yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
اہم ترین

شپ بریکنگ یارڈ … یا … مزدوروں کا جہنم

MH Kazmi November 6, 2016 1 min read
Ship breaking yard or ... Fire Workers
Share this:
Ship breaking yard or ... Fire Workers
Ship breaking yard or … Fire Workers

تاحدنظر پھیلا آسمان ایک طرف دعوت نظارہ دے رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف بے کراں سمندر ساحل پر کھڑے لوگوں کی ان جانی خواہشات کو گرما رہا ہوتا ہے۔ انہی ساحلوں پر ہر روز ڈوبتا سورج اپنے پیچھے اندھیرے چھوڑ جاتا ہے تو ساتھ ہی نئی صبح کے انتظار کا پیغام بھی دے جاتا ہے کہ آنے والی صبح نئی خوشیاں ساتھ لائے گی۔

دنیا بھر میں ذہنی سکون اور سیر وتفریح کے لیے ساحل سمندر کو بہترین جگہ قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل سے مالامال ’’پس ماندہ ‘‘ صوبے بلوچستان کی تحصیل لسبیلہ کے ساحلی قصبے گڈانی کے ساحل کا شمار بھی خوب صورت ساحلی تفریح گاہوں میں کیا جاتا ہے، لیکن اگر گڈانی پکنک پوائنٹ جانے کے بجائے گاڑی کا رخ بائیں ہاتھ پر واقع گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی طرف کردیں تو یقینآً آپ کو ’’مخمل میں ٹاٹ کا پیوند‘‘ نظر آئے گا۔

چند دن قبل تک جہازوں کے قبرستان (شپ بریکنگ یارڈ) تک پہنچنے کے لیے راستہ پوچھنا پڑتا تھا، لیکن آج میلوں دور سے افق پر دکھائی دینے والا گاڑھا سیاہ دھواں اس مقام کی نشان دہی کر رہا ہے۔ آج یہ دھواں صرف ایک حادثے کا شاہد نہیں، اس دھویں میں درجنوں مزدوروں کے جسموں کا خراج بھی شامل ہے، جو اپنے اہل و عیال کی دو وقت کی روٹی کے لیے، زرپرست مالکان اور ٹھیکے داروں کی جیبیں بھرنے کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے تھے، لیکن نومبر کا پہلا دن ان کے لیے کچھ انوکھا تھا۔

آج وہ مزدوری پر نہیں سفر آخرت کی جانب گام زن تھے، ایک ایسے سفر پر جس کے لیے ساری زندگی پھٹے پُرانے کپڑے پہنے والے غریب سے غریب شخص کو بھی نیا سفید بے داغ لٹھا پہنا کر روانہ کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے سفر پر جہاں نہ انہیں بیوی بچوں کے لیے روزی کمانے کی پریشانی، نہ بوڑھے ماں باپ کے علاج کی چنتا، نہ اُن کی چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشات پوری کرنے کی فکر۔

اس سفر نے انہیں دنیا کے رنج و الم سے تو آزاد کردیا لیکن زندگی کی طرح موت بھی بہت دردناک ملی۔ کسی نے اپنے ہی ہاتھ ، پیر کو کٹ کر فضا میں اُڑتے دیکھا ہوگا تو کسی نے ٹنوں وزنی لوہے کے نیچے دب کر انتہائی تکلیف میں موت کا مزا چکھا ہوگا، کسی نوجوان نے آخری لمحات میں آگ کی تپش سے جھلستے ہوئے، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی ماں کو بتانے کی کوشش کی ہوگی کہ ماں جس بیٹے کو تو نے کبھی کانٹا بھی نہیں چبھنے دیا آج اس کا جسم لوہے کے ٹکڑوں سے چھلنی اور آگ کی لپیٹوں میں جھُلس رہا ہے۔

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ جسے عرف عام میں ’’جہازوں کا قبرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اب درجنوں انسانوں کا قبرستان بھی بن چکا ہے۔ ایسے انسانوں کا جو اپنی تمام تر نا آسودہ خواہشات سینے میں لیے ایک ہی لمحے میں زندگی سے موت تک کا فاصلہ طے کرگئے۔

جیتے جی روز مرنے والے، روکھی سوکھی کھاکر، شپ یارڈ پر گھر کے نام پر بنی کھولیوں میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر قہقہے لگانے والے چشم زدن میں، انسانی غفلت، جمعدار (ٹھیکے دار) کی پیسے کمانے کی لالچ، مالک کی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کمانے کی ہوس میں جیتے جاگتے انسان سے جھلسے ہوئے ماس میں تبدیل ہوگئے۔ کتنے بدنصیب تھے یہ لوگ کہ نہ تو زندگی میں اچھا پہن سکے اور نہ ہی مرنے کے بعد سفید براق لٹھے کا کفن پہننا نصیب ہوسکا۔

یکم نومبر کی صبح یارڈ نمبر 54 کے باہر مزدوروں کی لائن لگنا شروع ہوگئی۔ آج اس یارڈ پر موجود ایک عظیم الجثہ آئل ٹینکر کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے کام کا آغا ز ہونا تھا۔ لیکویڈ پیٹرولیم گیس کی نقل و حرکت پر معمور نامی یہ جہاز کچھ عرصے قبل ہی یہاں آخری بار لنگرانداز ہوا تھا، لیکن جہاز پر کام کا آغاز ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بریکنگ یارڈ یکے بعد دیگرے دھماکوں سے گونج اٹھا۔ دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیکڑوں ٹن وزنی (جہا ز کا اگلا حصہ) اور لوہے کی موٹی چادریں کاغذ کے ٹکڑوں کی طرح پھٹ کر سیکڑوں فٹ دور جاگریں۔

شپ بریکنگ کی تاریخ کے سب سے ہول ناک حادثے میں کتنے مزدوروں نے جان کی بازی ہاری یہ معما شاید کبھی حل نہ ہوسکے، زر کے پجاری چند درندہ صفت جمع داروں نے کام کے دوران زخمی اور مرنے والوں کو زر تلافی نہ دینے کے لیے ایک انوکھا نظام قایم کررکھا ہے۔ یہاں جہاز پر جانے والے مزدوروں کے نام کا اندراج کام شروع ہونے سے پہلے نہیں بل کہ کام ختم ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔

مزدوروں کے استحصال کے اس بدترین نظام کا مقصد ڈیوٹی کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے مزدور کو زرتلافی کے نام پر ملنے والی معمولی رقم تک کو ہڑپ کرجانا ہے، کام کے دوران زخمی ہونے والا مزدور جہاز پر چڑھنے سے قبل اندراج نہ ہونے کی وجہ سے جمع دار کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، اب یہ جمعدار پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کے نام کا اندراج کرکے اس کا علاج کروائے یا نہیں۔

اور معمول کے مطابق پر چڑھنے والے مزدوروں کے نام اور تعداد کا بھی کہیں اندراج نہیں ہے۔

شپ بریکنگ یارڈ پر ہونے والے حادثے اور مزدوروں کی حالت زار کے حوالے سے ’شپ بریکنگ ورکرز یونین‘ کے صدر بشیر احمد محمودانی کا کہنا ہے کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جہاز کو ڈس مینٹل کرنے والے مزدوروں کو کسی قسم کے ذاتی حفاظتی آلات فراہم نہیں کیے جاتے، جب کہ جہازوں سے نکلنے والے خطرناک کیمیکلز کی وجہ سے مزدور دمے اور جلدی امراض کا شکار ہوچکے ہیں۔ گلاس وول فوم کی طرح کا ریشے دار کیمیکل ہے۔ یہ اگر جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو شدید خارش ہوتی ہے۔ یہ سانس کے ساتھ یہ پھیپھڑوں میں جاکر کھانسی اور دمے میں مبتلا کردیتا ہے۔

ہمارا شروع سے مطالبہ رہا ہے کہ مزدوروں کو کام کرنے کے لیے ذاتی حفاظتی آلات اور کسی حادثے کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جائے، لیکن یہاں تو مزدوروں کو کام کرنے کے لیے جوتے اور کپڑے بھی خود خریدنے پڑتے ہیں۔ اتنے بڑے علاقے میں مریضوں کی سہولت کے لیے صرف ایک ایمبولینس ہے۔ بلندی پر کام کرنے میں خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں، جن کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے، مگر یہاں مزدوروں کے ہاتھ پیروں میں فریکچر ہونا یا جلنا کٹنا معمول کی بات ہے۔ یہاں سے قریب ترین اسپتال بھی تقریباً 50کلومیٹر دور کراچی میں ہے۔

اگر کسی مزدور کے ہاتھ یا پیر میں فریکچر ہوجائے تو اْسے دوبارہ کام پر رکھنے کے بجائے گاؤں بھجوادیا جاتا ہے۔ مزدوروں کے لیے رہنے کے لیے نہ مناسب جگہ ہے اور نہ ہی پینے کے لیے میٹھا پانی، مجبوراً انہیں بورنگ کا کھارا پانی پینا پڑتا ہے، جس سے اْنہیں پیٹ کی بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں۔ مزدوروں کی خراب صورت حال کی ذمے داری مالکان کے بجائے جمعداروں (ٹھیکے داروں) پر عاید ہوتی ہے، کیوں کہ انہوں نے گروپ بندی کی ہوئی ہے۔

اگر کوئی مزدور کام کے دوران مر جائے تو ٹھیکے دار اور علاقہ پولیس کی چاندی ہوجاتی ہے، کیوں کہ انہیں اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔ مالکان اور حکومت کو ریونیو کی مد میں اربوں روپے فراہم کرنے والی اس صنعت میں مزدور جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہے ہیں، آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہر جہاز پر انتہائی اونچائی پر کام کرنے والے مزدور آپ کو حفاظتی جنگلے اور (سیفٹی ہارنیس) حفاظتی رسی کے بغیر نظر آئیں گے۔

ناکارہ جہازوں میں تیل اور گیس کے پائپوں کو کھولنا اور کاٹنا ماہر گیس فٹر کا کام ہے، کیوں کہ اگر انہیں بداحتیاطی سے کھولا یا کاٹا جائے تو دھماکے کے ساتھ آگ لگ جاتی ہے۔ ایسے واقعات یہاں آئے دن ہوتے رہتے ہیں، صرف اس وجہ سے اب تک درجنوں مزدور اپاہج اور کئی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس صورت حال میں بلندی پر کام کرنے والے مزدور زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے نیچے اترنے کے لیے کوئی ہنگامی راستہ موجود نہیں ہوتا۔

حالیہ حادثے میں بھی دھماکے کے بعد بلندی پر کام کرنے والے مزدوروں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی اور اب تک تمام لاشیں بھی سمندر سے ملی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن اور فائربریگیڈ کے عملے کی کوششوں سے 4 دن بعد آگ پر قابو پالیا گیا، گذشتہ روز جہاز کےhull   کے ملبے سے کچھ مزدوروں کے کچھ اعضا ملے ہیں۔مکمل طور پر کولنگ کے بعد ہی مزید مزدوروں کی تلاش کا کام کیا جاسکے گا۔

حادثے کے اسباب کے بارے میں بشیر احمد محمودانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی جہاز خصوصاً آئل ٹینکر کو ڈس مینٹل کرنے سے قبل کسٹمز اور وزارت ماحولیات کا عملہ جہاز میں موجود پرانے تیل اور دیگر آتش گیر کیمیکلز کی مکمل صفائی تک این او سی جاری نہیں کرتا۔ این او سی کے حصول تک مالک اور جمع دار ڈس مینٹل کرنے کا کام شروع کرنے کے مجاز نہیں، لیکن اس جہاز پر اپنی رقم کو جلد کیش کرانے کے چکر میں ایگری، گیس ویلڈنگ اور تیل کی صفائی کا کام ایک ساتھ شروع کردیا گیا۔

حادثے کے صحیح وجوہات کا جاننا تو شاید اب ممکن نہیں لیکن ہوا یہی ہوگا، کہ تیل اور دیگر آتش گیر مادوں کو مناسب طریقے سے صاف کیے بنا ہی کٹائی کا کام شروع کردیا گیا اور گیس ویلڈنگ کے شعلوں نے چند ہی لمحوں میں درجنوں انسانوں کو راکھ میں تبدیل کردیا۔ اس کی تمام تر ذمے داری جہاز کے مالک اور جمعدار پر عاید ہوتی ہے، کیوں کہ انہوں نے مزدوروں کو سب کام ایک ساتھ شروع کرنے پر مجبور کیا ہوگا۔

اس طرح اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی صحیح تعداد کا تعین کرنا بھی ممکن نہیں، کیوں کہ جمع دار اپنے منافع اور مالک کو زیادہ سے زیادہ منافع دینے کے چکر میں مزدوروں کا باقاعدہ اندراج نہیں کرتے۔ لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق جہاز پر 250سے 270 مزدور کام کرنے گئے تھے، کیوں کہ لکڑی، گیس ویلڈنگ، صفائی کے لیے عموماً ہر جہاز پر اسی سے نوے مزدور ایک کام کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ’شپ بریکنگ یارڈ‘

دنیا کے تیسرے بڑے شپ بریکنگ یارڈ میں مزدوری کے نام پر جیتے جاگتے انسانوں سے حیوانوں سے بھی بدتر کام لیا جارہا ہے، یہاں پر کام کرنے والے مزدور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ مزدور یونینز کی بدولت ان کی اجرت میں برائے نام اضافہ تو ہوا ہے، لیکن دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کا واضح ثبوت اسی علاقے میں لکڑی کے کیبینز میں بنی پرانے جوتوں اور کپڑوں کی دکانیں ہیں، کیوں کہ کام کرنے کے لیے حفاظتی جوتے اور کپڑے بھی انہیں اپنی جیب سے خریدنے پڑتے ہیں۔

ان مزدوروں کو نہ تو پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے مناسب جگہ، کچھ مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت جہازوں سے نکلنے والے ’’ناقابل فروخت‘‘ سامان کی مدد سے اپنی جھگیاں بنالی ہیں، جن میں وہ موسم کی شدت سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے شپ یارڈ میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح بہبود اور جان و مال کے تحفظ کے لیے کسی قسم کے موثر اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ یہاں کام کرنے والے کم عمر اور بوڑھے، دونوں طرح کے مزدور حفاظتی جوتوں، دستانوں، فیس ماسک، یونیفارم اور حفاظتی آلات کے بغیر رزِق حلال کے لیے کوشاں ہیں۔

ناکارہ جہازوں میں موجود کینسر اور سانس جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بننے والا آلودہ تیل ان کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے ساتھ کئی کیمیکلز (ایبیسٹوز، گلاس وول، پولی کلورینیٹڈ بائی فنائیل، بلج اور ڈسٹ واٹر) ان مزدوروں کو ’’دمے‘‘ اور ’’کینسر‘‘ سمیت کئی مہلک جلدی بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حادثے سے بچیں، کیوں کہ ایسے میں مناسب طبی امداد میں تاخیر انہیں موت سے ہم کنار کردیتی ہے۔

اوسطاً ہر ماہ تین چار مزدور مختلف حادثات کا شکار ہوکر لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، تقریباً اتنی ہی تعداد میں مزدور اپنی ناآسودہ خواہشات، گھر والوں کی کفالت کی خواہش دل میں لیے زندگی بھر کی معذوری کے ساتھ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں، کئی بار ایسا ہوا کہ زخمی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی زیادہ خون بہنے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلا گیا۔

اس پورے علاقے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صرف ایک ایمبولینس فراہم کی گئی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ڈسپنسری کے بارے میں مزدوروں کا کہنا ہے کہ یہاں صرف نزلہ، کھانسی وغیرہ کا علاج ہوتا ہے یا پھر معمولی زخموں کی مرہم پٹی کی جاتی ہے۔ اس ڈسپنسری کی بوسیدہ عمارت حادثے کے بعد مزدوروں کی جھلسی ہوئی لاشوں اور باقیات کو رکھنے کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ وہ خطرناک کیمیکل جن پر دنیا کے بیش تر ممالک میں پابندی عاید ہوچکی ہے، ریت پر جا بہ جا ان کے ڈھیر لگے تھے۔

گلاس وول (جسے مزدور اپنی زبان میں کھجلی کا نام دیتے ہیں) کے ڈھیر کچرے کی صورت میں جا بجا پھیلے تھے، چوں کہ یہ ہوا کے رخ پر تھے، اس لیے ان کے ذرات سے فضآآلودہ تھی۔ مزدور گلاس وول، ایبیسٹوز اور دیگر ہلاکت خیزکیمیائی مادوں کی ہلاکت خیزی سے بے خبر ان کے درمیان اپنے شب و روز بسر کر رہے ہیں اور انجانے میں کھانسی، دمے اور جلد کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔

یہ مادے کارسینوجینک ہیں، یعنی ان کی وجہ سے کینسر لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اس کا علم ان مزدوروں کو نہیں ہے، کیوںکہ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر مزدوروں کو جبری رخصت پر بھیج دیا جاتا ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج معالجے کی سکت نہ ہونے کے سبب وہ پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر میں مبتلا ہوکر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

پورے ملک کو سوئی گیس فراہم کرنے والے صوبے کے اس علاقے میں مزدور کیکر کی لکڑیوں پر کھانا پکا نے پر مجبور ہیں۔ اس لکڑی کے جلنے سے نکلنے والا دھواں انہیں سانس اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاںآتش گیر کیمیکل، آکسیجن کے بڑے بڑے ٹینک موجود ہوں، وہاں لکڑی جلانا اپنی موت کو دعوت دینا ہے، لیکن مزدوروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ یہاں روٹی 15روپے، اور سبزیاں مارکیٹ سے 30سے40روپے منہگی ہیں۔ خطرات اور ہلاکت سے بھری اس فضا میں زندگی کرتے مزدور دراصل لمحہ لمحہ موت اور بیماریاں کشید کر رہے ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے لی جانے والی ہر سانس ان کے جسموں میں زہر اتار رہی ہے، لیکن کوئی متعلقہ ادارہ اس صورت حال پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔

لمحہ بہ لمحہ زندگی نگلتا شپ بریکنگ یارڈ

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ نہ صرف انسانوں کے لیے موت کا سامان بن رہا ہے بل کہ ناکارہ جہازوں سے نکلنے والے تیل، کیمکلز اور دیگر اشیاء نے آبی اور فضائی آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ وسعت کے اعتبار سے دنیا کے اِس تیسرے بڑے شپ بریکنگ یارڈ میں داخل ہوتے ہی دیوہیکل کرینیں دکھائی دیتی ہیں، ہوا کے ساتھ اڑتے ’’گلاس وول‘‘ (مقامی زبان میں کھجلی) کے ذرات ہیں، کیمیکلز کی مخصوص بْو ہے جو ناک میں چبھتی ہے، یہ سب ناگوار چیزیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں لائے جانے والے جہازوں کی اکثریت تیل بردار اور کارگو جہازوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن سے نکلنے والآآلودہ تیل آگے فروخت کردیا جاتا ہے اور کیچڑ جیسے خراب تیل کو بوریوں میں بند کرکے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے جو آبی حیات کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ مزدور حفاظتی آلات کے بنا جہاز کے پیندے میں سوراخ کرکے بلاسٹ واٹر/بلج واٹر بھی سمندر میں بہا دیتے ہیں، جب کہ جہازرانی کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق بلج واٹر یا بلاسٹ واٹر کو ٹریٹمنٹ کے بعد تلف کیا جاتا ہے۔

تین سال قبل تک گلاس وول، سلج اور دیگر زہریلے کیمیکلز کو سمندر اور ساحل پر پھینکنے پر پابندی تھی، مگر اب اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ شپ بریکنگ یارڈز کی وجہ سے ماحول پر مرتب ہونے والے اثرات کی مانیٹرنگ کرنا انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کی ذمے داری ہے۔ اصولاً یارڈ پر آنے والے ہر جہاز کو ڈس مینٹل (اسکریپ میں تبدیل کرنے سے پہلے کا عمل) سے پہلے کسٹمز اور ای پی اے سے این او سی (نوآبجیکشن سرٹیفیکیٹ) کا حصول لازمی ہے۔

متعلقہ حکام اْس جگہ کا پورا معائنہ کرنے کے بعد ہی این او سی جاری کرتے ہیں۔ یہ اجازت نامہ صرف ایک جہاز کو ڈس مینٹل کرنے کے لیے ہوتا ہے اور یارڈ پر آنے والے ہر جہاز کے لیے اِس کا حصول لازمی ہے۔ شپ بریکنگ یارڈ سے نکلنے والے کیمیائی مواد اور آلودہ تیل، بلاسٹ واٹر، کیمیکل اور تیل کی وجہ سے سمندری حیات کی بقا کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

جہاز میں سینتھیٹک آئل، ہائیڈرولک آئل، کروڈآئل، ڈیزل، مٹی کے تیل سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات بھی موجود ہوتی ہیں۔ کارگو اور آئل کی ترسیل کرنے والے جہازوں میں تیل اور ایندھن کی شرح مسافر بردار جہاز کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ جہاز توڑنے کے دوران مشینری، کارگو ٹینکس اور دیگر حصوں میں موجود تیل کا متواتر ایکسپوژر ’’جگر‘‘، ’’گردے‘‘، ’’دل‘‘ اور ’’مرکزی اعصابی نظام‘‘ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان اشیا کو سمندر میں بہائے جانے کی صورت میں آبی حیات اور ماحول پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

امدادی کارروائیاں

جہاز پر دھماکوں کے بعد شروع ہونے والی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ایدھی فاؤنڈیشن بلوچستان کے انچارج ڈاکٹر عبدل الحکیم لاسی کے مطابق ہمیں یکم نومبر کی صبح ساڑھے نو بجے اس واقعے کی اطلاع ملی تھی، جس کے فوراً بعد ہم نے امدادی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔ اب تک بیس لاشیں اور 58 سے زائد زخمیوں کو کراچی منتقل کرچکے ہیں۔

زخمیوں کے حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد 60فی صد سے زاید جھلسے ہوئے ہیں، جب کہ جہاز کے پچھلے حصے میں ابھی تک آگ لگی ہوئی ہے اور تپش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم وہاں صحیح طریقے سے ریسکیو آپریشن شروع نہیں کرپا رہے۔ پورا ایریا سو فی صد کلیئر نہ ہونے تک ہمارا ریسکیو آپریشن جاری رہے گا، جب کہ فیصل ایدھی اور ان کے بیٹے عبدالستار ایدھی جونیئر بھی پہلے دن سے یہاں موجود ہیں اور اپنی نگرانی میں زمینی اور بحری امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

شپ بریکنگ یارڈ کی تاریخ اور معیشت میں کردار

بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی کی وجہ شہرت ایک تفریح گاہ کے علاوہ وہاں قائم شپ بریکنگ یارڈ بھی ہے۔ ناکارہ بحری جہازوں کو توڑنے والے 130سے زیادہ پلاٹس پر مشتمل یہ شپ بریکنگ یارڈ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا اور کارکردگی کے حساب سے دنیا کا پہلا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ ہے۔

1980 کی دہائی میں اس کا شمار تیس ہزار ملازمین کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے شپ یارڈ میں کیا جاتا تھا۔ تاہم حکومت کی عدم توجہی اور ایشیائی خطے میں بنگلادیش اور بھارت کی جانب سے شپ بریکنگ یارڈز کے قیام کے باعث پاکستان کو خطیر زرِمبادلہ فراہم کرنے والی یہ صنعت زبوں حالی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ آج یہ صنعت 80 کے عشرے میں پیدا ہونے والے اسکریپ کے مقابلے میں محض ایک چوتھائی اسکریپ پیدا کر رہی ہے اور اس میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد بھی دس ہزار سے کم ہوچکی ہے۔

جہاز توڑنے کی اس صنعت سے ہر سال دس لاکھ ٹن سے زاید اسٹیل حاصل ہوتا ہے جسے مقامی خریدار ہی خرید لیتے ہیں، جب کہ پلاسٹک، لکڑی اور دیگر سامان بھی پاکستان میں ہی فروخت ہوجاتا ہے۔ گڈانی شپ یارڈ میں اس وقت سالانہ ہر جسامت کے (بشمول سپر ٹینکرز) 125جہازوں کو اسکریپ میں بدلنے کی گنجائش ہے۔

پاکستان کے پس ماندہ صوبے بلوچستان میں قایم یہ صنعت کار کردگی کے لحاظ سے دنیا بھر کے شپ بریکنگ یارڈز میں پہلے نمبر پر ہے جس کا سہرا اس صنعت کی اپنے خون پسینے سے آب یاری کرنے والے غریب مزدوروں کے سر جاتا ہے، جو حفاظتی اقدامات اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باوجود یہاں آنے والے ہزاروں ٹن وزنی جہاز کو دو سے ڈھائی ماہ کے عرصے میں اسکریپ بنادیتے ہیں اور بھارت اور بنگلادیش کے مزدور اسی جسامت کے جہاز کو ٹکڑوں میں تبدیل کرنے میں چھے ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا دیتے ہیں۔

پرانے جہازوں سے نکلنے والے ہلاکت خیز مادے

چند سو روپے معاوضے کے عوض شپ یارڈ کے مزدور نہ صرف اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے ہیں بل کہ دس سے بارہ گھنٹے تک ناکارہ جہازوں میں موجودہ انتہائی مہلک کیمیکلز، مادوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ناخواندہ اور غیرتربیت یافتہ ہونے کے سبب وہ اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہوتے کہ جس مادے کو وہ ننگے ہاتھوں سے پکڑ رہے ہیں وہ انہیں آہستہ آہستہ ایسی مہلک بیماریوں کی لپیٹ میں لے رہے ہیں جن کا علاج کرانا ترقی یافتہ ممالک کے مال دار افراد کے بس سے بھی باہر ہے۔ ناکارہ بحری جہازوں میں معصوم مزدوروں کی زندگی کم کرنے والے چند مضر کیمیکلز یہ ہیں:

٭گلاس وول

گلاس فائبر نامی ریشے سے بنائے گئے اس میٹیریل کو جہاز میں ’’کیویٹی وال انسولیشن‘‘، ’’سیلنگ ٹائلز‘‘،’’کرٹن والز‘‘ اور ’’ڈکٹنگ‘‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ میٹیریل جِلد، آنکھوں، گلے اور نظام تنفس میں سوزش اور کھانسی پیدا کرتا ہے۔ گیلا ہونے کی صورت میں فوم نما میٹیریل میں جراثیم کی تعداد تیزی بڑھتی ہے اور سمندر میں پھینکے جانے کی صورت میں گلاس وول سمندری حیات کو خطرے سے دوچار کردیتا ہے۔

٭ ایبیسٹوز

یہ ریشے دار مادہ ہے، جسے زیادہ درجۂ حرارت بر داشت کرنے کی وجہ سے بریک لائننگ، انسولیٹنگ (غیرموصل بنانا) اور آگ سے تحفظ فراہم کرنے والے کپڑوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ سفید، بھورے اور نیلے رنگ کا یہ مادہ پھیپھڑوں، حلق، معدے اور آنتوں کے کینسر سمیت نظام تنفس اور دل کی متعدد بیماریوں کا باعث ہے۔ انہی نقصان دہ اثرات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک میں ایبیسٹوز کے استعمال پر پابندی ہے۔

اس مادے کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اس کا ایک ریشہ انگلی میں چْبھ جائے تو اْس جگہ مسا بن جاتا ہے، جسے ’ایبیسٹوز کارن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایبیسٹوز کے لیے کہا جاتا ہے ’’ون فائبر کلز‘‘۔ایبیسٹوز کی ’’میٹیریل سیفٹی ڈیٹا شیٹ‘‘ کے مطابق جلد پر براہ راست لگنے سے خارش، سوزش، آنکھوں پر لگنے کی صورت میں جلن اور سرخی اور اگر معدے میں چلا جائے تو آنتوں میں سوزش پیدا ہوجاتی ہے۔ تاہم ایبیسٹوز کا ریشہ مستقل نگلے جانے کی صورت میں بکل کیویٹی (منہ) فیرنگس، او ایسو فیگس (نرخرے) معدے، کولون (بڑی آنت) اور ریکٹم (مقعد) میں کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایبیسٹوز کی معلوماتی شیٹ پر یہ بات بھی واضح لکھی ہوئی ہے کہ گر جانے والے میٹیریل پر چلنے یا اسے چھونے سے گریز کریں۔ اس مادے کو حفاظتی آلات پہن کر موزوں کنٹینر میں ڈال دیں۔ اسے آبی گزر گاہوں اور سیوریج کی لائنوں میں نہ بہایا جائے۔ دوسری جنگ عظیم تک صرف امریکا میں ہی کشتی سازی کی صنعت سے وابستہ تقریباً ایک لاکھ افراد کی وجہ سے ہلاک یا بیمار ہوئے تھے۔

کشتی سازی کا مرکز کہلائے جانے والے ’’ہمپٹن روڈز‘‘ میں ’’میسو تھیلیوما‘‘ (کینسر کی ایک قسم جو پھیپھڑوں، معدے اور دل کی جھلی کو متاثر کرتی ہے) میں شرح اموات قومی اعداد و شمار سے سات گنا زاید تھی، جِس کی اہم وجہ یہ تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران تیار ہونے والے بحری جنگی جہازوں میں پائپوں کی انسولیشن، بوائلر، بھاپ کے انجن اور بھاپ سے چلنے والی ٹربائنز میں بڑے پیمانے پر  کا استعمال کیا گیا تھا۔ بحری جہاز میں  ’’بلک ہیڈ‘‘،’’پائپ تھرمل انسولیشن‘‘، ’’بریک لائننگ‘‘، ’’فائر بلینکٹ، آگ بجھانے کے دوسرے آلات‘‘، ’’ساؤنڈ ڈمپنگ‘‘، ’’برقی تاروں کے مٹیریل‘‘ اور دیگر کئی مقامات پر پایا جاتا ہے۔

٭پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز

پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز ایک نامیاتی مادہ ہے جسے برقی حرارت کی منتقلی، ہائیڈرولک آلات، رنگ، پلاسٹک اور ربر سے بننے والی مصنوعات میں بہ طور پلاسٹی سائزر (کسی مادے کو کیمیائی طریقے سے لچک اور لوچ پیدا کرنے کے لیے تیار کرنا) استعمال کیا جاتا ہے۔ غیرآتش پذیری، کیمیائی طور پر مستحکم، اونچے نقطۂ اُبال اور برقی انسولیٹنگ خصوصیات کی بنا پر پانی کے جہازوں میں کا استعمال بہت زیادہ ہوتا رہا ہے۔

یہ مادہ جہاز کو توڑنے کے دوران ٹھوس اور مائع دونوں شکلوں میں حاصل ہوتا ہے، تاہم حفاظتی آلات کے بغیر کام کرنے کی وجہ سے یہ سانس کی نالی اور جلد میں جذب ہوکر مزدوروں کے جسم کے فیٹی ٹشوز میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ اس مادے کے متواتر ایکسپوژر کے نتیجے میں انسانی جسم کے مدافعتی نظام، تولیدی نظام، اعصابی نظام اور غدودوں کے نظام پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہائیڈرکاربنز سے بننے والا یہ مادہ کارسینو جینک (کینسر کا سبب بننے والا) بھی ہے اور پانی میں بہائے جانے کی صورت میں آبی حیات خصوصاً مچھلیوں کے لیے نہایت مضر ہے۔ پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز جہاز کی ’’کیبل انسولیشن‘‘، ’’ٹرانسفارمرز، کیپیسیٹرز‘‘، ’’برقی آلات‘‘، ’آئل بیسڈ رنگ‘‘ ، ’’پائپ ہینگرز‘‘ سمیت دیگر کئی جگہوں پر استعمال ہوتا ہے۔

٭بلج اور بلاسٹ واٹر

شپ بریکنگ کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جہاز کو ڈس مینٹل کرنے کا سب سے اہم حصہ بلج اور بلاسٹ واٹر کی باقاعدہ صفائی اور اْسے تلف کرنا ہے۔ اگر یہ کام احتیاط کے ساتھ نہ کیا جائے تو اس سے ماحول اور مزدوروں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ بلج واٹر جہاز کے پیندے میں جمع ہونے والے گندے پانی اور دیگر مائعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس پانی میں تیل، گریس، غیرنامیاتی نمکیات (سنکھیا، تانبہ، کرومیم اور سیسہ) شامل ہوتے ہیں۔بلاسٹ/ویسٹ واٹر اْس پانی کو کہتے ہیں جو جہاز کو متوازن رکھنے کے لیے بنے مخصوص ٹینکوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر جہاز اس پانی کو سفر کے دوران ہی سمندر میں گراتے رہتے ہیں۔ تاہم کچھ ناکارہ جہازوں میں یہ موجود ہوتا ہے۔ بلاسٹ واٹرکازیادہ استعمال بڑے ٹینکرز اور کارگو جہازوں میں کیا جاتا ہے۔ نامیاتی مادوں، وائرس اور بیکٹیریا پر مشتمل یہ پانی سمندری حیات، ماحول اور انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ شپ بریکنگ کے قواعد کےمطابقبلج /بلاسٹ واٹر کے ٹینکوں کو ساحل پر بنے ٹینکوں میں منتقل کرنے کے بعد ٹریٹ کرکے تلف کیا جانا چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

Share this:

MH Kazmi

25,237 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
Would you like strange and terrible cake
Previous Post کیا آپ عجیب اور خوفناک کیک کھانا پسند کریں گے
Next Post زبانی جمع خرچ سے ہاکی کا مقدر نہیں سنور سکتا، عملی اقدامات کئے بغیر بات نہیں بنے گی
Evergreens can spend a lot of hockey verbal, practical steps will be taken without

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.