خان کی وارث ،ولی خان کی نیپ کو بھی سرحد اسمبلی میں چالیس میں سے صر ف تیرہ نشستیں سن 1970ء کے انتخاب میں ملی تھیں۔حکومت بنانے کے لئے انہیں جمعیت علمائے اسلام کے اُس وقت کے سربراہ مولانا مفتی محمود کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔1970ء کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے، صرف ایک کو چھوڑ کر جس میں اُسے اپنے بد ترین دشمن بھٹو ز سے ہاتھ ملانا پڑا،ہر آنے والے الیکشن میں نیپ کی نشستیں کم ہی ہوتی رہیں۔رہا پنجاب ،تو سن1970ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو سندھ سے زیادہ نشستیں ملی تھیں۔جولائی1970ء میں ضیاء الحق کے ہاتھوں پی پی پی کی حکومت کا خاتمہ اور پھر پاکستانی سیاست کے سب سے سحر انگیز پاپولر قیادت کی شہادت،وطن ِ عزیز کی سیاست کا وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔جس نے پاکستانی سیاست ہی نہیں ،جمہوریت کا چہرہ بھی مسخ کردیا۔ ضیاء آمریت کے خاتمے کے بعد سن 1988ء کے الیکشن کے آتے آتے وطن عزیز میں sham democracyکی نیو پڑ چکی تھی۔اور اب تو ایک نہیں ،درجنوں کتابوں میں جن میں آئی ایس آئی کے سربراہان بھی شامل ہیں،بڑے زور دعوے سے اس بات کا کریڈٹ لیا جاتا ہے کہ قومی مفاد میں ماضی میں جتنے بھی انتخابات ہوئے وہ engineeredتھے۔صرف ایک ایئر مارشل اصغر خاں ،کہ اس کی مثال سامنے ہے ، جس میں اس وقت کے صدر ِ مملکت ،اس وقت کے آرمی سربراہ اور آئی ایس آئی چیف اس بات کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند کے انتخابی نتائج حاصل کرنے کے لئے سیاست دانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کئے۔poorایئر مارشل چوبیس سال تک اس کیس کی پیروی کے لئے چھڑی پکڑے گھسٹتے ہوئے،شاہراہ ِ دستور پر انصاف کی طلب میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ رہے ہمارے وزیر اعظم محترم عمران خان صاحب، اُن کے مشیر، وزیر اور معاونین فوجِ ظفر موج ،تو وہ اس زعم میں نہ رہیں کہ گیم پلانر نے اُن کے لئے اقتدار تاحیات لکھ دیا ہے۔ وفاق اور خاص طور پر پنجاب میں انہیں جو حکومتیں ملی ہیں، اُن کا حصہ بس بقدرِ جثہ ہے۔ اور یہ جثہ جتنا بڑا اور قوی ہے،اُس کا انہیں ضرور ادراک ہوگا۔ جولائی 2018ء کے الیکشن سے پہلے اور بعد جو ڈھٹائی سے تبدیلیاں لائی گئیں۔اس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔مگر بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت کو گرانا،سینیٹ میں صادق سنجرانی کو چیئر مین کی کرسی پہ بٹھانااور پھر مرکز اور پنجاب میں بیساکھیوں سے اقتدار کی عمارت جو کھڑی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ وہ کتنی مضبوط ہے ،بنی گالہ کے مکینوں کو یقینا اس کا علم ہونا چاہئے۔اس لئے اُن سے اور اُن کے سرپرستوں سے دست بستہ عرض ہے کہ سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے کھیل سے خود کو دور رکھیں۔کہ بہر حال خیبر پختونخواہ کی طرح سندھ میں بھی ایک نمائندہ حکومت قائم ہے۔سندھ کی نمائندہ حکومت کو گھر بھیجنے کے بعد مرکز سمیت ہر صوبے کی حکومت گیم پلانر کے رحم و کرم پر ہوگی۔رہے گیم پلانر، توان کے بارے میں لکھتے ہوئے پر جلتے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website