counter easy hit

شبقدر :مریضوں کے لواحقین سہولیات نہ ملنے پر پھٹ پڑے ، وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ

SHABQADAR: burst

SHABQADAR: burst

دھماکے کے بعد مریضوں کو ہسپتال لایا گیا تو عملے کے 32 ملازم غیر حاضر تھے ، کوئی دوا دینے والا تھا نہ ان کا حال پوچھنے والا
شبقدر (یس اُردو ) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شبقدر کی حالت زار پر زخمیوں کے لواحقین پھٹ پڑے ، لواحقین نے خیبر پختونخوا کے وزیر صحت شاہرام ترکئی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ۔ شب قدر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے یا صرف عمارت ، گرد و غبار سے اٹے بند کمرے ، عملہ غائب ، ڈاکٹر غیر حاضر ، دوائیں ناپید ، سٹریچر نہ ایمبو لینس ، خود کش دھماکے میں لائے گئے لہولہان زخموں سے چور بلکتے سسکتے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا ۔ آج ہسپتال کے 32 ملازم غیر حاضر تھے ۔ دوا دینے والا تھا نہ کوئی تسلی دینے والا ۔ مریضوں کے لواحقین اپنے پیاروں کو تڑپتا دیکھ کر پھٹ پڑے ۔ لواحقین نے ہسپتال کی حالت زار پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر صحت شاہرام ترکئی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہسپتال 2002 میں منظور ہوا لیکن محکمہ صحت نے آج تک توجہ نہیں دی ۔ پٹیاں ، سرنجز ، دوائیں تک باہر سے لانا پڑتی ہیں ۔ ہسپتال کی ابتر حالت خیبر پختونخوا کی حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔