counter easy hit

انسانی پسلیوں کے بارے میں چند دلچسپ حقائق جو شاید ہی کوئی جانتا ہو

Some interesting facts about human ribs that rarely know

پسلیاں ایک پنجرے کی طرح آپ کے دھڑ کو سینے کی ہڈی سے منسلک کرکے پھیپھڑوں، دل، تلی اور جگر کے بیشتر حصے کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ سینے کے گڑھے کی ساخت میں مدد فراہم کرتی ہیں، جو کہ سانس لینے میں معاونت کرتا ہے۔پسلیاں ایک طرف تو تحفظ فراہم کرتی ہیں، دوسری دوسری جانب اگر وہ بری طرح ٹوٹ جائیں تو اعضاءمیں گھس کر جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہاں آپ پسلیوں کے بارے میں چند حیرت انگیز حقائق جان سکیں گے جن سے اکثر افراد واقف نہیں ہوتے۔پسلیاں بالٹی کے ہینڈل کی طرح کام کرتی ہیں: پسلیاں سینے کو سانس لینے کے دوران پھیلنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، ان کے افعال کسی بالٹی کے ہینڈل کی طرح ہوتے ہیں جو کہ سانس لینے پر اوپر کی جانب سوئنگ کرتی ہے، جس سے سینے میں گڑھا پھیلتا ہے، یہ گڑھا پھیلنے سے سانس لینا آسان ہوتا ہے۔تین اقسام کی پسلیاں: انسانی ڈھانچے میں پسلیوں کے 12 جوڑے ہوتے ہیں (یعنی مجموعی طور پر 24 پسلیاں) جو کہ دھڑ کے اوپر سے نیچے کی جانب ہوتی ہیں۔ ایک سے 7 نمبر تک کی پسلیوں کو ‘حقیقی پسلیاں’ سمجھا جاتا ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی سے براہ راست سینے سے منسلک ہوتی ہیں، 8 سے 10 نمبر کی پسلیوں کو ‘مصنوعی پسلیاں’ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ براہ راست منسلک نہیں ہوتیں، مگر کرکری ہڈیاں سینے سے جڑی ہوتی ہیں، 11 اور 12 نمبر پسلیاں ‘تیرتی پسلیاں’ ہیں، کیونکہ وہ صرف کمر میں ریڑھ کی ہڈی سے منسلک ہوتی ہیں اور ان کا حجم بہت چھوٹا ہوتا ہے۔خواتین کی پسلیاں مردوں سے زیادہ؟ :عیسائی مذہب میں ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ پسلیاں ہوتی ہیں، مگری ہ درست نہیں۔ درحقیقت مردوں یا خواتین کی پسلیوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں، ہر ایک میں ہی 12 پسلیوں کا جوڑا ہوتا ہے، تاہم خواتین کی پسلیاں حجم میں مردوں کے مقابلے میں 10 فیصد چھوٹی ہوتی ہیں۔یہ بھی پڑھیں : انسانی جسم کے 8 عجیب افعال جو بہت ضروری ہیں .مگر کچھ افراد میں زیادہ پسلیاں ہوسکتی ہیں :بہت کم کیسز میں، جس کا صنف سے کچھ لینا دینا نہیں، کسی انسان میں پسلیوں کا ایک اضافی جوڑا یعنی 13 پیئر ہوسکتے ہیں، کسی گوریلا کی طرح، یہی وجہ ہے کہ ان اضافی پسلیوں کو گوریلا ریب کہا جاتا ہے۔کھلاڑیوں میں پسلیاں ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ:کشتی رانی، بیس بال، ویٹ لفٹر، گولفرز، والی بال پلیئرز اور ڈانسرز وغیرہ میں پسلیوں کے فریکچر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔چھینک سے پسلی ٹوٹ سکتی ہے؟ویسے تو پسلیاں ٹوٹنے کا خطرہ کسی حادثے جیسے سخت فٹ بال ٹکرا جانے یا گاڑی کے حادثے کی وجہ سے بڑھتا ہے، مگر کبھی کبھار پسلی کا فریکچر چھینک یا کھانسی سے بھی ہوجاتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پسلیوں سے منسلک سینے کے مسلز پر دباﺅ بڑھتا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website