yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریںفرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریںفرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

کفن کی جیب

Yes 2 Webmaster January 24, 2015 1 min read
ALLAH
Share this:
ALLAH
ALLAH

تحریر : ایم سرور صدیق
ایک انتہائی مالدار کنجوس بستر ِ مرگ پر تھا مرض بڑھتا گیا جوں جو ںدواکی کے مصداق اس کی دن بہ دن حالت بگڑتی جارہی تھی عیادت کو آتے جاتے لوگ اسے مشورے پہ مشورہ دیئے جارہے تھے تمہارا آخری وقت آگیاہے اللہ کے نام پر کچھ تو دیتے جائو وہ سنی ان سنی کردیتا۔۔ایک روز وہ لگتا تھا کہ گھڑی پل کا مہمان ہے عزیز و اقارب، دوست احباب اور محلے دار مالدار کنجوس کی چارپائی کے گرد جمع تھے کہ حالت سنبھل گئی اتنے میں مولوی صاحب تشریف لائے انہوںنے تلقین کے انداز میں کہا حضرت!وقت قریب ہے اللہ کے نام پر کچھ دیتے جائو سب نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔ کنجوس نے ہمت کرکے سر اٹھایا کچھ کہنے کیلئے لب کھولے مولوی صاحب کے چہرے پر رونق سی آگئی سب متوجہ ہوگئے تو اس نے جل کر کہا کم بختو! جان تو دے رہا ہوں اور کیا دوں؟۔۔۔ہمارے معاشرے میں روپے پیسے کے معاملہ میں بیشترلوگوںکا رویہ ایسا ہی ہے زندگی کی آخری سانسوں تک دولت کی محبت دل سے نہیں جاتی یہ المیہ بلکہ اسے سانحہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مسلمان اس سلسلہ میں زیادہ” بدنام” ہیں شایداسی بناء پر کچھ عرصہ قبل ایک امریکی سینیٹرنے کہا تھا” پاکستانی دولت کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں”۔۔۔ حالانکہ دولت کیلئے اتنی چاہت۔۔عجب رویہ۔۔اخلاقی قدروں کی پامالی انسان کو زیب نہیں دیتی نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یقینا اسی لئے دولت کو اپنی امت کیلئے فتنہ قراردیا ہے آئے روزاخبارات میں خبریںچھپتی رہتی ہیں جائدادکی خاطر بھائی نے بھائی کا خون کردیا۔۔ دیور ،جیٹھ یا سسرال نے بیوہ بھابھی،بہو کو گھر سے نکال باہر کیاحتیٰ کہ پیسے کی لالچ میں اب تو ناخلف بیٹے والدین کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔

یہ سب دولت سے محبت کا شاخسانہ ہے جس نے بھلے برے کی تمیز،رشتوںکا احترام اوردلوںسے محبت کو ختم کرکے رکھ دیاہے ماہرین ِ نفسیات کا کہناہے کہ دولت اکھٹی کرنا ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے یہ دل میں اجاگرہو جائے تو پھر دولت سے محبت کی خواہش دن بہ دن بڑھتی چلی جاتی ہے رفتہ رفتہ یہ خواہش ۔۔۔ہوس میں تبدیل ہو جاتی ہے، جائز ناجائزمیں کوئی تمیز نہیں رہتی۔دولت کی ضرورت اور اہمیت سے کسی طور بھی انکار ممکن نہیں لیکن اپنے آپ کو دولت کا پجاری یا غلام بنا لینا صریحاً اپنی شخصیت سے ظلم،معاشرے کے ساتھ ناانصافی اور اخلاقی قدروں کے ساتھ زیادتی ہے اس طرزِ عمل سے انسان کی شخصیت بری طرح مسخ ہوکررہ جاتی ہے اسی لئے مذہب اسلام نے میانہ روی کا حکم دیاہے اعتدال کا یہ راستہ انسان کو بہت سی مشکلات سے محفوظ رکھتاہے آخری الہامی کتاب قرآن حکیم میں دولت کو اپنا سب کچھ ماننے والوںکو سخت نا پسند کیاگیاہے ایسے لوگوںکیلئے وعید ہے ۔ایک کہاوت کے مطابق قارون کی دولت دنیا میں ایک بری مثال ہے یعنی وہ دولت جس سے بنی نوع انسانیت کے لئے کچھ نہ کیا جائے کڑی دھوپ میں تپتے صحراکی مانندہے دنیا میں بہت سے امیر کبیر لوگ موجود ہیں یا اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن جو انسانیت کی خدمت کیلئے سرگرمِ عمل رہے ان کا نام کسی نہ کسی انداز میں آج بھی زندہ ہے ۔

۔دنیا بھرمیں حالات سے مایوس لوگ سوشلزم کی طرف مائل ہوئے لیکن وہ بھی اس کا کوئی مؤثر حل پیش نہ کرسکا اس تجربے کی ناکامی کے بعد لوگ اب تلک مختلف حل ڈھونڈتے پھررہے ہیں ۔ اسلام سے پہلے حاتم طائی کی شہرت سخاوت کیلئے مشہور تھی اس کا نام اب بھی سخاوت کی علامت سمجھا جاتاہے اسلامی تاریخ میں حضرت عثمان ِ غنی اور حضرت ابوبکر صدیق کی سخاوت کا بڑا شہرا ہے۔ پاکستان میں غربت،دہشت گردی ،بے روزگاری،مہنگائی ،جسم فروشی اور چوری ،ڈکیتی،راہزنی دیگرمسائل کا بڑا سبب دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے مسائل در مسائل کو جنم دے کر عام آدمی کی زندگیاں تلخ بنادی ہیں پاکستان نصف صدی سے جن چیلنجز سے نبرد آزما ہے ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملکی وسائل چند خاندانوںتک محدودہوکر رہ گئے ہیں یہی لوگ اس وقت پاکستانیوںکی تقدیرکے مالک بنے ہوئے ہیں یہ خاندان جو چاہیں سیاہ و سفید کرنے پر قادرہیں بدقسمتی سے یہ لوگ سٹیٹ سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں

قانون ان کی مٹھی میںہے، آئین ان کی خواہش کا نام ہے جس کو موم کی ناک بناکر جدھر چاہیں گھمادیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے عوام کیلئے غربت کو بدنصیبی بنا دیاہے جس سے چھٹکارہ کسی طور بھی ممکن نہیں آرہا۔غربت سے تو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے اور مستحقین کی مدد کرنے کا حکم دیاہے اسلام کا ایک بنیادی جز زکوٰة کا مقصد ہی کم وسائل لوگوں اور غریبوں کی کفالت کرناہے اسی لئے مذہب اسلام کو دین ِ فطرت کہاجاتاہے ۔کہتے ہیں کہ غربت ایسی خوفناک چیزہے یہ سب سے پہلے انسان کی غیرت پر حملہ کرتی ہے پھر شرم ،حیا اوردل کی طمانیت رخصت ہو جاتی ہے حضرت بابا فرید نے اسی لئے کہا تھا
پیٹ نہ پییاں روٹیاں
تے سبھے گلاں کھوٹیاں

پاکستان میں غربت کی بناء پر خودکشی کرنے والوںکی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ حکومت، سماجی تنظیموں اور صاحب ِ ثروت حضرات کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے اب تو فاقوں سے تنگ آکر والدین میں اپنے بچوں کو قتل کرنے کا رحجان پیداہورہاہے ۔ ایک عالمی ادارے نے دل ہلا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتاجارہاہے75% سے زائد شہری خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کررہے ہیں زندگی کی ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم غربت کے مارے اپنے لخت ِ جگر فروخت کرنے پر مجبور ہیں سینکڑوں لوگ اپنے گردے بیچ چکے ہیں جبکہ اب گردوںکی خرید و فروخت نے ا یک کاروبار کی صورت اختیارکرلی ہے جس میں بعض ڈاکٹر بھی ملوث ہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جسم فروشی میں خوفناک اضافہ ہوتا جارہاہے یہ سب غربت جیسی لعنت کی وجہ سے ایسا ہورہاہے وسائل کی کمی،طبقاتی پریشانی اورذہنی الجھائو کے باعث بھی عام خاندان کے نوجوان منشیات کی طرف راغب ہوکر اپنے والدین کو مزید غربت میں دھکیل رہے ہیں اسی بناء پر امیر ۔۔۔امیر ترین اور غریب غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور غریب تو نسل در نسل
زندگی جبر ِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

کی تفسیربنے ہوئے ہیں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی بھی حکومت نے غربت ختم کرنے کیلئے حقیقی اقدامات نہیں کئے اگر کسی نے ڈھیلے دھالے انداز میں ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو افسر شاہی یاارکان ِ اسمبلی نے ان کاوشوںپر پانی پھیردیا اوروہ خود مالا مال ہوگئے اور یوں وہ غربت ختم کرنے کی بجائے غریب ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے اوریوںحکومتی کوششیں بار آور نہ ہو سکیںاگرپاکستان کے TOP10 قومی رہنما اور ممتازشخصیات صرف اپنا سرمایہ پاکستان لے آئیں تو اس سے ملکی معیشت کو نہ صرف استحکام ملے گا بلکہ روزگارکے اتنے مواقع میسر آسکیں گے کہ عام آدمی بھی دو وقت کی روٹی عزت سے کھا سکے گا میاںنوازشریف، آصف علی زرداری، چوہدری برادران،ہمایوں اخترخان اور میاں محمد منشاء فیملیزکو اس بارے غور کرنا چاہیے اس سے بہتوںکا بھلا ہونے کی قوی امیدہے۔ وہ بدنصیب پاکستانی جو کبھی تھرپار کرمیں غذائی قلت کا شکارہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کبھی چولستان میں قحط سے فاقے کرنے پر مجبور ہیں اور مسائل در مسائل نے جن کی زندگیوںکو جہنم بناکر رکھ دیا ہے ان کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں مزدور کے بیٹے نے کھلونے نہ خریدے لے آیا میلے سے بھی دو وقت کا کھانا کاش معاشرے میں دولت سے محبت کرنے والے اتنا سوچ لیں کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی سکندر ِ اعظم جیسے لوگ جب دنیا سے گئے تو انکے دونوں ہاتھ خالی تھے دولتمند ۔۔۔ مسائل کے مارے لوگوںکو خوشیاں خریدکردے سکتے ہیںیقینا اس سے ان کو روحانی خوشی ضرور حاصل ہوگی۔

Sarwar Siddiqui
Sarwar Siddiqui

تحریر : ایم سرور صدیق

Share this:

Yes 2 Webmaster

6,502 Articles
View All Posts
Iqbal Zarqash
Previous Post مصنو عی آزادی اور سرخ و سفید سامراج
Next Post شاہ عبداللہ انتقال کرگئے
Azam Azim Azam

Related Posts

امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

August 16, 2026
ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

August 16, 2026
فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

August 15, 2026
ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

August 15, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.