counter easy hit

سیکٹر آئی الیون کچی آبادی آپریشن

Squatter Population Pperation

Squatter Population Pperation

تحریر: ڈاکٹر ایم اے قیصر
فروری 2014ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی تمام غیر قانونی بستیوں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت زیرِ غور آیا تھاجب اسلام آبادکی ایک کچی بستی کے رہائشی نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی کہ نادرا کو ہدائیت کی جائے، وہ اسے شناختی کارڈ جاری کرے۔ درخواست گزار کا یہ موقف تھا کہ وہ 40 سال سے اس کچی بستی میں مقیم ہے مگر کوائف کا اندراج کرنے والا قومی ادارہ ”نادرا” اسے شناختی کارڈ جاری کرنے سے انکاری ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے کچی بستیوں کا ریکارڈ طلب کیا، تفصیلات جاننے کے بعد اتھارٹی کو حکم دیا کہ وہ اسلام آباد سے تمام کچی آبادیوں کو ختم کرے۔ چند ہفتے قبل ”سی ڈی اے ”نے اعلان کیا تھا کہ وہ وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں موجود 42 غیر قانونی بستیوں کی مسماری کا کام عید الفطر کے بعد شروع کرے گی اور چار مراحل میں پایہ تکمیل کو پہنچائے گی۔ اس مقصد کے لئے مکینوں کو نوٹس جاری کر دئیے گئے تھے مگر مکینوں کی ہٹ دھرمی کہ اکثریت وہیں آباد رہی۔

چند روز قبل عدالت کے حکم کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون میں کچی آبادیوں کے خلاف یہ آپریشن کیا گیا۔2005ء میں قائم ہونے والی یہ بستیاں 1000 گھروں پر مشتمل ہیں۔ وفاقی حکومت کے ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پولیس اور رینجرز کی مدد سے یہ آپریشن شروع کیا۔ آپریشن سے قبل بستی کو جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔ اس آپریشن میں بل ڈوزر اور کھدائی کی مشینیںبھی استعمال کی گئی۔250 سے زائد غیر قانونی مکانات مسمار کر دئیے گئے اور زمین ہموار کرنے کے لئے بھاری مشینری کا سہارا لیا گیا۔غیر قانونی تجاوزات کے علاوہ حکومت کی طرف سے یہ موقف بھی اختیار کیاگیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے آپریشن کیا جارہا ہے۔ اس آپریشن میں مقامی آبادی کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی جس کے نتیجہ میں علاقہ میدانِ جنگ بن گیا، بہت سے رہائشیوں نے اپنے مکانوں سے نکلنے سے انکار کر دیا دیگر نے حکومت کے اہلکاروں پر پتھرائو کیا، کئی پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارچ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں کی جانب سے اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ متعدد گرفتاریاں ہوئیں تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی ہدائیت پر آئی الیون کچی آبادی کے خلاف آپریشن کی نگرانی کے لئے موبائل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے علاوہ بستی خالی کرنے والوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سیکٹر آئی الیون کی ان کچی آبادیوں میں 20ہزار افراد رہائش پذیر ہیں جن میں سے کچھ افغان مہاجرین ہیں اور بیشترکا تعلق خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں سے ہے۔

اس آپریشن کی جہاں بعض حلقوں نے حمایت کی ہے تو وہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس آپریشن سے لوگوں کے بے گھر ہونے پر تشویشن کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پہلے ہی بہت غریب تھے ان کے پاس کچی آبادی میں رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق کچی آبادی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں گھر خالی کرنے کے لئے وقت نہیں دیا گیا جس کے باعث وہ بر وقت اپنا سامان کہیں دوسری جگہ منتقل نہیں کر سکے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس بستی کے باسیوں کو متعدد بار آگاہ کیا جاتا رہا کہ وہ اس جگہ کو خالی کر دیں اور کہیں اور منتقل ہو جائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے معروف افضل کے بیان کے مطابق ان کچی آبادی میں بسنے والوں کو متعدد بار نوٹس بھیجے، غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو ہٹانے کے لئے مجبوراً آپریشن کرنا پڑنا، تاہم انہوں نے پیشکش کی کہ اگر کسی کو اپنی آبائی آبادی میں جانے کے لئے گاڑی چاہئے تو سی ڈی اے فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماضی میں بھی ان بستیوں کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم علاقہ مکینوں کی مزاہمت پہ کاروائی انجام کو نہ پہنچ سکی اور کام کو روک دیا گیا۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا کہ کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ ناجائز قبضے کے خلاف حکومت کی کاروائی جائز ہے مگر حکام کو اس علاقے سے نکالے جانے والے خاندانوں کی آبادکاری کے لئے بھی سوچنا چاہئے۔

کمیشن نے یہ بھی کہا کہ آپریشن کے دوران گرفتار کئے جانے والے درجنوں افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور انہیں بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے سے حکومت کے محتاط اور مہذب ہونے کا تاثر ملے گا۔وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ایک بیان کے مطابق ”کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ یہاں کئی جرائم پیشہ عناصر پھل پھول رہے تھے۔ یہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کی سکیورٹی کے لئے بھی ضروری تھا تاہم اس آپریشن کو اس طرح ہینڈل کیا جائے کہ بلا جواز کسی غریب آدمی کو اکھیڑا نہ جائے۔’ ‘

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان بستیوں میں مقیم پشتونوں میں پاکستانی پشتون بھی ہیں اور افغان پشتون بھی ۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی بستیاں دہشت گردی سمیت مختلف جرائم کا گڑھ ہیں۔ کراچی کے داخلی راستوں پر ایسی بستیاں قائم ہیں اور یہیں سے معصوم بچوں اور پولیو کی ٹیموں پر بھی حملے ہوتے ہیں۔ ایسی بستیوں میں ضرور سرچ آپریشن ہونا چاہئے اور جو لوگ دہشت گردی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف ان کے جرم کے مطابق قانونی کاروائی کی جائے اور جو لوگ کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں ان میں سے جو افغان مہاجرین ہیں ان کو واپس افغانسان بھیجا جائے۔

نادرا نے ملک بھر سے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے عمل کے لئے 24 رجسٹریشن سنٹر قائم کئے ہیں۔ افغان حکومت نے مہاجرین کی رجسٹریشن کرنے اور انہیں پاسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کی ورخواست کی تھی اور افغان حکومت، یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز (یو این ایچ سی آر) اور حکومتِ پاکستان کے مابین ایک اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی شہریت معلوم کر کے 25جولائی سے ان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا اور انہیں پاسپورٹ مہیا کیا جائے گا۔

تاکہ ان کو افغانستان واپس جانے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رجسٹریشن کا عمل 25 جولائی سے شروع ہونا تھا مگر افغان حکومت کی درخواست پر حکومت پاکستان نے ایک ماہ کے لئے موخر کر دیا ہے اور اب 25اگست کو ہو گا۔ جو پاکستانی پشتون و دیگر باشندے ہیں ان کو اس طرح کچی آبادیوں سے بے دخل کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہو گی، ان کو یا تو متبادل رہائش فراہم کی جائے یا پھر امن و امان کے ساتھ واپس ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا جائے۔

Qaisar Nama

Qaisar Nama

تحریر: ڈاکٹر ایم اے قیصر
Mob: +92 300 469 5424
E-mail: aliqaisar_dr2007@hotmail.com