counter easy hit

دہشت گرد کیوں پیدا ہوتے ہیں

Terrorist

Terrorist

تحریر : عتیق الرحمن
انسانی معاشرے کا ہر فرد یہ چاہتاہے کہ اسے سماج میں پنپنے و پھلنے پھولنے کے لئے آزادی کے ساتھ مکمل حق حاصل ہو۔ اسلام اور اقوام عالم کی تمام تہذیبیں اور قومی انسان کی فطرتی آزادی کا تحفظ کرتے ہیں اور اسے آزادی مذہب، آزادی کے ساتھ نقل و حمل، آزاد تجارت و کاروبار، آزادی رائے کا اظہار، آزادی کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کے لئے تنظیم سازی کرنے کا حق دیتے ہیں۔ انسانیت کے اس قانون کی جو دعوت اسلام نے دی تھی اس کو بعینہ اقوام متحدہ نے بھی منظور کر لیا اور اس کا نفاذ مغربی ممالک میں جزوی و کلی طور پر کسی بھی حیثیت سے عمل جاری ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور سماج میں اس قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ انسان ہی انسانو ں کے حقوق پر شب خون مار رہے ہیں۔ حکومتی و انتظامی شعبہ جات پر فائز لوگ دوسروں کے حقوق کو غصب کرنے کے ساتھ ان کا استحصال لازمی و ضروری جانتے ہیں۔

پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی جانب سے ان کے باعزت روزگار کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا جارہا۔ایک طرف طالب علم تعلیم حاصل کرنے کے لئے شب وروز کی اپنی اور اپنے والدین کی منت ولگن کے بعد جب سند حاصل کرلیتاہے اوریہ خواہش رکھتاہے کہ اسے باعزت روزی دی جائے تو اس کا سماج کے تمام طبقے استحصال کرتے نظر آتے ہیں۔سرکاری اداروںمیں شفافیت ناپید ہے تو کہیں رشوت و سفارش جیسے چوربازاری کے اصول رائج و کار فرما ہیں۔

Employment

Employment

انتظامی شعبہ جات ہوں یا تعلیمی اسامیاں ان سب پر بھاری بھر رقم طلب کی جاتی ہے کم سے کم یہ رقم پانچ لاکھ سے شروعہوتی ہے اورسفارش میں یہ ہوتاہے کہ یا تو آپ کا والد و عزیز اس ادارے میں فرائض انجام دے رہاہوں جو آپ کو ملازمت دلواسکے یا پھر وزیر ومشیر اورسیاسی ومذہبی قیادت سے سفارش کا انتظام کرایا جائے۔

واضح رہے کہ رقم اورسفارش کی طلبی کسی قاعدہ و قانون کے مطابق نہ یہونے کی وجہ سے پرائیویٹ نمبرسے طلب کی جاتی ہیں۔اس کا بدیہی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ جس کے پاس رقم اورسفارش نہیں ہے وہ باعزت ملازمت حاصل نہیں کرسکتا۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حالت دگرگوں ہے کہ ان کو قانون کا کسی بھی طور پر پابند نہیں کیا جاتاوہ جس سے چاہیں اور جتنا چاہیں فیس کی مد میں مال بٹوریں اور ان کا تعلیمی واسلامی اور اخلاقی معیار پستی وتنزلی سے دوچار ہوتاہے۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے غیر سائنسی مضامین کی تدریس کے لئے اساتذہ کااستحصال کرتے ہیں اول توکسی ماہر اسلامیات ،ماہر اردو،ماہر تعلیم ،ماہر تاریخ وغیرہ کو موقع نہیں دیاجاتااور اگرکسی کو اپنے ہاں تدریس کی اجازت دیتے ہیں تو انہیں تنخواہ و وظیفہ سے محرو م کر دیا جاتا ہے۔

اگر جیب خرچ اگر دیتے بھی ہیں تو اس قدر کم ہوتاہے کہ اس سے وہ دن کے دووقت کی روٹی بھی نہیں کھاسکتا۔ظاہر ہے کہ وہ دیگر بشری تقاضوں کی تکمیل کسی طورنہیں کرسکتے۔ بدقسمت امر یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں میں متعین حضرات ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ و ویزیٹنگ و مہمان اساتذہ کی شکل میں اسباق حاصل کرنے پر مصر رہتے ہیں۔جب کہ ظاہر واضح ہے کہان کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بھی حاصل کررہے ہوتے ہیںاور اسی طرح وہ کنٹریکٹ و ویزیٹنگ کی حیثیت سے کام کرنے پر بھی معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

یہ ظلم نہیں تواور کیا ہے کہ ایک نوجوان طبقہ بے روزگار ہے اور دوسری جانب بزرگوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نوازا جارہاے۔اسی طرح معاشرے میں ایک اور مرض بھی تیزی کے ساتھ سرایت کررہاہے وہ یہ کہ نئے حکومتی و پرائیویٹ یونیورسٹیاں اوردیگرادارے قائم ہو رہے ہیں مگر ان میں نئے اساتذہ متعین و بھرتی کرنے کی بجائے دیگر یونیورسٹی میں کام کرنے والے مستقل ملازمین کومہمان اساتذہ کی طرح بلایا جاتا ہے۔

Educated

Educated

اس کی خوبصورت انداز میں توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہم ان کے تجربہ اور علمی و فکری پختگی کی وجہ سے ان سے استفادہ کرتے ہیں۔اس کا واضح و کھلاجواب یہ ہے کہ جب آپ نوجوان کو کامکرنے کاموقع نہیں دیں گے اور کسی بھی اسامی کو حاصل کرنے کی شرط پانچ سالہ تجربہ رکھ دیاجائے تو نوجوان تعلیم یافتہ کیا کریںاور کیسے سیکھ سکیں۔اس طرح کی کٹھ پتلی اور فراڈ کامقصد صرفنوجوانوں کا استحصال کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔

آج کا نوجوان بھاری بھرڈگریاں لے کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہے۔جس کے سبب ذہنی و نفسیاتی ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کشی ،چور بازاری، فراڈ اورانتہاپسندی جیسی سرطان سے زیادہ مضر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ایسے میں لازمی و ضروری ہے کہ نوجوان کو بھکاری و انتہاپسند اور قاتل و غاصب اور فراڈ و ڈاکوبننے سے بچانے کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے انہیں غلام و مظلوم بنانے کی روش ترک کرتے ہوئے ان کو معاشرے اورسماج کا بااثر طبقہ بنانے کے لئے ان کو باعزت روزگار دلوانے کا انتظام کریں۔

سرکاری وپرائیویٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کاسختی سے جائزہ لیاجائے اور اساتذہ کی تقرری کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔ریٹائرمنٹ کے بعد تعلیمی وانتظامی عہدوں پر غاصب و قابض ہیں بشکل کنٹریکٹ ان کو فی الفوربرطرف کیا جائے اوران عہدوں کی آسامیوں پر نوجوانوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت اورانتظامی ادارے یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے سے بدی و برائی ،دہشت گردی ،بدامنی،کرپشن،لوٹ مار اور چوربازاری کاخاتمہ ہوتو ان پر لازم ہے کہ وہ ہمارے معاشرے کے بڑے طبقہ و گروہ نوجوانوں کو کارآمدبنادیں ۔اگر ایسانہ ہواتو یا د رکھیں ہم اپنے ہی ہاتھوںسے اپنے سماج کو تباہی وبربادی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔

Atiq ur Rehman

Atiq ur Rehman

تحریر : عتیق الرحمن
0313-5265617
atiqurrehman001@gmail.com