counter easy hit

سندھ کی نئی حکومت کی آزمائش

Murad Ali Shah

Murad Ali Shah

تحریر : سید توقیر زیدی
کراچی صدر کے علاقے میں گزشتہ روز پارکنگ پلازہ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گشت پر مامور پاک فوج کی گاڑی پر فائرنگ کردی جسکے نتیجہ میں دو جوان شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے بعد علاقے کو سیل کردیا گیا اور سکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے نے قریبی عمارتوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے۔ شہید ہونیوالوں میں لانس نائیک عبدالرزاق اور سپاہی خادم حسین شامل ہیں۔ کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کے بقول جائے وقوعہ پر فرانزک ٹیم شواہد اکٹھے کررہی ہے۔ وقوعہ کے بعد ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وقوعہ سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

وزیراعظم میاں نوازشریف نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ کسی کو ٹارگٹڈ اپریشن ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں کو ملزمان کی جلد گرفتاری کی بھی ہدایت کی۔ اسی طرح گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے بھی دہشت گردی کے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ واقعہ کراچی کا امن خراب کرنے کی سازش ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی کے بقول یہ واقعہ یقینی طور پر ٹارگٹ کلنگ ہے اور دونوں جوانوں کو ریکی کرنے کے بعد نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان سے منسلک جماعت الاحرار نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

اس وقت جبکہ سندھ میں رینجرز کے قیام کی مدت اور اختیارات میں توسیع نہ ہونے کے باعث رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن سمیت دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے اٹھائے جانیوالے تمام اقدامات میں پیش رفت رکی ہوئی ہے اور رینجرز اپریشن پر پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کے پیدا شدہ تحفظات پر پیپلزپارٹی کی قیادت نے سندھ حکومت کی گورننس بہتر بنانے کی خاطر وزیراعلیٰ سمیت پوری سندھ کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے اور سید مرادعلی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ نامزد بھی کردیا گیا ہے۔

Karachi Target Killing

Karachi Target Killing

اس موقع پر دہشت گردوں کا پاک فوج کے دو جوانوں کو سرعام ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا امن و امان کے حوالے سے سندھ کی مجوزہ نئی حکومت کو بھی چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اس سے سندھ کے نئے حکمرانوں کو اقتدار کی مسند پر بیٹھنے سے پہلے ہی یہ پیغام بھی مل گیا ہے کہ کراچی کا امن و امان رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن کی مکمل کامیابی کی صورت میں ہی بحال ہو سکتا ہے اس لئے پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت نے ٹارگٹڈ اپریشن کیلئے رینجرز کے قیام کی مدت اور اسکے اختیارات میں توسیع کیلئے مزید پس و پیش سے کام لیا تو اس کا خمیازہ سندھ کے عوام کو سنگین بدامنی کی صورت میں بھگتنا پڑیگا۔

یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ملک میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی’ خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے پس پردہ مقاصد و محرکات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں فرقہ واریت اور فروعی اختلافات کا زیادہ عمل دخل ہے جبکہ بالخصوص کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں سندھ کی حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے عسکری ونگز کا عمل دخل ہوتا ہے جو بھتہ خوری اور لینڈ گریبنگ میں ملوث ہوتے ہیں تو ایک دوسرے پر اپنی دھاک بٹھانے اور شہریوں میں خوف و ہراس کی صورتحال اجاگر کرنے کیلئے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے دور میں کراچی بدامنی کا اپنے ازخود اختیارات کے تحت نوٹس لے کر اپنے فیصلہ میں باور کرایا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں موجود عسکری ونگز ختم کئے بغیر کراچی میں امن و امان کی بحالی یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔

سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کا اعتراف اس وقت کے وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا جبکہ اب متحدہ کے نامزد لارڈ میئر کراچی وسیم اختر نے پولیس کی حراست میں 12 مئی 2007ء کو کراچی میں ہونیوالے قتل عام کے حوالے سے تسلیم کیا ہے کہ اس روز فائرنگ اور ہنگامے انکے حکم سے ہوئے تھے جبکہ متحدہ کے 15 دیگر عہدیداروں نے بھی فائرنگ کے احکامات جاری کئے تھے۔ یقیناً سندھ کی دوسری حکمران اور اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے اپنے عسکری ونگز کے ذریعے کراچی بدامنی کا باعث بنتی رہی ہیں اور اب بھی رینجرز کے سواتین سال سے جاری اپریشن کے باوجود کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں امن و امان کی بحالی یقینی نہیں بنائی جا سکی اور اب وہاں پاک فوج کے جوانوں کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو اسکے پس پردہ محرکات میں سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی طاقت تسلیم کرانے کی چپقلش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

Pakistan

Pakistan

اس سلسلہ میں بدامنی کے پس پردہ جو بھی محرکات ہوں’ اس سے بہرصورت حکومتی گورننس کی کمزوری کا تاثر مستحکم ہوتا ہے جبکہ پاکستان کی سلامتی کے انتظامات و اقدامات میں سکیورٹی اداروں کی نظر آنیوالی کمزوریوں سے ہمارے دشمن بھارت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ اگر کراچی اور بلوچستان کی بدامنی میں بھارتی ایجنسی ”را” کے عمل دخل کے ثبوت اور شواہد ملے ہیں تو ”را” کو ہماری حکومتی گورننس اور سکیورٹی اداروں کی فعالیت میں پیدا ہونیوالی کمزوریوں سے ہی فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے اس لئے اس وقت اصل ضرورت بالخصوص کراچی بدامنی کے محرکات و مقاصد کی بیخ کنی کی ہے جس کیلئے متعلقہ سیاسی جماعتوں کو بہرصورت اپنے اپنے عسکری ونگز کو نکیل ڈالنا ہوگی۔

سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے یقیناً بڑا چیلنج درپیش ہوگا جن کی پارٹی قیادت کے رینجرز اپریشن پر بھی تحفظات ہیں اور وہ اپنی پارٹی میں موجود کرمنلز پر قانون کا شکنجہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتے اور اسی تناظر میں سبکدوش ہونیوالے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اپنی پارٹی قیادت کی ہدایت کے تابع رینجرز کے اختیارات اور اسکے قیام کی مدت میں توسیع کیلئے وزارت داخلہ کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری نہیں دی تھی۔ اب سندھ کے نامزد وزیراعلیٰ سید مرادعلی شاہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران یہی عندیہ دیا ہے کہ وہ پارٹی قیادت کی ہدایت کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دینگے چنانچہ وہ حکومتی گورننس پر پارٹی قیادت کی ہدایات کو ترجیح دینگے تو اس سے سندھ بالخصوص کراچی میں امن و امان کی بحالی کا خواب کبھی شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

میڈیا ذرائع سے اطلاعات تو یہی مل رہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے رینجرز کے اختیارات اور اسکے قیام کی مدت میں توسیع پر آمادگی ظاہر کردی ہے اور نئے وزیراعلیٰ سندھ حلف اٹھانے کے بعد پہلا کام وزارت داخلہ کی بھجوائی سمری پر دستخط کرنے کا ہی سرانجام دینگے تاہم اسکے بعد بھی انہیں گورننس کے معاملہ میں کسی مصلحت اور پارٹی مفاد کو آڑنے نہیں آنے دینا چاہیے اور رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن کی کامیابی کیلئے حکومتی انتظامی مشینری کی مکمل معاونت فراہم کرنی چاہیے۔

Nine Eleven Incident

Nine Eleven Incident

یقیناً اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی نائن الیون کے بعد اس خطہ میں شروع کی گئی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی بننے کے ردعمل میں یہاں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے’ نتیجتاً ہم اب تک سکیورٹی اداروں کے افسران اور جوانوں سمیت وطن عزیز کے 60 ہزار سے زائد شہریوں کی جانیں ضائع کرچکے ہیں اور سو ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اس وقت دہشت گردی کی لہر پوری دنیا میں پھیل چکی ہے جس پر امریکہ اور یورپی ممالک کے علاوہ ہمارے پڑوسیوں بھارت اور افغانستان کی جانب سے بھی ہمیں دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جو بلاشبہ حقائق کے برعکس ہے۔

کیونکہ ہماری سکیورٹی فورسز تو دہشت گردوں کی بلاامتیاز سرکوبی کیلئے اپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر پھیلنے والی دہشت گردی’ جس کی ہم خود بھی لپیٹ میں ہیں’ کے تدارک کی تمام عالمی قیادتوں کو مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ¿ مصر کے دوران گزشتہ روز اسی تناظر میں مصرکے صدر عبدالفتاح السیسی اور امام اعظم جامعہ الازہر سے ملاقات کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ اقوام عالم اور مسلم امہ کو دہشت گردی کی لعنت کیخلاف متحد ہونا ہوگا۔

ہمیں بذات خود دہشت گردی کے خاتمے کا بہت بڑا چیلنج درپیش ہے جس سے عہدہ برا¿ ہونے کیلئے دہشت گردی کے پس پردہ تمام مقاصد و محرکات کا بغیر کسی لگی لپٹی کے قلع قمع کرنا ہوگا۔ اگر ہم پاک فوج کے اپریشن ضرب عضب اور کراچی کے ٹارگٹڈ اپریشن کے متعینہ مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوگئے تو پھر دنیا کا ہم پر انگلی اٹھانے کا جواز بھی ختم ہو جائیگا اور کراچی سمیت ملک میں بدامنی کے چھائے سیاہ بادل بھی چھٹ جائینگے۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر زیدی