counter easy hit

سب سے پہلے پاکستان

PPP

PPP

تحریر: شاہ بانو میر
الحمد للہ!! شکر ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی سوچ کے ساتھ سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا،اور دوسری سیاسی جماعتوں پر ثابت کیا کہ وہ واقعی سیاست کے رموز کو ذاتی کامیابی پر فوقیت دیتے ہیں٬ یوں ان کے جہاندیدہ دماغوں نے سڑکوں پر عوام لا کر احتجاج کرنے کو مسترد کر دیا اور پرسکون احتجاج کو پارلیمنٹ میں ایک بل کے ذریعے کرنے کا بہترین فیصلہ کیا جسے بھرپور عوامی پزیرائی ملی ہے

ایک بڑی سیاسی جماعت نے اس طرح ذہانت استعمال کرتے ہوئے ایک تیر سے دو شکار کئے ایک طرف تو اپنی گرتی ہوئی پوزیشن کو عوامی نگاہوں میں بحال کیا اور دوسری جانب مستقبل میں حکومت ہونے کی صورت اسی قسم کی صورتحال سے چھٹکارہ حاصل کر لیا ٬ بلاول کی ایک تیزی سے آگے بڑھنے والی پارٹی پر میٹھی تنقید ناکام دھرنے کا ذکر کر کے بتا دیا گیا کہ بلاول اور ان کے منجھے ہوئے سیاسی ساتھی ابھی تک اِس پارٹی کو اور اس کے رہنما کو خود سے سیاسی طور پے بہت پیچھے سمجھتے ہیں٬

میڈیا پر بلاول کو نامور تجزیہ کار پختہ سیاستدان کے طور پے زیر بحث لاتے رہے٬ خاندانی سیاست کے کئی برے اثرات یقینا ہیں مگر بلاول میں تحمل اور برداشت کا خاصہ بھی ہم دیکھتے ہیں۔

Politics

Politics

٬ لگتا ایسے ہے کہ حکومت وقت نے اس بڑی سیاسی جماعت کو ملک کی اندرونی مخدوش سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ شائد انہیں باور کروایا ہے کہ آج چند سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اتنا ہی ہمیں پریشان کریں جتنا کل آپ پریشان ہونا سہ سکیں ٬ پاکستان کی سیاست بے رحم اور سفاک ہے ہمیشہ حکومت مخالف قوتیں زور پکڑتی ہیں اور حکومت زیر عتاب آتی ہے ٬ اسی کو سوچ کر لگتا ہے اس بڑی سیاسی جماعت نے دھرنا اور سڑکوں پر احتجاج کو یکسر مسترد کر دیا ہے٬ یوں ایک سیٹ رکھنے والے پرجوش سیاسی بزرگ کا منصوبہ بہترین دماغوں نے الٹ کر رکھ دیا جیسے ترکی میں عوام نے فوجی قیادت کو الٹ دیا٬ اپوزیشن کو اور سڑکوں پر اس نازک صورتحال میں احتجاج کی بجائے اب پارلیمنٹ میں بزریعہ بل کیا جائے گا٬ وہاں بل نا منظور ہوا تو صوبائی اسمبلیوں میں تحریک پیش کی جائے گی۔

عوام کو سڑکوں پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر لی گئی مگر مہینوں سے قیمتی وقت کو ایک عنوان پر لگاتار صرف کر کے اس عوام کو کیا ملا؟ اتنی جماعتیں اور ہر ایک دوسری سے خائف کہ دوسری سیاسی جماعت کسی سیاسی حربے سے پیچھے دھکیل کر خود آگے نہ بڑھ جائۓ ٬ ذہنوں میں ایک دوسرے کیلئے بے اعتمادی جس کا مظاہرہ یہ ہے کہ اس بڑی سیاسی اپوزیشن نے کسی کو اپنا رہنما مقرر نہیں کیا جو سب کی نمائیندگی کرے٬ میڈیا کو بیان دینے پر بھی ایک دوسرے کے کاندھوں سے اچک اچک کر اپنے چہرے دکھا رہے ہوتے کہ ہم بھی ہیں٬ جس اہم ترین احتجاج کا کوئی ایک رہنما ہی نہ ہو اس تحریک کی ذہنی تشویش آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔

باشعور عوام نے آزاد کشمیر میں وہاں کے مسائل کی بجائے ہر جماعت کو سیاسی رونے روتے دیکھا٬ کشمیر لہو لہان تاریخی غنڈہ گردی کہ 50 افراد شہید اور بے شمار زخمی تاریخ ساز موقعہ کہ جب لوہا گرم ہے اور پاکستان کو بھرپور انداز میں کشمیر کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے٬ افسوس !! جس وقت عوام کی سیاستدانوں کی بیحد ضرورت ہے کشمیری عوام کو ٬پاکستانی سیاستدانوں نے رسمی کاروائی پوری کی بیان کی حد تک٬ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ہمیں اور ہمارے کشمیری بہن بھائی جو صرف اور صرف اللہ کے بعد ہم سے امید رکھتے ہیں٬ یہاں “” پانامہ “” کا ہنگامہ جاری رہا٬ عوام کشمیر کیلیۓ وہ غیور قیادت تلاش کرتے رہے جواس وقت ذاتی اندرونی سیاسی مسائل کو پس پشت ڈال کر کشمیر کیلیۓ”” امّت مسلمہ “” بن کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں اور بھارت کو دندان شکن جواب دیں۔

Pakistani Nation

Pakistani Nation

عوام اب سیاسی رموز سمجھ سکتے ہیں ان کے ذہنوں میں کل کے بیانات گونجتے ہیں جو یہی رہنما جو آج اکٹھے ہیں ایک دوسرے کو کن الفاظ سے القابات سے پکارتے تھے٬ یہی سیاستدان ایک دوسرے کو مورد الزام دے کر عوام کو نفرت پر مجبور کرتے تھے٬ آج صرف اقتدار کے حصول کیلیۓ آج اکٹھے ہیں عوامی مفاد ان کی نذر میں نہیں ہے٬ ان کی سیاسی کامیابی کیلیۓ عوام نےلاش میں تبدیل ہونے سے انکار کر دیا٬ ٬ اور ملک کی موجودہ ترقی کی رفتار پے بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا٬۔

شاباش پاکستانی عوام
یہی کامیابی ہے نظام کی اور با شعورپاکستانی عوام کی کہ اس عوام نے اس بے اثر جھاگ نما (احتجاج) کو اپنی عدم دلچسپی سے ختم کروادیا ٬ انہوں نے بتا دیا کہ وہ زندہ بھی ہیں اور باشعور بھی رہنماؤں سے محبت عقیدت اپنی جگہ پر مگر ملک سے محبت ان سب پر بھاری ہے٬ اس وقت کسی ایک رہنما کی سیاست نہیں اس ملک کی بقا کو بچانے کا سوال تھاِ ٬ جو عوام نے خاموشی اختیار کر کے بتا دیا کہ سب کچھ بعد میں ہر سیاسی رفاقت ہر سیاسی سوچ سب ایک طرف اور
پاکستان سب سے پہلے۔

Pakistan

Pakistan

انشاءاللہ اب پاکستان میں ترقی دکھائی دے گی ٬ اندرونی بے سکونی ترقی کا عمل بے اثر کر دیتی ہے ٬ اب قدرے سکون ہوا ہے تونتائج واضح ہوں گے ٬ اصل میں وطن عزیز میں سابقہ حکومتوں نے تباہی اتنے وسیع پیمانے پر کی تھی کہ اس کو ختم کرتے کرتے اور ترقی کے اثرات ظاہر ہوتے ہوتے وقت لگے گا ترقی کا سفر دشمنوں کو کھٹک رہا ہے بیرون ملک سرحدوں پر پاک فوج اور اندرون ملک میرے عوامی رضاکار حفاظت کریں تو انشاءاللہ ہم بہت جلد بہت کچھ نہیں تو کچھ نہ کچھ تو ضرور بہتری دیکھ سکیں گے پاکستان کے ہر عوامی شعبہ ہائے زندگی میں انشاءاللہ سب سے پہلے پاکستان۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر