counter easy hit

جنوبی پنجاب کا مقدمہ

South Punjab

South Punjab

تحریر : جمشید ساحل
صدیوں سے دریائے سندھ کے کنارے آباد جنوبی پنجاب کے چھوٹے بڑے قصبوں اور شہروں میں کوئی بدلائو نہیںآیا، جاگیرداری نظام میں بے بسی کی زندگی گزارنے والے مزارع اور کسان سر سے پائوں تک قرض میں جکڑے ہوئے ہیں ان کے ساتھ صدیوں کی جہالت نے انکے جسموں کو روح تک کسی نہ کسی چھوٹی بڑی بیماری کا مسکن بنا رکھا ہے۔ اُڑتی دھول، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ٹوٹے ہوئے پُل آج بھی گذرے سیلاب کا وہ ابتدائیہ ہیں کہ جن کا اختتامیہ ڈھونڈنے کے لیے لمحے صدیوں کی چوکھٹ پر بے نیل مرام پڑے ہیں۔انفراسٹکچر تباہ ہو چکا ہے اور دریا کے کنارے آباد یہ لوگ جو کچھ سال بھر میں اکٹھا کرتے ہیں وہ سب سیلاب کی تیز و تند لہریں تنکوں کی طرح بہا لے جاتی ہیں،قصور دریا یا سیلاب کی چنگھاڑتی لہروں کا بھی نہیں بلکہ اُن آدم زادوں کا ہے جو دریا کی گذر گاہوں میں خیمہ زن ہیں۔

سیلاب کے نام پر فنڈز کی خرد برد اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی کہانیاںزدِ عام ہیںلوٹنے والے اور لٹنے والے ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ، یہی وجہ ہے دریا کی بے رحم لہریں سب کچھ ڈبو کر اپنے پیچھے بڑے بڑے ٹوبوں میں ہزاروں کی تعدادمیں مچھلیاں چھوڑ جاتی ہیںاور اس کے علاوہ ریت اور مٹی کے انگنت ڈھیر ،،،،،، جن کی نیلامی کے لیے علاقہ مکیں آپس میں دست و گریباں ہونے سے گُریز نہیں کرتے،قصہ یہیں ختم ہو جاتا تو ٹھیک تھا لیکن یہاں 2010ء کے تباہ کن سیلاب نے انسان کے بھرے ہوئے پیٹ کے باوجود بھوکی آنکھوں میں کوئی ایسا عکس اتارا ہے جو اب پھیل کر حدِ نگاہ ہری بھری فصلوں کو اپنی تحویل میں لے رہا ہے۔

دریاکے کنارے آباد ان اضلاع جن میں میانوالی، ڈیرہ اسمیعل خان ، بھکر ، لیہ ، مظفر گڑھ ، ڈیرہ غازیخان،راجن پور،بہاولپور،ملتان اور رحیم یار خان برس ہا برس سے غربت ، بھوک اور پیاس سے اُکھڑے اُکھڑے سانس لے رہے ہیں۔ان علاقہ مکینوں کی قسمت بھی عجیب ہے منتخب عوامی نمائندوں کی سیاسی بصیرت پٹواریوں سے میل ملاپ کے ذریعے زمینوں پر قبضے،خاندانی لڑائیوں کے بعد من پسند افراد کے حق میں فیصلے اور اپنی جاگیروں کی رکھوالی تک، اپنی طبی عمر پوری کرتی رہی ہے۔دیہات اور قصبات سے نکل کر جب ہم شہروں کا رخ کرتے ہیں تو وہاں کی زندگی میں کوئی بدلائو نہیں آیا مسائل پہلے سے کہیں بڑھ چکے ہیں ان شہروں کے مرکزی دروازوں پر ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے پہرہ دار صف آراء ہوتے نظر آتے ہیں۔

Multan

Multan

ملتان سے براستہ مظفر گڑھ ،کوٹ ادو،لیہ، بھکر اور میانوالی سے گذرتی ریل گاڑی راولپنڈی جا رکتی ہے اسطرح راولپنڈی سے ملتان تک واپس آتی ہے جِسے مہر ایکسپریس کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے دوسری مسافر ریل گاڑی کراچی سے پشاور اور پھر پشاور سے کراچی انہی اضلاع سے گذرتی ہے جو خوشحال خان خٹک ایکسپریس کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے لیکن جوں ہی آپ کا واسطہ پڑتا ہے تو تمام تر خوشحالی بدحالی کی نذر ہو نے میں دیر نہیں لگتی۔ آبادی کے اعتبار سے جنوبی پنجاب جن میں اکثریت سرائیکی زبان بولنے والو ں کی ہے ایک اندازے کے مطابق آٹھ کروڑسے زائد ہے لیکن سہولیات کی فراہمی ایک کروڑ افراد تک بھی نہیں،ماضی قریب میںچلنے والی ریل گاڑیاں جن میں ماڑی انڈس اور تھل ایکسپریس تھیں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے صوبہ بدر کر دی گئیں۔

جنوبی پنجاب کے ایک سو سے زائد صوبائی اور قومی اسمبلی کے نمائندگان کی گنگ زبانوں نے اپنی مراعات کے حصول کے سوا ایسے تمام مواقعوں پر چُپ کا روزہ رکھ رکھاہے یوں جنوبی پنجاب سے منتخب ہو کر اسمبلیوں تک پہنچنے والے نمائندگان عوام کے اُن مسائل سے تاحال بے خبر ہیں ٹرانسپورٹرز کی چاندنی ہے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر ان کی بسیں فراٹے بھر رہی ہیں اور آئے روز درجنوں مسافروں کو عمر بھر کے لیے اپاہج اور موت کی ابدی نیند سلانے پر مامور ہیں۔دنیا کی ہر ریاست عوام کی فلاح و بہبود اور بہتر معیار زندگی کی ضامن ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں ریاست عوام کے لیے دھکے اور عمر بھر کا روگ دیتی ہے۔اپاہج اور سانسوں کے بندھن سے آزاد ہونے والوں کو روپے پیسے میں تول کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمّہ ہو جاتی ہے تاوقتیکہ دوسرا واقعہ رونما نہ ہو جائے۔

عوام کی سفری سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے تھل ایکسپریس اور ماڑی انڈس پیسنجرریل گاڑیوں کو بحال کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ راستے میں آنے والے تمام چھوٹے بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو فعال بنایا جائے۔ سڑکوں کی حالت اور حادثات کا اگر جائزہ لیا جائے تو سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے جو سڑک ٹوٹ گئی بس ٹوٹ گئی بڑے بڑے گڑھے حادثات کا موجب بنتے ہیں متعلقہ ادارے ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت کے نام پر اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کو جس انداز میں ہڑپ کر رہے ہیں اس پر دوسری کوئی رائے نہیں۔ مسافر اور کارگو ریل گاڑیاں آج وقت کی اہم تریں ضرورت ہیں جوں جوں وقت گذرے گا ان کی حالت میں بھی بہتری آئے گی اور اس سے ریلوے کو بُہت منافع حاصل ہو گا۔ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی بوگیاں لگائی جائیں تا کہ نقصان کم سے کم ہو دوسری اہم بات بتدریج ان ریل گاڑیوں کی حالتِ زار کو بہتر کیا جائے۔

Khawaja Saad Rafique

Khawaja Saad Rafique

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ریلوے کی حالتِ زار پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اگر وہ اپنی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب کے ان اضلاع کو بنا لیں تو اس سے محروم و محکوم عوام سکھ کا سانس لے گی قصبوں ا ور شہروں کی حالتِ زار ایسی ہوتی جا رہی ہے کہ عوام کے مقدر میں زاروقطار رونا ہی لکھا ہے کبھی وہ دریا میں ڈوبی لاشوں کو نکال کر دھول اڑاتے کچے پکے راستوں پر تو کبھی شاہراہوں پر پڑی بڑی بڑی دراڑوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی صورت میں بے چہرہ لاشوں کو کاندھوں پر اُٹھائے شہرِخموشاں کا رُخ کرتے آئے ہیں۔جنوبی پنجاب میں اسپتالوں کی حالت ِ زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،حکومت نے قصبات میں آرایچ سی،تحصیل میں ٹی ایچ کیو اور ضلع میں ڈی ایچ کیو سطح کے اسپتال بنائے ہیںلیکن ان تمام اسپتالوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ان صحت کے مراکز میںزندگی بچانے والی ادویات عموماً نا پید ہوتی ہیںجس سے آئے روز اموات کا تناسب بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ خدانخواستہ کسی قصبے،تحصیل اور ضلع میں کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو فوری طور پر ایمرجنسی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کسی بھی اسپتال میں وہ سہولیات ہی نہیں جن کی بنا پر ایک زندگی بھی بچا لی جائے اول وہاںکوئی مستند ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہوتے دوسرا وہاں کا عملہ مریض اور اُس کے لواحقین کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کر لیتا ہے جس کی مثالیں آئے رو ز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ کروڑوں کا بجٹ رکھنے والے ان اسپتالوں کے ڈاکٹر مریض کو نشتر اسپتال ملتان ریفر کر کے اپنی انسانی ، اخلاقی اور دُکھی انسانیت کی خدمت کا فرض ادا کر کے چین کی بانسری بجاتے ہیں ۔ اب مریض ایمبولنسیز مافیاز کے رحم و کرم پر ہوتا ہے یہ مافیاز منہ مانگی رقم لے کر رخت سفر باندھتے ہیں۔

یوں ایمبولنسیز ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے ٹریفک کے اژدہام سے راستہ بناتی ملتان یا لاہور کا رخ کرتی ہیں اگر مریض زیادہ سیریس ہو تو وہ ان ناہموار راستوں پر ہی دم توڑ دیتا ہے اور اگر سانسیں باقی ہیں تو وہ ایمبولنسیزمافیاز مریض کوپرائیویٹ اسپتال مافیاز کے سپرد کر کے اپنا کمیشن کھرا کر لیتے ہیں یہیں سے مریض کا امتحان شروع ہو جاتا ہے، زخموں سے چور مریض پہلے ہی بستر مرگ پر پڑا ہوتا ہے اوپر سے اخراجات کا ایک نا رُکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم میں ہر شخص کبھی نہ کبھی ایسے امتحان سے ضرور گذرتاہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ آخر کب تک جنوبی پنجاب کے لوگ یوں تل تل مرتے رہیں گے ؟ بے حس اور سفا ک حکمر انوں کی ان پالیسیوں کا باب آخر کب بند ہو گا ؟ کیا نشتر اسپتال جیسے اسپتال تمام اضلاع میں نہیں بنائے جاسکتے؟۔

Nishtar Hospital

Nishtar Hospital

یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب کسی کے پاس نہیں اکلوتا بوڑھا نشتر اسپتال تمام جنوبی پنجاب کا بوجھ اُٹھائے اب ہانپنے لگا ہے اس بات کا ادراک ہر خا ص و عام کو ہے جبکہ کروڑوں کا بجٹ رکھنے والے آرایچ سی،ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو جیسے اسپتالوں میں نہ تو معیاری ادویات ہیں نہ با ئولے اور زہریلے جانوروں کے کاٹنے سے بچائو کی ادویات میسر ہیں۔ اس سے آگے ان تمام اسپتالوں کے اندر صفائی کا خاطر خواہ انتظام ہی نہیں،واش رومز گندگی سے بھرے پڑے ہیں مریضوں کے لواحقین کے بیٹھنے اور ٹھنڈے پانی کے انتظامات سرے سے موجود ہی نہیں بس ایک دھکم پیل ہے جس سے قطار میں کھڑے انسان لمحہ لمحہ زندگی کی قید سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں لیکن وہاں موجود محکمہ صحت کا عملہ اور ڈاکٹر صاحبان یہ جانتے بوجھتے کہ وہ جن انسانوں کو دھکے دیکر موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں اُنہی کے ٹیکسوں سے وہ بھاری تنخواہیں لیتے ہیں اور ریاست جسے ماں کے جیسا ہونا چاہیے وہ ایک ایسا روپ دھار چکی ہے جو جنوبی پنجاب کی کئی پشتوں کا خون چوسنے کے باوجود ابھی بھی پیاسی ہے اور جنوبی پنجاب کے آنے والے کل پر نظریں جمائے کھڑی ہے جبکہ اس کا پورا پورا ساتھ دینے والے وہ عوامی نمائندگان ہیں جو بصارت اور سماعت سے محروم ہیں لیکن اپنی بڑھتی ہوئی توندوں کو مزید بڑھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کی عوام کواڑسٹھ سال کے بعد بھی ریاست صاف پانی کا ایک گلاس نہیں دے سکی وہی گھاٹ ہیں جہاں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں،صاف پانی کے نجانے کتنے منصوبے قلم کی سیاہی سے کاغذ پر بنائے گئے اور اُنہی کے بل پر عوام کی پیاس کو خریدا اور بیچا گیا۔ پیور واٹر پلانٹس کی عمارتیں اور اُن کی حالت آئے روز اخبارات میں دکھائی جاتی ہے لیکن متعلقہ ادارے روایتی ڈھٹائی سے صرفِ نظر کرتے آئے ہیں آج بھی یہاں کے مکینوں کے کسی بین الاقوامی ادارے سے ٹیسٹ کروائے جائیں تو نوے فیصد لوگ ہیپا ٹائٹس میں مبتلا پائے جائیں گے پانی میں آرسینک کی بڑھتی مقدار اس بیماری کا بڑا سبب ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ، دریائے سندھ جنوبی پنجاب کے میدانی علاقوں سے گذرتا ہوا صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے اور جب یہ دریا بپھرتا ہے توسب کچھ بہا لے جاتا ہے اور عوام حسرت ویاس کی تصویر بنی در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوتی ہے۔

سیلاب کے نام پر آیا پیسہ انتظامیہ اور اُس کے گماشتے ہضم کر جاتے ہیں جبکہ عوام کے نصیب میں وہی دھکے اور قطار رہ جاتی ہے جس میں وہ سات دہائیوں سے کھڑے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میںبندوں پر مٹی اور پتھر ڈالنے والے ”ٹھکیدار نما” انسان منظر ِ عام پر آ جاتے ہیںجو فنڈز ہڑپ کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے لیکن یہ بھول جاتے ہیں ایک دن وہ اسی مٹی اور پتھر کی پناہ میں ہونگے۔بات یہیں ختم ہو جاتی تو ٹھیک تھالیکن ان حالات میں حکومت اور متعلقہ اداروں کا رویہ افسوس ناک ہوتا ہے یہ جنوبی پنجاب کی عوام کو بھیڑ بکری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے یقین نا آئے تو ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھے جاسکتے ہیں کہ کس طرح انسان نما ”سوداگر” اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں۔جنوبی پنجاب علم وفن کا ایک بڑا مرکز رہا ہے فنون ِ لطیفہ سے وابستہ یہاں کے لوگوں نے پوری دُنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے لیکن اب علم و فن کا بہروپ اوڑھنے والے ”بہروپیے” ماضی کی ہر سچائی کو داغدار کرنے پر تُلے ہیں اور اپنے لمحوں کی شہرت کو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنانے پر بضد ہیں۔ تعلیم کے نام پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مافیاز نے ہمارے آنے والے کل کی جو بولی لگائی ہے وہ سب سُن اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں۔

Greed

Greed

روپے پیسے کی لالچ ،ریت و سیمنٹ سے بنی بُلند و بالا عمارتیں اور اُن عمارتوں میں بنی کتابوں سے بھری لائبریریاںانسان کے علم میں اضافے کا باعث نہیں بن رہیں ۔ انٹری ٹیسٹ کے نام پر لوٹ مار کے پروگرام نے جنوبی پنجاب کی عوام کے کس بل نکال دئیے ہیں امتحانات میں شاندار نمبر لینے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انٹری ٹیسٹ کی لٹکتی تلوار کی زد میں آکر اپنا مستقبل اور اپنے والدین کی برسوں کی محنت کو اکارت جاتا دیکھ کر ایسے اداروں کا رُخ کرتے ہیں جن کی تشہیر پر متعلقہ ادارے لاکھوں خرچ کر چکے ہوتے ہیں اسطرح جنوبی پنجاب کا یہ مستقبل ملک اور بیرونِ ملک پھیلے علم و فن کے سوداگرو ں کی دسترس میں آجاتا ہے۔یہاں بے روزگاری اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے در جہ چہارم کی مشتہر کردہ آسامیوں پر کتنے تعلیم یافتہ لوگ درخواستیں دیتے ہیں ان کی تفصیل متعلقہ اداروں کے پاس دیکھی جا سکتی ہے۔ پبلک سروس کمیشن میں ملازمت کے حصول کے لیے گزاری جانے والی درخواستوںپر ٹیسٹ اور انٹرویوز لاہور میں ہوتے ہیں اور تعیناتی کا پروانہ بھی لاہور سے جاری ہوتا ہے کیا جنوبی پنجاب میں یہ ٹیسٹ اور انٹرویوز ممکن نہیں ؟ کیا یہاں کے اہل علم اس قابل نہیں کہ وہ اپنے آئندہ کل کا انتخاب کر سکیں؟۔

ریاست کے پاس جب روزگار میرٹ پر فراہم کرنے کے مواقع نہیں ہونگے تو پھر بے روزگاری کی وجہ سے جرائم سے پہلو تہی کیسے کی جاسکتی ہے یا جب سرکاری اسکولز،کالجز اور یونیورسٹیز کے اساتذہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں میں بھی معمولی ”نذرانوں” کو نہیں بخشیں گے تو تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کہاں ملازمت کریں گے؟ ہم جہاں ناکردہ گناہوں کا موجب تخت لاہور کو گردانتے ہیں وہاں جنوبی پنجاب کے یہ لوگ اپنی ترجیحات کے لیے سب سے آگے ہیں یہی وجہ ہے یہاں کے مکیں بھوک و افلاس کی چکی میں پستے چلے آرہے ہیں اور کسی ایسے زمانے کے منتظر ہیں جو اُن کی حالت بدل دے گاجبکہ اُنہیں یہ جان لینا چاہیے ایسا کبھی نہیں ہو گا اس کے لیے انہیں ریاستی اداروں سے اپنی شناخت اور حقوق کے لیے الگ صوبے کے قیام کے مطالبے پر زور دینا ہو گااور جہدِ مسلسل کی عملی جدوجہد کا حصہ بننا ہو گا۔اس سے جنوبی پنجاب میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کی تعداد آبادی کے تناسب سے بڑھے گی تب یہاں کے نوجوانوں کو شناخت کے لیے کسی تخت لاہور کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔

جنوبی پنجاب کی حالت کے بدلنے میں خا ردار راہوں پر اپنوں اور غیروں کے ساتھ ”جاگتے ” ہوئے سفر کرنا ہو گا اگر لمحہ بھر کے لیے بھی اونگھنے لگے تو یہ ” سوداگر ” سب کچھ بیچ کر کسی اور جانب نکل جائیں گے اور پھر یہاں کے مکیں دریا کے کنارے بنی ٹوٹی پھوٹی شاہرائوں پربیمار و نا تواںبھوک اور پیاس سے بلبلاتے اپنی تمام تر محنت کے با وجود بے روزگاری کی عذا ب جھیلتے صرف یہ سوچتے رہ جائیں گے کہ جب قدرت کی طرف سے ہوا، پانی، مٹی اور آگ سب کے لیے برابر ہے تو پھر یہ’ ‘انسان نما” انسانوں کی تفریق کیسی؟۔
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

Jamshaid Sahil

Jamshaid Sahil

تحریر : جمشید ساحل