counter easy hit

افسوسناک کہانی سامنے

Sadly the story

لاہور (ویب ڈیسک ) پنجاب کی اصلاحات شدہ پولیس رحیم یار خان شہر کے وسطی علاقے میں دن دیہاڑے تین بچوں کی ماں 30سالہ رابعہ کی عزت لوٹنے والے بدنام زمانہ گینگ کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے ۔9رکنی گینگ نے خاتون کی عصمت دری کی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنانے نامور صحافی فخر درانی روزنامہ جنگ میں اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کے بعد پھینک کر فرار ہوگئے، 5روز گذرنے کے باوجود بااثر ملزمان آزاد دندناتے پھر تے رہے ، پولیس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملزمان شہر کے بدنام زمانہ گینگسٹرز ہیں، ملزمان نے قبل از وقت گرفتاری ضمانت کروالی ، کیس کی پیروی کرنے پر متاثرہ خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں، وقوعہ کی رات پولیس کا متاثرہ خاندان کی درخواست پر ایف آر درج کرنے سے گریز ،سٹی پولیس اسٹیشن کے تین تھانے اے، بی اور سی ڈویژن متاثرہ خاندان کو ایک دوسرے کے تھانوں میں بھیجتے رہے ،ابتداء میں اسپتال انتظامیہ کا بھی متاثرہ خاتون کے چیک اپ سے انکار ، متاثرہ خاندان نے میڈیکل چیک اپ کیلئے مجسٹریٹ کے آرڈرز جاری کروائے ، ڈی پی او رحیم یار خان عمر فاروق سلامت کا کہنا ہے کہ وہ کیس کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں ، غفلت میں ملوث پولیس افسران کیخلاف کارروائی کی جائیگی ، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی ۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ 12جولائی کو پیش آیا تھا، تاہم متاثرہ خاتون انصاف کیلئے ماری ماری پھر رہی ہیں اور اب تک صرف ان کی درخواست رجسٹرڈ ہوئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر شور شرابے کے بعد پولیس نے بالآخر 14جولائی کو ایف آئی آر رجسٹر کی گئی ۔ اس وقت بھی ایف آئی آر کیلئے ایک ڈی پی او رینک کے پولیس افسر کو ذاتی طور پر کیس میں مداخلت کرنا پڑی تھی ۔ عدالتی حکم کے باوجود اسپتال کی انتظامیہ نے پولیس کی غیر موجودگی میں متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کرنے سے انکار کیا ۔ متاثرہ خاتون نے اس حوالے سے میڈیکل سپریٹنڈنٹ سے بھی رابطہ کیا تاکہ ان کا میڈیکل ایگزامینیشن ہوسکے تاہم انہوں نے بھی انکار کردیا ۔ بالآخر ہفتے کی شام کو جب پولیس اسپتال پہنچے تو اسپتال کا وقت ختم ہوچکا تھا اور متاثرہ خاندان سے کہا گیا کہ وہ پیر کے روزیعنی واقعے کے تین دنوں بعد اسپتال آئے ۔دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ روزانہ چہل قدمی کیلئے قریبی پارک جایا کرتی تھیں اور ان کیساتھ کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ جمعے کی شام کو پیش آنے والا واقعہ میری زندگی کا سب سے بھیانک سانحہ تھا جس نے میری اور میرے خاندان کی زندگی تباہ کرکے رکھ دی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن جب میں پارک سے گھر کی جانب واپس آرہی تھی تو اس دوران ایک کار میرے قریب آئی اور اس میں سے تین افراد میری جانب بڑھے۔ انہوں نے مجھ پر پستول تانی اور مجھے زبردستی کار میں دھکیلا ۔ انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے شور مچایا تو وہ مجھے جان سے ماردیں گے ۔کار میں آگے کی سائیڈ پر دو مزید لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ یہ لوگ مجھے ایک ڈیرے پر لے گئے جہاں مزید چار افراد انتظار کررہے تھے ۔ان سب نے شراب پی رکھی تھی ۔ انہوں نے میرے کپڑے پھاڑے اور مجھے ایک ایک کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا۔ رابعہ کے شوہر سلیمان عباسی جو کہ ایک دکان دار ہیںنے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےبتایا کہ عام طور پر ان کی اہلیہ چہل قدمی کرنے کے بعد 5بجکر 45منٹ پر گھر واپس آجایا کرتی تھی ۔ تاہم جب ایک گھنٹہ زیادہ گذر گیا اور وہ واپس نہیں آئی تو وہ اپنی اہلیہ کا پتہ کرنے کیلئے اپنے رشتہ داروں کے گھر گئے کہ کہیں وہ وہاں تو نہیں چلی گئی ۔ اپنے رشتہ داروں سے نفی میں جواب ملنے کے بعد میں پریشان ہوگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ میری اہلیہ کا موبائل فون آن تھا تاہم وہ فون نہیں اٹھارہی تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ میں رات 8بجے سٹی پولیس اسٹیشن (سی ڈویژن ) گیا اورپولیس کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا کہ میری اہلیہ غائب ہے لیکن ان کا موبائل فون آن ہے اور فون نہیں اٹھارہی ہے ۔ میں نے پولیس سے التجا کی کہ وہ موبائل فون ٹریس کرکے میری اہلیہ کا پتہ لگائیں تاہم وہاں موجود پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ آپ تھوڑا انتظار کرلیں ہوسکتا ہے کہ آپ کی اہلیہ کسی رشتہ دار کے گھر گئی ہوں گی اور واپس آجائیں گی ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد میں گھر واپس آگیا کیوں کہ گھر میں تینوں بچے اکیلے تھے ۔ تاہم اس دوران میں مسلسل اپنی اہلیہ کے موبائل فون پر کال کرتا رہا ۔ میں ایک بار پھر اپنی اہلیہ کو تلاش کرنے کیلئے باہر گیا ۔رات کو تقریباً ڈھائی بجے کے قریب ملزمان میری اہلیہ کو ہمارے گھر کے باہر پھینک کر فرار ہوگئے ۔ میری اہلیہ تقریباً برہنہ تھیں کیوں کہ اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے تھے ۔میرے بچے بھی خوفزدہ ہوگئے تھے، جب میں نے اس بری صورتحال میں اپنی اہلیہ کو دیکھا میں اپنی اہلیہ کو لیکر تھانے چلا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم لوگ پولیس اسٹیشن کی جانب جارہے تھے تو اس دوران ایلیٹ فورس کی ایک موبائل وین نے ہمیں روکا ، میں نے انہیں پورا واقعہ بیان کیا ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website