counter easy hit

سعودیہ کا ویژن 2030 خوش آئند

Saudi Arabia

Saudi Arabia

تحریر: محمد شاہد محمود
سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ سعودی ویڑن پروگرام آیندہ 15 برسوں کے لیے مملکت کے ترقیاتی اور اقتصادی اہداف کی نمائندگی کرتا ہے۔ سعودی عرب کے تین ایسے طاقتور پہلو ہیں جن میں کوئی ہمارا مقابل نہیں۔ “عرب اور اسلامی دنیا میں ہماری گہرائی، ہماری سرمایہ کاری کی قوت اور ہمارا جغرافیائی محلق وقوع یہ تین ہماری طاقت کی بنیاد ہیں۔ شاہ سلمان پل دنیا میں اہم ترین خشکی کی گذرگاہ ہوگا جو سرمایہ کاری اور تعمیرات کی دنیا میں بہت بڑے مواقع فراہم کرے گا۔ جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے سعودی عرب کے راستے کھربوں کی مالیت کا سامان گزرے گا”۔گرین کارڈ منصوبے کے حوالے سے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ اس سے عربوں اور مسلمانوں کا مملکت میں طویل عرصے تک قیام ممکن ہوسکے گا۔ یہ مملکت میں سرمایہ کاری کا ایک آلہ بھی ثابت ہوگا اور اس کا نفاذ آئندہ پانچ برسوں کے دوران ہوگا۔ اگرچہ مملکت میں ہزاروں برس سے معدوم تہذیبوں کا وجود ہے، ان سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے اور مملکت کی اقدار کے تحت سیاحت کے لیے میدان ہموار کرنا چاہیے۔وزارت مالیات میں سیکٹروں کے ڈھانچوں کی ازسرنو تشکیل کی جائے گی۔ انفرا اسٹرکچر سے متعلق تمام منصوبے جاری ہیں اور کسی چیز کو نہیں روکا جائے گا، “ہماری توجہ ہاؤسنگ اور بے روزگاری وغیرہ پر مرکوز ہوگی”۔

انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے ڈھانچے کی تشکیل نو سعودی شہریوں میں ملکیت کی شرح میں اضافہ کا سبب ہوگی۔ ٹیرف سپورٹ مملکت کے متوسط آمدنی یا متوسط سے بھی کم آمدن والے شہریوں کے لیے ہوگی اور اس سلسلے میں رکاوٹ ڈالنے والے صاحب ثروت افراد کو سائڈ لائن کردیا جائے گا، توانائی اور پانی کی سپورٹ کے ویڑن کا نفاذ شہزادوں اور وزراء پر بھی ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ فوجی اخراجات کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہونے کے باوجود سعودی عرب میں فوجی صنعت کا وجود نہیں ہے۔ سرکاری صنعتوں کے لیے ایک ہولڈنگ کمپنی قائم کی جائے گی اور اسے مارکیٹ میں 2017ء کے اواخر تک پیش کردیا جائے گا۔ اس طرح مملکت کے شہریوں کو فوجی معاہدوں کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوسکیں گی۔ “ہماری فوج عسکری اخراجات کے لحاظ سے تیسرے اور جائزے کی درجہ بندی میں بیسویں نمبر پر ہے اور یہ خرابی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب دنیا میں بدعنوانی کی کم ترین شرح رکھنے والا ملک ہو اور نج کاری انسداد بدعنوانی کا ایک اہم حصہ ہے”۔

World

World

سعودی عرب حرمین شریفین کے وجود کے سبب عرب اور اسلامی دنیا میں گہرائی کا حامل ہے۔سعودی عرب معیشت کو حرکت میں رکھنے والی سرمایہ کاری کی قدرت رکھتا ہے جو ملک کے لیے اضافی وسائل ہے۔سعودی عرب کے تزویراتی محل وقوع میں سرمایہ کاری کی کشش۔ اس وصف کے ساتھ کہ یہ دنیا کے لیے ایسا گیٹ وے ہے جو تین براعظموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔تاہم ان بنیادی محوروں کے ساتھ انسانی ترقی بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح ویڑن میں دیگر عوامل بھی شامل ہیں جن کے بغیر چارہ کار نہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے مضبوط پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ سعودی عرب اپنے خودمختار فنڈ، حکومتی ملکیت کے دیگر فنڈز اور سعودی تاجروں اور کاروباری شخصیات کے ذریعے سرمایہ کاری کی طاقت ہوگا۔ سعودی ذہنیت سرمایہ کاری کی ذہنیت ہے جس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہماری سرمایہ کاری کی طاقت ایسی ہونی چاہیے جو سعودی مارکیٹ کو بھی متحرک کرے اور عالمی مارکیٹ کو بھی۔ ہم انتہائی ممتاز جغرافیائی مقام پر موجود ہیں۔ دنیا میں تقریبا صرف ہمارے پاس ہی 3 اہم ترین آبنائے (سمندری راستے) موجود ہیں۔ عالمی تجاری کا 30 فی صد حصہ ہمارے ذریعے سمندر سے گزرتا ہے۔۔ اس وقت ہر سال 80 لاکھ متعمرین سعودی عرب آتے ہیں۔ 2020ء میں یہ تعداد 1.5 کروڑ اور 2030 میں 3 کروڑ ہوجانے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں سعودی نائب ولی عہد کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انفرا اسٹرکچر کا کچھ حصہ موجود ہے۔

جدہ کا نیا ایئرپورٹ اور طائف ایئرپورٹ اس ویڑن پروگرام کے لیے بہت بڑے پیمانے پر کام میں آئیں گے۔ وہ اس بڑھتی تعداد کو اپنے اندر سمو لیں گے۔ ہم اس وقت جلد از جلد مکہ میں میٹرو شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مکہ کا انفرا اسٹرکچر بہت مضبوط ہے جو اس خطیر پروگرام کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے۔ لہذا اس سلسلے میں اب آسان امور کی ضرورت ہے۔ حرم مکی کے اطراف میں بہت اراضی موجود ہے خواہ حکومتی ملکیت میں یا شہریوں کی، اس اراضی سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی چیلنج ہے بس اقدامات اور کام کو منظم کرنے کی بات ہے۔ ویڑن پروگرام میں بیوروکریسی کے پہلو پر بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ہم منفی بیوروکریسی کے دشمن ہیں۔ بیوروکریسی کا مطلب ہے کام کو منظم کرنا۔ اگر بیوروکریسی نہیں ہے تو اس کا مطلب انارکی اور اس کا مطلب ہے خیمے والی انتظامیہ۔ ہم ایسی سبک رفتار اور چاق و چوبند بیوروکریسی چاہتے ہیں جو فیصلہ کرنے میں مددگار ہو اور صحیح وقت پر فیصلہ کرسکے۔ مملکت کے فرماں روا نے ایگزیکٹو اتھارٹی کو سر سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تاکہ وہ تیزرفتاری سے کام کرسکے۔ اقتدار سنبھالنے کے آغاز پر کابینہ کی تشکیل نو عمل میں اس کے علاوہ حکومت میں چوٹی کے منصبوں کے ڈھانچے کو ازسرنو منظم کیا گیا۔

2030

2030

اس سلسلے میں دو نئی کونسلیں بنائی گئیں اور بہت سی کونسلوں کو ختم کیا گیا۔ یہ چیزیں اس واسطے بہت مددگار ثابت ہوئیں کہ اعلی ترین اتھارٹی فعال اور پھرتی کے ساتھ کام کرے تاکہ ان چیزوں کو یقینی بنایا جاسکے جو آج ہم چاہ رہے ہیں۔عرب لیڈروں اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے سعودی عرب کے اعلان کردہ ویڑن 2030ء پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کو مستقبل بیں ،حوصلہ افزا اور شاندار قرار دیا ہے۔ابوظبی کے ولی عہد محمد بن زاید نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ”سعودی ویڑن 2030ء فیصلہ ساز شاہ اور اس شخصیت کی جانب سے ایک شاندار پروگرام ہے جو تاریخی فیصلے کرتی ہے”۔انھوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کے حوالے سے کہا کہ ”یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک اعزاز ہے۔اس ویڑن سے سعودی مملکت اور پورے خطے ہی کو فائدہ پہنچے گا”۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران محمد بن راشد نے بھی ٹویٹر پر اس ویڑن کے حوالے سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ”میں آج دوسرے اعلانات کی طرح اس اعلان کو بڑی توجہ سے سن رہا تھا۔یہ ویڑن سعودی مملکت اور خطے کے لیے ایک نوجوان قیادت کے تحت خواہش اور امید سے بھرپور ہے اور یہ اپنی کامیابیوں کے ذریعے دنیا کو حیران کردے گا”۔سعودی عرب کے اعلان کردہ ویڑن کے بارے میں مختلف تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کونسل برائے امریکی ایوان تجارت کے چئیرمین کرسٹوفر ایچ جانسن کا کہنا ہے ۔

کہ ”ان تبدیلیوں سے نہ صرف سعودی مملکت میں معاشی استحکام میں مدد ملے گی بلکہ اس سے امریکی کمپنیوں کے لیے بھی مختلف شعبوں اور علاقوں میں طویل المعیاد سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے”۔لندن سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی ڈیوٹ گروپ کے فنڈ مینجر علی الناصر نے لکھا ہے کہ ”اب سوال یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسے کیا جائے گا۔انھوں (شہزادہ محمد بن سلمان) نے تمام درست باتیں کہی ہیں۔وہ اس ویڑن کے بارے میں بھی بہت منضبط اور مرتکز نظر آتے ہیں اور انھیں اس میں دلچسپی ہے۔اس کے پس پشت ایک مضبوط اور توانا محرک کارفرما ہے اور مقامی سطح پران کے ایجنڈے کے لیے ایک مضبوط حمایت پائی جاتی ہے”۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے لیے ڈائریکٹر مسعود احمد کا کہنا ہے کہ ”معیشت کو تیل کے بجائے مختلف النوع بنانا دراصل ایسی تبدیلی ہے جس کی سعودی عرب جیسی معیشت کو ضرورت ہے۔میرے خیال میں حقیقی ایشو یہ ہوگا کہ ان بہت ہی ذمے دارانہ اور شاندار مقاصد کو حقیقی تبدیلی میں کیسے رو بہ عمل
لایا جاسکتا ہے”۔

Shahid Mehmood

Shahid Mehmood

تحریر: محمد شاہد محمود
shahidg75@gmail.com