counter easy hit

صف اول کے صحافی نے عمران خان کو خبردار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) کپتان ایک غیر روائتی آدمی ہے۔ ویسے ہمارے سماج میں روایتی اور غیر روائتی کی شناخت عرصہ ہوا دھندلا چکی ہے۔ روائت سے جڑا ہوا شاعر ہو تو وہ اساتذہ کے رنگ میں شعر کہتا ہے۔ شعری خیالات کو باندھتا ہے اور لفظیاتت کے ہنر کو استعمال کرتا ہے۔ نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ کا روائتی کھلاڑی ہو تو بھلا مانس بنا رہتا ہے‘ بیٹ کو قدیم کلاسیکل شاٹس کے لئے مہارت سے استعمال کرتا ہے۔ سٹائل‘ تحمل اور صاف ستھری کرکٹ کو ترجیح دیتا ہے ۔ بائولر ہو تو روائتی انداز میں غصہ ظاہر کرنے کے لئے باونسر پر اکتفا کرتا ہے۔ کچھ روایات سیاست کی ہیں۔ میں نے ایک بار جمہوریت کے نام پر حکومتیں گرانے ‘ بنانے اور پھر گرانے کی تحریکوں پر نوابزادہ نصراللہ پر تنقید کی۔ مرحوم یہ کالم پڑھ کر خفا ہوئے۔ ایک دوست کے توسط سے کچھ مدت بعد ان کے انٹرویو کے لئے گیا تو نوابزادہ نے اپنی گرائو بنائو سیاست کھول کر بیان کی۔ پھر ان سے اچھا تعلق بن گیا۔ میں نے بہت بار ڈاکٹر مبشر حسن سے مکالمہ کیا۔ وہ ہر بجٹ کو ریاستی طاقت میں اضافہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ ان کا زاویہ نظر ہے۔ جناب قیوم نظامی شفقت فرماتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے ہیں۔ ان دنوں کالم لکھتے ہیں عوامی انقلاب پسند قیوم نظامی سیاست کی روائت سے الگ نہیں ہوئے سیاست سے الگ ہو گئے۔ میاں نواز شریف سیاست میں اسی روائت سے داخل ہوئے جو ایوب خان نے ڈالی تھی۔ ایوب خان نے امیر محمد خان کو نواب کہلانے کا حق دیا۔ اس کے خاندان کو ریاست دوست قرار دے کر سیاست میں موقع دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت کو پذیرائی بخشی اور سیاسی مواقع فراہم کئے ۔ ایوب خان فوجی آمروں کے لئے آئیڈیل رہے ہیں۔ جنرل ضیاء نے پوری نئی نرسری کاشت کی۔ نواز شریف اسی نرسری کا پودا ہیں جس نے اپنے بیج مزید جگہوں پر لگا دیے ہیں۔بے نظیر بھٹو نے پہلا انٹرویو بشیر ریاض کو دیا۔ اس انٹرویو میں وہ ایسی انقلابی لڑکی معلوم ہوتی ہیں جو امریکہ کو دنیا بھر کی پریشانیوں کا ذمہ دار گردانتی ہے۔ بھٹو صاحب کی موت‘ قید اور جلاوطنی کے بعد 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہو چکی تھیں۔ وہ غیر روائتی بننے کا سفر طے کر کے پاکستان آئیں اور لاکھوں لوگوں نے ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دیں۔ عمران خان نے 1996میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کی تعمیر احتساب‘ عوامی اختیار اور سچی جمہوریت کے ریشمی خوابوں سے ہوئی۔ نوابزادہ نصراللہ سے عمران خان نے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا ہو گا۔ قاضی صاحب سے دھرنے کی سیاست سکھی ہو گی۔دونوں کے ساتھ 1999ء میں نواز ہٹائو تحریک میں اکٹھے تھے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اس وقت ان کے ساتھی ہوا کرتے تھے۔ عمران خان کو شروع دن سے نواز شریف اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ اخباری فائلیں گواہ ہیں 1997ء کے انتخابات میں نواز شریف نے عمران خان کو پیشکش کی کہ وہ 26نشستیں لے کر ن لیگ کے اتحادی بن جائیں۔ عمران خان راضی نہ ہوئے۔ انہیں پورے ملک سے ایک بھی نشست نہ ملی۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کے فوائد جانتے ہوئے یہ پیشکش قبول نہیں کی تو عمران خان نے خود کو مفاداتی سیاست کی روائت سے الگ کر لیا۔ نوے کے عشرے میں سیاست نے نئی روایات کی بنیاد رکھی۔ شیخ رشید کی شکل میں نواز شریف نے بدزبانی والی توپ اپنی حفاظت پر رکھ لی تھی جو پارلیمنٹ میں گندے جملے اور ذومعنی بیانات سے مخالفین کی توہین کرتے۔ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف کی بدبودار مہم کا نشانہ عمران خان بنے۔ وہ تمام کردار اور اخبار ابھی موجود ہیں جو سیتا وائٹ سکینڈل کو ہر روز نیا مسالحہ لگا کر شائع کرتے۔ اس وقت وہ سب لوگ پارلیمنٹ میں موجود تھے جو آج بزرگ سیاستدان کہلاتے ہیں‘ کئی سابق وزیر اعظم ہو چکے ہیں اور کئی اپنی جماعتوں کے سربراہ ہیں اور خود کو روائت پسند کہلانا پسند کرتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہماری باڈی بلڈنگ ٹیم کے کوچ کہا کرتے تھے غصے کو ریاضت اور مشق میں ڈھالو۔ عمران خان کو بھی ان کے کسی کوچ نے یہ ضرور نصیحت کی ہو گی مگر کپتان نے کئی بار اپنے پرستاروں کو زیادہ قریب آنے پر تھپڑ دے مارا۔ جن دنوں دھرنے پر تھے اپنے ایک کارکن کو سیڑھیاں اترتے ہوئے چانٹا رسید کر دیا۔ کرپشن سے لڑتے لڑتے کپتان ہر اس شخص سے لڑ پڑتا ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ پنجاب آدھا پاکستان ہے۔ یہاں کے بارہ کروڑ لوگ اگر حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں گے یا کپتان کے مقرر کردہ وزیر اعلیٰ کو قبول نہیں کریں گے تو وفاق میں عمران خان مضبوط نہیں ہو سکے گا۔ وہ اسمبلی اور اسمبلی سے باہر جو گفتگو کرے‘ جو زبان استعمال کرے اور جو چاہے لباس پہنے مگر پنجاب کو گونگی فلموں کی روائت کا حصہ نہ بنائے۔ پنجاب اس کی غیر روائتی سوچ سے فائدہ اٹھانے کا مستحق ہے نقصان کا نہیں۔عمران خان ایک علاقے کی محرومی کا علاج کرتے کرتے وسطی پنجاب کو محرومی کا شکار بنا رہے ہیں۔ عمران خان مطمئن ہیں کہ عوام کرپشن سے آلودہ سیاستدانوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ خان صاحب آپ غلط سمجھ رہے ہیں جس رفتار سے آپ کی ٹیم آپ کی محنت پر پانی پھیر رہی ہے بہت جلد یہ لٹیا ڈبو سکتی ہے۔ لوگوں کے حافظے بہت کمزور اور ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ہدائت کی۔ دیکھ لیں آپ کے ساتھی سابق کرکٹر اس کی مخالفت کر رہے ہیں‘ کیونکہ آپ نے مسئلے کو صرف اپنے انداز سے دیکھا ہے‘ اجتماعی نظر کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنائیں گے تو آپ کی حکمت عملی میں جامعیت اورپذیرائی کی صفات پیدا ہوں گی۔ اگر آپ اب بھی مطمئن ہیں تو جان لیں کہ صرف دو ہزار طالب علم لے کر ایک سیاستدان آپ کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ وہ نواز شریف اورآصف زرداری سے خرچے کی بات چیت شروع کر چکا ہے جس روز اسے خرچ مل گیا وہ اس جگہ آ بیٹھے گا جہاں آپ 126روز تک بیٹھے رہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website