counter easy hit

بیٹے کے قاتلوں کی رہائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟

Layyah

Layyah

تحریر: ایم ابوبکر بلوچ
چوک اعظم ضلع لیہ کے وسط میں واقع بارونق شہر ہے اورضلع میں بلکہ ڈویژ ن بھر میں سب زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔ پورے پاکستان سے آکر لوگ یہاں آباد ہوئے ہیں اس لئے ہر نسل، ہر زبان اور علاقہ کے لوگ موجود ہیں۔ چوک اعظم نے ہر آنے والے شخص کو پناہ دی۔ کچھ لوگ اپنے آبائو اجداد کے علاقہ سے غربت اور پسماندگی سے تنگ آکر یہاں رہائش پذیر ہوئے جس نے جتنی محنت کی اس قدر ترقی پائی ۔چوک اعظم ضلع لیہ کے باقی شہروں کی نسبت پرامن ہے لیکن چوک اعظم، گردونواح کے وڈیروں، سیاستدانوں نے ہمیشہ اس شہر کے باسیوں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا۔

ڈاکٹر نورمحمد کے دور میں شہر نے کافی ترقی کی لیکن اسکے بعدوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ خسارے کی طرف جانے لگا اور اب صورتحال یہ ہے کہ تمام اداروں میں سیاسی مداخلت عروج پر ہے اسی طرح امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے جسکی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ تھانہ چوک اعظم میں پولیس نفری نہ ہونے کے برابر ہے جو تھوڑی بہت پولیس نفری موجود ہے وہ بھی وڈیروں کا حکم ماننے اور جرائم پیشہ افراد کو تحفظ دینے میں مصروف ہے شہر کی عوام عدم تحفظ کا شکار ہے ۔عوامی منتخب سیاسی نمائندے عید کا چاند بن کے رہ گئے ہیں ۔ایسے حالات میں ہر وقت ایک مخصوص ٹولہ بھی موجود رہتا ہے جو سیاستدانوں کی خوشامد کے ساتھ ساتھ پولیس ٹائوٹی کرنا بھی اپنا فرض العین سمجھتا ہے غرضیکہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔اگر صحافتی برادری کی بات کی جائے تو دھڑے بازی عروج پر ہے جسکا سب سے زیادہ فائدہ ضلعی انتظامیہ کو پہنچ رہا ہے ۔چوک اعظم کے شہری مختلف قوم ، زبان، نسل کے ہونے کی وجہ سے باہمی اتفاق سے محروم ہونے کی بنا پر اس خوشامدی ٹو لہ اور پیشہ وارانہ سیاستدانوں کے ہاتھوں باآسانی یر غمال بن جاتے ہیں اور شہریوں کو سیاستدانوں کی سیاست چمکانے ،احتجاج اور ریلیاں نکالنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔

اس تمام تر سنگین صورتحال کے باوجود چوک اعظم کی عوام نے کئی واقعات پر اتفاق ،یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا جسکی نظیر نہیں ملتی۔ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ چوک اعظم کے رہائشی شاہد عرف دودھی کا جواں بیٹا ولیا دودھی پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تو جرائم پیشہ افراد پولیس کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے سرگرم ہوئے جس پر چوک اعظم کی غیور عوام نے پورا شہر بند کر کے پولیس کی حمایت میں جلوس ، ریلیاں نکالیںحالانکہ پولیس نے خودکشی کا کیس بنا کر خود کو پھنسا لیا تھااسوقت کے ایس ایچ او ربنواز خان کھتران کے حق میں قانونی چارہ جوئی کے لئے لاکھوں روپے بھی جمع کئے۔

اسی طرح ایک اور موقع پر جب وارڈ نمبر4 چوک اعظم کے نوجوانMS.cکے طالبعلم قیصر رشید کو اغواء برائے تاوان کے حصول کے باوجود قتل کر دیا گیا اور قیصر رشید کی گلی سڑی لاش پولیس نے ایک مکان سے برآمد کی ۔اس وقوعہ پر چوک اعظم کے شہری دکھ ،تکلیف اور غم و غصہ میں مبتلا ہوگئے چوک اعظم کی تاریخ کا ایک بہت بڑا ہجوم منی مینار (یادگار چوک ) میں جمع ہوا اور اس المناک واقعہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا جسکی بناء پر پولیس نے ذاتی دلچسپی لی۔ انہی دنوں ڈی پی او لیہ نے قیصر رشید اغوا کے بعد قتل ہونے کے بارے میں لیہ میں پریس کانفرنس کی اور کہا افسوس ہے کہ مغویوں کو زندہ برآمد نہیں کر سکے لیکن ملزمان کوکیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔قاتلوں نے قیصر رشید مقتول کے غریب اور بوڑھے والدین سے پانچ لاکھ روپے سے زائد تاوان وصول کرنے کے باوجود قیصر رشید کو قتل کر دیا۔اس وقت علاقہ کے نام و نہاد معززین نے مقتول کے بوڑھے والدین سے بے پناہ اپنائیت کا اظہار کیااور ہمدردی جتاتے ہوئے مالی تعاون کے وعدے کئے لیکن سب کچھ محض دکھلاوا تھاآخر کار رانا وارث ایڈوکیٹ نے بغیر کسی دعویٰ کے فری قانونی امداد کی اور دہشت گردی کی خصوصی عدالت ڈیر ہ غازیخان سے ملزمان کو چار چار بار سزائے موت اور عدالت نے لاکھوں روپے جرمانہ ، جائیدا دقرقی کا حکم جاری فرمایا۔جس پر ملزمان نے ہائی کورٹ ملتان میں اپیل دائر کی اور ہائی کورٹ ملتان نے ملزمان کو باعزت بری کر دیا وکیل کے بیان کے مطابق عدالت نے عدم ثبوتوں کی بنا پہ سزا کو کالعدم قرار دے کر ملزمان کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملزمان زاہد گواریہ ، راشد گورایہ نے اقرار جرم کیاپولیس ،صحافی اورسینکڑوں شہریوں کی موجودگی میں مقتول کی گلی سڑی لاش ملزمان کے گھر کی چاردیواری سے گڑھے میں دفن برآمد کی گئی ۔ان تمام تر ثبوتوں اور گواہان کی موجودگی میں ملزمان کو سزا سنانے والی عدالت بھی ہمارے پاکستان ہی کی تھی اسکے باوجود فیصلہ اچانک ملزمان کے حق میں ہوجانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایک مرتبہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم برونسٹ چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے بارے میں فرمایا کہ “اگر برطانیہ کی عدالتوں میں انصاف ہورہا ہے تو برطانیہ عالمی جنگ میں کبھی نہیں ہار سکتا “۔گویا معاشرت اور معیشیت کے علاوہ قومی زندگی کے تمام شعبوں اور اداروں کی طاقت اور عظمت اس قوم کی عدالتوں میں ہونے والے انصاف پر منحصر ہوتی ہے کیونکہ عدلیہ ملک کا پہلا ستون ہے لیکن افسوس ہمارے ملک میں صورتحال کچھ یوں ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہوجائے یا ظلم کا شکار ہو یا پھر لوگ جرائم پیشہ افراد کا ٹارگٹ بن جائیں مگر عوام کو انصاف نہیں مل سکتا ۔ہمارے ملک میں مقتول کے لواحقین کو بھی وکیل کرانا پڑتا ہے اور مظلوم انصاف تک پہنچتے پہنچتے خود مقتول ہوجاتے ہیںقانون چور پکڑنے کی بجائے چور کو تحفظ دینے میں لگا ہوا ہے مجر م کے دل سے سزا کا خوف ختم ہو چکا ہے قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے جسکی وجہ سے آئے روز دل دہلا دینے والے واقعات جنم لیتے ہیں ۔مقتول قیصر رشید کے قاتلوں کی رہائی کی خبر سن کر چوک اعظم کے شہری سکتہ میں آگئے کیونکہ ان کے لئے یہ خبر کسی گہرے صدمے سے کم نہ تھی۔آخر کار 14فروری کو ایک بار پھر قیصر رشید کے ملزمان کی رہائی کے غم میں مکمل شٹر ڈائون کر دیا گیا اوراحتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اس دن مقتول کے والدین اور جواں بیوہ انتہائی دردناک کیفیت سے گزر رہے تھے اورکہہ رہے تھے کہ ہمارے جوان بیٹے کے قاتلوں کی رہائی کے پیچھے آخر کس کا ہاتھ ہے؟؟؟انکا اس طرح رونا پیٹنا اور فریادیں کرنا وہ سب کچھ لکھنے کے لئے قلم ساتھ نہیں دیتی۔ہر آنکھ اشکبار تھی مقتول کے ضیعف العمر والد، والدہ ،ساس اور جواں سالہ بیوہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل کی ہے انصاف نہ ملنے کی صورت میں چوک اعظم (منی یاد گار) مینار پاکستان کے پاس خود سوزی کی دھمکی دی ہے ۔آخر بگڑتے ہوئے حالات کوکون کنٹرول کریگا؟ چوک اعظم کی عوام نے ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی استدعا کی ہے۔ میں چوک اعظم کی غیور عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے معززین شہر پرمشتمل ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس مقدمہ کو سپریم کورٹ میں لے کر جائے گی اور اس پر آنے والے تمام اخراجات ممبران کمیٹی برداشت کرینگے۔

بلاشبہ یہ ایک احسن اقدام ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ مقتول کے والدین کو اک بار پھر سبز باغ دکھا کر جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہیں اور کچھ عرصہ بعد معاملہ ٹھنڈا ہونے پر یہ کمیٹی آرام سے گھر بیٹھ جائے گی ۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو چوک اعظم کے یہ معززین عوام میں قائم اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ قیصر رشید کے قاتلوں کو یہ علم ہونا چاہئے کہ چوک اعظم شہر کا ماضی اس بات کا گواہ ہے جب کبھی کسی ظالم وڈیرے جاگیر دار یا ظالم قاتل نے قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو اس مٹی نے کبھی اس سے وفا نہ کی بلکہ ایسے لوگ عبرت ناک موت مارے گئے اور چوک اعظم کی غیور عوام نے ہمیشہ مل کر ہر ظلم و ستم کی دیوار کو ڈھا دیا وہ وقت دورنہیں کہ قیصر رشید کے ملزمان ضرور کیفر کردار تک پہنچیں گے اور ایسی عبرت کا نشان بنیں گے کہ آئند کبھی کسی غنڈے کو ایسا ظلم کرنے کی جرات نہ ہوگی ۔اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور چوک اعظم کو امن کا گہوارہ بنائے۔آمین

Abubakar Baloch

Abubakar Baloch

تحریر: ایم ابوبکر بلوچ